فکر و نظر

کیا کشمیر کا خصوصی کردار خطرے میں ہے ؟

اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا دور کی بات ہے ،فی الحال جس تیز رفتار ی سے مودی سرکار اور اسکی ہم نوا ریاستی حکومت کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے حوالے سے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے اس کا توڑ کرنے میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی کے باضمیر افراد  اورحریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہئے۔

kashmir_pti

   دسمبر 2014 کے انتخابات کے بعد جب جموںکشمیر میں ایک معلق اسمبلی وجود میں آئی اور پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی  بیساکھی کے سہارے ایوانِ اقتدار میںپہنچی تو طے ہوا تھا کہ  بی جے پی ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 کے تحت کشمیر کو دیئے گئے خصوصی اختیارات کو موضوعِ بحث نہیں لائے گی۔ بظاہر یہ وعدہ ایفا تو ہوا مگر چور دروازے سے بی جے پی کی مربی تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ایک تھنک ٹینک نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی، جس میں دفعہ 370 کے بدلے دفعہ 35 اے کو نشانہ بنایا گیا اور عدالت نے یہ پٹیشن سماعت کے لئے منظور بھی کر لی ۔ اب حا ل ہی میں  ایک اسپیشل بینچ قائم کرکے اسکی سماعت  اگلے چند ہفتوں میں شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔  اسی دفعہ کے تحت جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کے نوکری حاصل کرنے، ووٹ دینے اور غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ اگر یہ دفعہ ختم کر دی گئی تو اس کے نتائج دفعہ 370 کے خاتمے سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ گوکہ اسی طرح کی شقیں دیگر علاقوں یعنی ناگالینڈ، میزورم، سکم، اروناچل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش اورگوا کو خاص اور منفرد حیثیت عطا کرتی ہیں اور وہاں بھی ملک کے  دیگر  شہریوںکو غیر منقولہ جائدادیں خریدنے پر پابندی عائد ہے یا اس کے لئے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر مسلم دُشمنی اور متعصب ذہنیت کے حامل افراد کو ہندوستانی آئین  کی یہ شقیں نظر نہیں آتیں ہیں۔ اور اس پر طرہ یہ کہ مرکزی  حکومت جو آئین کی محافظ اور نگراں ہے،  اس نے سپریم کورٹ میں آئین کی اس شق کا دفاع کرنے کے بجائے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر عدلیہ اس شق کو منسوخ کرتی ہے، تو مودی  حکومت دُنیا کو یہ باور کروائے گی ، کہ یہ آزاد عدلیہ کا معاملہ ہے اورحکومت کا اسکے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ مگر دہلی کے پاور گلیاروں میں سبھی جانتے ہیں، کہ دو سا ل تک اس پیٹیشن کو التوا میں رکھ کر حکومت جسٹس دیپک مشرا کے چیف جسٹس بننے کا انتظار کررہی تھی۔ خدشہ تھا، کہ اگر اس پیٹیشن کی سماعت اس سے قبل  ہوتی ، تو حال ہی میں ریٹائرڈ  چیف جسٹس، جسٹس ایم کے کیہر اور  اور ان کے پیش رَو  جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اسکو مسترد کرسکتے تھے۔

چند برس قبل دہلی کے کانسٹیچوشن کلب میں ایک مذاکر ےکے دوران وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ کشمیر کا واحد مسئلہ اسکا مسلم اکثریتی کردار ہے اور  آئین میں اسکی خصوصی پوزیشن نے اسکو اور بھی پیچیدہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کی ترقی میں بھی یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ بھارت کے دیگر علاقوں کے لوگ وہاں بس نہیں سکتے ،جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ دہائیوں تک کشمیر میں خدمات انجام دینے والے  انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) اور پولیس سروس سے وابستہ غیر ریاستی  افراد بھی ریٹائرمنٹ کے بعد باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ  ملازمت میں رہتے ہوئے بھی خطے کے معاملات سے بیگانے رہتے ہیں۔ بیوروکریٹک سروس اور فوج ہی دو ایسے ادارے ہیں، جو ہندوستان کو متحد رکھنے اور اسکے مختلف علاقوںکو ا یک لڑی میں پرو کر رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر جنوبی صوبہ کیرالا کے کسی  نوجوان کو سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعدجب پنجاب کا کیڈر دیا جاتا ہے، تو باقی زندگی وہ عملاً پنجابی ہی کہلائے گا۔ اکثر  اعلیٰ بیوروکریسی میں تعینات یہ نوجوان اپنے پیدائشی  صو بے کو پسِ پشت ڈال کر شادیاں اور رشتہ داریاں کیڈر والے صوبہ ہی میں کرتے ہیںاور پھر تیس سال سے زائد عرصہ سروس دینے کے بعد  اسی صو بے میں ریٹائرڈ زندگی گزارتے ہیں۔سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پرنسپل سیکرٹری ٹی کے اے نئیر( نائیر) اس کی ایک واضح مثال ہیں۔

گو کہ جیٹلی بی جے پی اور آر ایس ایس کے لبرل چہرہ مانے جاتے ہیں،  انہوںنے سوال کیا ، کہ آخر مسلمان جہاں بھی تھوڑی اکثریت میں ہوتے ہیں، وہ اپنی شناخت کیوں الگ رکھنا چاہتے ہیں؟ ان کا مطابق ان کی اوّلین شناخت ہندوستانی ہونا اور اسکے کلچر کو ترجیح دینا ہونا چاہئے۔ گو کہ میں ایک رپورٹر کی حیثیت سے اس مذاکرے میں سامع تھا،   لیکن میں نے جیٹلی صاحب کو یاد دِلایا کہ آئین کی جن شقوں سے ان کو پریشانی لاحق ہے، وہ ایک ہندو ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی دین ہیں۔جن کو بحال رکھنے کی گارنٹی دیکر 1947میں شیخ محمد عبداللہ کو شیشے میں اُتارا گیا تھا۔وادی ٔکشمیر میں پنڈت لیڈر شنکر لال کول اور جموں میں ڈوگرہ سبھا کی ایما پر 1927میں مہاراجہ نے یہ قانون نافذ کیا، جس کی رٗو سے اسکی اجازت کے بغیر کوئی بھی غیر ریاستی شخص ریاستی حکومت میں ملازمت کا حقدار ہوگا نہ ہی غیر منقولہ جائیداد رکھنے کا مجاز ہوگا۔ تاریخ کے اواراق پلٹتے ہوئے میں نے یہ بھی یاد دِلانے کی کوشش کی کہ جموں و کشمیر لبریش فرنٹ یا دیگر آزادی نواز تنظیموں کے منظرِ عام پر آنے سے بہت پہلے مئی 1947میں آر ایس ایس کی ایما پر ہندو مہا سبھا کی ورکنگ کمیٹی نے جموں میں بلائے گئے ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں پاس کی گئی قرار دار میں آزاد ریاست جموں کشمیر کی حمایت کی تھی۔ اس قرار داد کے  مطابق ایک ’’ہندو اسٹیٹ‘‘کو سیکولر بھارت کے ساتھ اپنی شناخت ضم نہیں کرنی چائیے۔ وہ مہاراجہ کو ہندو مفادات کا نگراں تصور کرتے تھے۔یہ پینترے بازی شاید اس وجہ سے ہورہی تھی،کہ  ریاست کے  پاکستان کے ساتھ الحاق کی صورت میں ہندو آبادی کے حقوق محفوظ کئے جائیں۔تاریخ کے موڑ نے جب کشمیر کو بھارت کی جھولی میں گرادِیا توشناخت اور حقوق کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں کی طرف پلٹ گیا۔

جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت نہ صرف فرقہ پرستوں بلکہ خود کو سیکولر کہلوانے والی سیاسی جماعتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی  ر ہی  ہے۔ فروری2015  کو جموں میںاپنی  رہائش گاہ پر  پی ڈی پی کے سرپرست اور سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید سے ایک انٹرویو کے دوران میں نے پوچھا تھا کہ کہیں بی جے پی کو اقتدار میںشریک کرواکے وہ کشمیریوں کے مصائب کی رات کو مزید تاریک کروانے کے مرتکب تو نہیں ہونگے؟تو انہوں نے کہا، کہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے حوالے سے ہندوستان  کی دونوں قومی جماعتوں کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک واقعہ سنایا، کہ  مارچ  1986میں جب وہ ریاستی کانگریس کے سربراہ تھے اور انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ کی حکومت سے حمایت واپس لی تھی، تو وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی خواہش تھی ، کہ اگلے دو سال تک  اب سرینگر میں کانگریس کو حکومت کا موقع ملنا چاہئے۔ حکومت سازی  پر بات چیت کیلئے انکو دہلی بلایا گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہوئی میٹنگ میں کانگریس کے قومی کارگزار صدر ارجن سنگھ بھی شامل تھے۔راجیو گاندھی نے ارجن سنگھ کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے پوچھا، کہ کانگریسی حکومت کے برسر ِاقتدار آنے کے بعد کیا ترجیحات ہونی چاہئے؟   ارجن سنگھ نے جواب دیا، کہ پورا ملک  جموں و کشمیر کے انڈین یونین میں مکمل انضمام کا خواہش مند ہے اور یہ عمل 1975کے بعد شیخ عبداللہ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد  رُک گیا تھا۔ ـ’’ اس عمل کو دوبارہ شروع کروانے  اور منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور یہ ہماری حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا‘‘۔

اسی دوران راجیوگاندھی نے اپنے پرائیوٹ سیکرٹری سے کہا، کہ گورنر ہاؤس اور مفتی سعید سے رابط رکھ کر انکی بطور کانگریسی وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب کا تعین اس طرح کریں، تاکہ وہ بھی جموں  جاکر تقریب میں شامل ہوسکیں۔مفتی نے مزید کہا، وہ اس بات چیت سے  انتہائی دلبرداشتہ ہوگئے، اور واپس جموں پہنچ کر بقول انکے  انہوں نے درپردہ خاموشی سے ایسی پیچیدگیاں پیداکیں، کہ کانگریس کی حکومت سازی کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ بعد میں ایک سال بعد راجیو ۔فاروق ایکارڈ کے نتیجے میں فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی۔ مفتی سعید نے اعتراف کیا، کہ 1953سے 1975تک کشمیر کی انفرادیت اور شناخت کو بر ی طرح مسخ کیا گیا اور  ایک طرح سے کشمیریوں کی عزت و آبرو کو تار تار کرکے برہنہ کیا گیا ہے۔ بھارت کے آئین کی دفعہ 370کی حالیہ شکل میں تو اب صرف زیرِ جامہ بچا  ہے۔ ان کا کہنا تھا، کہ مین اسٹریم یعنی ہندوستان نواز کشمیری پارٹیاں چاہئے نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی کا  فرض ہے ، کہ اس زیرِ جامہ کو بچا کر رکھے، جب تک مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کی کوئی سبیل پیدا ہو۔ مگر  یہ بات اب سرینگر میں زباں زدِ عام و خاص ہے کہ یہ وہ پی ڈی پی نہیں ، جس نے 2003ء اور 2005ء  کے درمیان دہلی کے روایتی کٹھ پتلی حکومت  کے بجائے ایک پُر اعتماد اور کشمیری عوام کے مفادات اور ترجیحات کے ترجمان کے طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔اس سے قبل  اقتدار کی شدید ہَوَس نے کشمیر کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی نیشنل کانفرنس کو بزدل بناکر رکھ دیا تھا۔ یہی حال اب کچھ پی ڈی پی کا بھی ہے، فی الحال بد قسمتی سے اس جماعت کا یہ محور بنا ہواہے کہ اقتدار کی نیلم پری سے بوس وکنا رکو کس طرح بر قرار رکھا جائے۔

دفعہ 35 اے دراصل ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 ہی کی ایک توسیع اور توضیح ہے۔ معروف قانون داں اے جی نورانی کے بقول آرٹیکل 370 گو کہ ایک عبوری انتظام تھا کیونکہ ہندوستانی حکومت کی 60 کی دہائی تک یہ پالیسی تھی کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے گا۔ 1948ء میں جموں و کشمیر پر ہندوستانی حکومت نے ایک وائٹ پیپر جاری کیا تھا‘ جس میں سردار پٹیل کا یہ بیان موجود ہے‘۔”الحاق کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہندوستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اسے بالکل عارضی مانتی ہے جب تک کہ اس بارے میں ریاست کے لوگوں سے ان کی رائے نہیں معلوم کی جائے گی‘‘۔نورانی کے بقول جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی نے‘ جن کا نام آرٹیکل 370 کی مخالفت کرتے وقت بی جے پی اچھالتی ہے‘ انہوں نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔ بی جے پی اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا نام بھی اس پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرتی ہے کہ انہوں نے اس مسئلے پر پنڈت جواہر لعل نہرو کی مخالفت کی تھی‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹیل نے بھی آئین کی اس دفعہ کی مکمل تائید کی تھی۔ نورانی کا کہنا ہے کہ کشمیر واحد ریاست تھی جس نے الحاق کے لئے اپنی شرائط پر حکومت سے مذاکرات کئے تھے۔ وہ ہندوستان میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس نے الحاق کیا تھا، اس لئے ان کے مطابق آرٹیکل 370 دونوں کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے‘ جس کی کسی شق کو کوئی بھی فریق یکطرفہ ترمیم نہیںکر سکتا۔ نورانی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ این گوپال سوامی نے 16اکتوبر 1949ء کو اس سلسلے میں پہلی’خلاف ورزی‘ اس وقت کی جب انہوں نے یکطرفہ طور پر مسودے میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کی لابی میں حتمی شکل دی تھی۔ جیسے ہی شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ کو اس تبدیلی کا علم ہوا وہ دونوں ایوان کی طرف دوڑے لیکن تب تک یہ ترمیمی بل پاس ہو چکا تھا۔ بقول ان کے یہ ایک افسوسناک اعتماد شکنی کا معاملہ تھا جس نے بداعتمادی کو جنم دیا۔ اگر اصل مسودہ پاس کیا جاتا تو 1953ء میں شیخ عبداللہ کو اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہ تھا۔1951ء میںکشمیر اسمبلی کے لئے جو انتخابات منعقد کئے گئے، ان سے ہندوستان کے جمہوری دعووں کی کشمیر میں قلعی اسی وقت کھل گئی تھی۔

انتخابی دھاندلیوںکے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے گئے۔ تمام امیدوار ‘بلامقابلہ‘ ‘منتخب‘ قرار پائے۔ یہ وہی اسمبلی تھی جس نے ریاست کا دستور وضع کیا اور الحاق کے دستاویز کی توثیق کی تھی۔ اس اسمبلی کے جواز پر سوال کھڑا کیا جا سکتا ہے کیونکہ پانچ فیصد سے بھی کم لوگوں نے اس کی تشکیل میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ یہ اسمبلی ریاست کی مستقبل  اور اس کی حیثیت طے کرنے کے سلسلے میں دستور ساز اسمبلی کا درجہ رکھتی تھی۔ کشمیر کی اس آئین ساز اسمبلی کی حقیقت اور حیثیت کی قلعی خود اس وقت کے انٹیلی جنس سربراہ بی این ملک نے کھول دی۔ ان کے بقول ”ان امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا‘ جو حزب مخالف کا کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتے تھے‘‘۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ الحاق کی دستاویز کی توثیق اور کشمیر کے آئین کی منظوری کو کوئی عوامی تائید حاصل نہیں تھی۔ بہرحال پچھلے 69 برسوں میں بھارتی حکومتوں نے آرٹیکل 370 کو اس بری طرح سے مسخ کر دیا کہ اس کا اصلی چہرہ اب نظر ہی نہیں آتا۔ کئی مواقع پر خود کشمیری لیڈروں نے اپنی عزت نفس کا خیال نہ کرتے ہوئے ان آئینی خلاف ورزیوں کے لئے راہ ہموار کی۔ اگر ایک طرح سے کہا جائے کہ آئین کی اس شق نے کشمیریوں کو سیاسی گرداب سے بچنے کے لئے جوکپڑے فراہم کئے تھے، وہ سب اُتر چکے ہیں اور اب صرف دفعہ 35 اے کی صورت میں ایک نیکر بچی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ ف

رقہ پرست عناصر اب اسی نیکر کو اتارنے، کشمیریو ں کی عزت نیلام کرنے اور ان کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے لئے ایک گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، جس کے لئے عدالتی نظام کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ عدالت میں یہ معاملہ لے جا کر آر ایس ایس نے جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کی تبدیلی کی خاطر اپنے مکروہ عزائم واضح کر دِیئے ہیں۔ کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوزؔکا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کرنا ہی ان کے لئے باعث حیرت ہے۔اٹانومی اور سیلف رول کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا دور کی بات ہے ،فی الحال جس تیز رفتار ی سے مودی سرکار اور اسکی ہم نوا ریاستی حکومت کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے حوالے سے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے اس کا توڑ کرنے میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی کے باضمیر افراد  اورحریت پسند جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہئے۔

( مضمون نگار سینئر صحافی ہیں۔)

Categories: فکر و نظر

Tagged as: , , , , , ,