خبریں

طلاق بدعت : نیا قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے: روی شنکرپرساد

ئی دہلی: قانون و انصاف کے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئینی اقدار کی فتح قرار دیا ہے، لیکن نیا قانون بنانے کی کسی بھی ضرورت سے انکار کیا ہے مسٹر پرساد نے آج یہاں صحافیوں کو بتایا کہ خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات سے نمٹنے کے لئے مناسب قانون موجود ہے اور الگ سے کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسٹر پرساد کا یہ رد عمل اس وقت آیا جب صحافی نے ان سے پوچھا کہ آیا چیف جسٹس جے ایس کیہر کے مشورے پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت ایک نیا قانون بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے پر مثبت اور منظم طریقے سے غور کرے گی۔ بادی النظر میں فیصلے کو پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ پانچ رکنی آئینی بنچ نے اکثریت کے فیصلے کی بنیاد پر تین طلاق کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور اقلیت کے فیصلے پر عمل کرنے کے لئے حکومت پابند نہیں ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا، “یہ ہماری آئینی اقدار کی فتح ہے۔ میں اس بارے میں وزیر اعظم کی پہلے کہی گئی اس بات کو دوہرانا چاہونگا کہ اس مسئلہ کو کسی مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ “

واضح رہے کہ عدالت عظمی نے ایک تاریخی فیصلے میں مسلمانوں میں ایک ساتھ تین طلاق کی روایت کو منسوخ کر دیا ہے۔

  • Irshad Wali

    کاش کہ دی وائر یہ لائنیں نا لکھتا ’’عدالت عظمی نے ایک تاریخی فیصلے میں مسلمانوں میں ایک ساتھ تین طلاق کی روایت کو منسوخ کر دیا ہے ‘‘کیون کہ یہ کو ئی پہلا فیصلہ نہیں ہے اور دی وائر اگر یہ لائنیں لکھے گا تو پھر دوسروں سے فرق کیسے ہوگا ۔یہ راگ تو سب آلاپ رہیے ہیں