حقوق انسانی

ہندوستانی مسلمانوں میں احساسِ عدم تحفظ

                حال ہی میں جب ہندوستان کے سابق نائب صدر محمد حامد انصاری نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں محفوظ نہیں ہیں تو انہیں  بی جے پی کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔گویا بقول اُن کے مسلمان ہندوستان میں”بہت محفوظ“ہیں۔ اس بات کا غالب امکان تھا کہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے عہدے پر فائز رہنے کے بعداس طرح کے ’گستاخانہ‘ بیان پرانصار ی کے خلاف’ اظہار رائےکی آزادی ‘ کا بے جا استعمال کرنے کے جرم میں ملک سے غداری کے الزامات لگ سکتے تھے۔

                انصاری ایک  سفیر رہے ہیں، جنہوں نے کئی ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے اور پوری ایک دہائی تک نائب صدر کا عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل کرن تھاپر کے ساتھ ایک انٹرویو میں جو کچھ کہا، اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی، جو قابل اعتراض ہو۔تھاپر نے ان سے پوچھا کہ ملک کے مسلمانوں کے کیا حال احوال ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا”ہاں، یہ ایک صحیح تشخیص ہے،میں ملک بھر کے مختلف حلقوں سے اکثر سنتا رہتا ہوں ۔ میں نے بنگلورو میں بھی سنا ، ملک کے دیگر حصوں سے بھی سنا جبکہ شمالی ہندوستان کے بارے میں بھی اس طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ مسلمانوں کو سخت بے روزگاری کا سامنا ہے اور ان میں عدم تحفظ کا شدید احساس پایا جاتا ہے“ لیکن راجیہ سبھا ٹی وی کے انٹرویو میں وہ اس حوالے سے اور بھی واضح تھے، ان کا کہنا تھا” مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پہریداری اور بے چینی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے“

                اس کے جواب میں نہ صرف یہ کہ ان کے جانشین وینکیاہ نائیڈو نے اسے ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ان کے اس بیان سے ناخوش تھے ،جب انہوں نے کانگریس کے ساتھ انصاری کے خاندان کے رابطوں اور کانگریس حکومت میں ان کے مشرق وسطیٰ کے سفارت خانے میں سفیر کے طور پر تعیناتی کے بارے میں کہا ۔ظاہر ہے باقی لوگوں نے بھی اس حوالے سے ان کی پیروی کی ۔ اس کے جواب میں بی جے پی نے جو کچھ کیا ، وہ نہ صرف ان کو صحیح ثابت کرنے میں معاون ثابت ہوا بلکہ وہ خود بھی ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرانے کا ایک موقع گنوا بیٹھی ۔حامد انصاری ایک ایسے شخص ہیں، جو مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں لہذا ان کی بات کومحض ایک سیاسی بیان کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے تھا۔ اس تنقید کی وجہ سے، دو دن بعدر اجیہ سبھا میں ، جس کی انہوں نے دس سال تک قیادت کی ، ان کا آخری دن دن تھا، انہوں نے کہا ”جمہوریت اس وقت انتہا پسندی میں بدل جاتی ہے، جب اس میں حزب مخالف کو منصفانہ اور واضح طور پر حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی“

                نہ صرف یہ کہ کانگریس کے دورِ حکومت کے دوران ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت قدرے بہتر رہی اور 1947ءمیں آزادی کے بعد کے اکثر برسوں میں بھی ایسا ہی ہوا البتہ بھارتیہ  جنتا پارٹی کے پچھلے تین برسوں کے دو اقتدار کے دوران اس جماعت نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں ، جن سے یہاں کی اقلیتیں پس دیوار ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس دوران ہندو شدت پسندوں کے ذریعے مسلمانوں کے قتل اور نام نہاد گو رکھشکوں کی سرگرمیوں میں نمایاں طور پراضافہ ہوا ہے۔ یہ محض ایک خیال ہی نہیں بلکہ ان کاروائیوں کو مرکزی حکومت اور بعض ریاستوں میں بھارتیہ  جنتا پارٹی کی حکومتوں کی جانب سے بھی کافی حواصلہ افزائی ملی ہے ، جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ شاید ہی بی جے پی یک ایسے ہندوستان کے حق میں ہے، جس میں سبھی طبقوں کو یکساں حصہ داری حاصل ہو۔

                بھارتیہ جنتا پارٹی محض چند ایک چہروں کو بطور اشتہا ر پارٹی میں شامل کرکے یہ بات واضح کردی ہے کہ وہاں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ پوری جماعت میں صرف دو ایک مسلم چہرے موجود ہیں، جن میں سے ایک کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے اس جماعت میں اپنی بنیاد کے نیچے بابری مسجد کی تباہی سے حاصل شدہ ایک اینٹ رکھی ہوئی ہے اور وہ ابھی تک اسی پر سیاست کر رہے ہیں جبکہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش، جس میں مسلم آبادی کا تناسب 15فیصد ہے، میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کو نہیں اُتارا گیا جبکہ بعد میں ایک غیر معروف سے چہرے کو بطور وزیر اس میں شامل کیا گیا۔

                بی جے پی کی جھنجلاہٹ کے پیچھے، انصاری کا وہ بیان ہے ، جس میں انہوں نے اعداد و شمار کی بنیاد پر انکشاف کیا تھا کہ خاص طور پر گائے کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔ حالانکہ یہ سب یوپی اے کے دور میں بھی ہوتا رہا لیکن 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے اس حوالے سے ایک نئی اور شدید صورتحال کو جنم دیا ہے. ایک غیر سرکاری تنظیم India sepend کی طرف سے کئے جانے والے اعداد و شمار سے متعلق ایک حالیہ تجزیے کے مطابق مویشیوں کے تعلق سے پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں مسلمان 51 فیصد تشدد کے ہدف تھے ،جو 2010 سے 2017 تک کے آٹھ برسوں میں پیش آئے اور 63 سے زائد واقعات میں 86 فیصد مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔ مودی کی حکمرانی کے تین برسوں میں مسلمانوں کے خلاف ’ہجومی ہلاکتوں‘اور تشدد کے 52 واقعات پیش آئے اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا، جن میں سے 2کیس اہم اور واضح تھے، ان میں اخلاق احمد دادری (یو پی) اور پاؤلو خان(راجستھان) شامل ہیں۔ کل تشدد آمیز واقعات(63 )میں سے تقریبا(32) نصف گائے سے متعلق تھے اور ان واقعات کا تعلق ان ریاستوں سے تھا، جن میں بی جے پی کی حکمرانی ہے ۔ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب ان حملوں سے متعلق تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ ان میں سے نصف سے زیادہ حملے افواہوں کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔

                اس انتہائی شدید اقدام سے نہ صرف یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک واضح پیغام ملا بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت آتے ہی یوپی میں مذبح خانوں کو بند کرنے جیسے اقدامات کے سامنے آ نے سے یہ بات اوربھی واضح ہوگئی کہ وہ مسلمانوں کی معیشت کو کس طرح تباہ کر رہے ہیں کیونکہ ان مذبح خانوں میں سے زیادہ تر ان کی ہی ملکیت تھے۔ آسام کے ہزاروں ، ہزاروں مسلمانوں کو جنگلات کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر اُن کے گھروں سے نکال دیا گیا لیکن کسی میڈیا نے اس کا نوٹس نہیں لیا ۔ مسلم نوجوانوں کے ساتھ ’ لوجہادِ‘ کے نام پر بھی بہت سے واقعات منسوب ہیں۔

                اس حقیقت کو مسترد نہیں کیا جا سکتاکہ ہندوستانی مسلمانوں میں غربت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ، جس کی سب سے بڑی وجہ ان میں ایک غیرمعمولی سماجی حیثیت والی قیادت کی کمی ہے ۔ راجندر سچر کمیٹی نے اپنی 2006 ءکی رپورٹ میں مسلمانوں کی حالت زار کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے ،جس میں ان کے اپنے رہنماءبھی شامل رہے ہیں۔ اقلیتی امور کی وزارت کے تحت سرگرم مولانا آزاد تعلیم فاؤنڈیشن (MAEF) کی جانب سے تیار کردہ ایک حالیہ رپورٹ تعلیم کے شعبے میں مسلمانوں کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں میں تعلیم کی شرح 68.53 فیصد تھی جبکہ قومی اوسط 72.98 فی صد تھی جبکہ ملک کے 20 سال کی عمر کو پہنچنے واے نوجوان،جنہوں نے کوئی ڈگری یا ڈپلوما حاصل کیا،کی اوسط 7 فی صدتھی، اس میں مسلمانوں کی اوسط محض چار فیصد تھی۔ کمیٹی نے کہا کہ مسلمان تعلیمی طور پر سب سے زیادہ پسماندہ طبقہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ تعلیمی اداروں کی کمی کے ساتھ ساتھ مالی پس منظر بھی تھا۔ سچر کمیٹی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی ابتر حالت کوبہتر بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہیں لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ بی جے پی نے اس رپورٹ کو ’مسلمانوں کی خوشنودی‘ قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا۔

                حالانکہ بی جے پی حکومت اس شعبے میں کچھ قدم اُٹھا رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ صرف مسلمانوں میں مایوسی کا احساس بڑ ھ رہا ہے بلکہ دلتوں اور عیسائیوں میں بھی اسی طرح کے عدم تحفط کا احساس بڑھ رہا ہے، جس سے ہندوستان کے سیکولر کردار کو سخت چیلنج کا سامناہے۔ بی جے پی حکومت مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو دور کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے اور یہی وہ بات ہے، جو حامد انصاری کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ رواں ہفتے کی ابتدا میں ہندوستان نے آزادی کا 70 واں جشن منایا لیکن ہندوستانی حکومتیں ان سات دہائیوں میں مسلمانوں کویہ یقین دلانے میں ناکام رہے ہیں  کہ وہ بھی اس ملک کا حصہ تھے، جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ لیا، جب لاکھوں مسلمان پاکستان منتقل ہوگئے لیکن آج کے مناظر ایک بار پھر سے یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ آیا ہندوستان میں دائیں بازو کی قوتوں نے دو قومی نظریے کوصحیح ثابت کر دیا ہے؟

(  مضمون نگارانگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔)

  • Shahnawaz

    یہ ایک اچھا آرٹیکل تھا. تاہم، پورے توجہ یہ تھا کہ موجودہ اقلیتی اقلیتوں کے تحت اقلیتیں غیر محفوظ کیوں ہیں. لیکن مضمون اس سے نمٹنے کے بارے میں مزید توجہ دینا چاہئے.