فکر و نظر

اتحاد کا مظاہرہ یا تیجسوی کے نام پرگمشدہ زمین کی تلاش کی قواعد ؟

راشڑیہ جنتا دل کی بھاجپا بھگاؤ دیش بچا ؤریلی کامیاب رہی، اس طرح کا قیاس لگا یا جا رہا تھا کہ صوبے میں آئے شدید سیلاب کی وجہ سے لوگ نہیں آئیں گے۔ لیکن ریکاڑد توڑ بھیڑ نےیہ دکھا دیا کہ لالو یادو کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے وہیں تیجسوی کا جادو بھی چلنے لگا ہے۔

RJD-Rally-2_PTI

پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں راشٹریہ جنتا دل کی  ریلی کئی معنوں میں الگ تھی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھاجپا بھگا وُ دیش بچا ؤکے نام پر حزب اختلاف کے اتحاد کا مظاہرہ کیا جانا تھا۔لیکن اس ریلی میں راجد سپریمو لالو یادو نے سیاسی حکمت عملی کے تحت راجد کی سیا سی باگ ڈور اپنے چھوٹے بیٹے تیجسوی کے ہاتھوں میں دے دی ۔اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ مدھوبنی سے آئے را ما شنکر سہنی کا کہنا تھا کہ اس بار وہ لالو جی کے لیے نہیں تیجسوی کے لیے آئے ہیں –تیجسوی پچھلے کچھ دنوں سے اپنے سیاسی ہاؤ بھاؤکی وجہ سے سرخیوں میں ہیں ۔

صبح سات بجے سےہی گاندھی میدان میں لوگوں کا آنا شروع ہو گیا تھادوپہر تک لوگوں کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا رہا لوگوں کے جوش کے ساتھ لالو اور تیجسوی کے چہرے پر بھی چمک بڑھنے لگی تھی ۔اس ریلی میں بہار کی حالیہ سیاست کو بھی نشانہ بنا یا گیا ۔پہلی صف میں بیٹھے شرد یادو کے بارے میں رگھوونش پرساد نے کہا کہ جےڈی یو کے اصل مالک شرد یادو ہی ہیں جبکہ شرد یادو کو اس بات کا ملال ہے کہ آج ان کا سایہ ہی ان کو دغا دے رہا ہے۔شرد یادو کے چہرے پر کرب کی لکیریں صاف طور پر جھلک رہی تھیں انہوں نے کہا کہ وہ آخری سانس تک غریب مزدور اور پچھڑوں کے لیے جد و جہد کرتے رہیں گے۔

سترہ پارٹیوں کے نمائندوں اور سربراہان  کی اسٹیج پر  موجودگی کیا کو ئی مضبوط محا ذ  بنانے میں کامیاب ہوگی یا اس کا شیرازہ  پارلیمانی انتخاب سے پہلے ہی بکھر جائے گا، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کیونکہ اس سے پہلے مہاگٹھ بندھن میں نتیش کمار بھی ساتھ تھے ۔حالاں کہ بہار کی حالیہ سیاست کے بعدنتیش کی مقبولیت میں کمی آئی ہے ۔خاص طور سے علی انور اور شرد یادو کی بغاوت نے نتیش کے ووٹ بینک کو کمزور کیا ہے ۔

اتوار  کی ریلی میں لالو یادو نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ساتھ ایک مٹھی مٹی لے کر آئیں ۔ نتیش کمارنے کہا تھا کی وہ مٹی میں مل جائیں گے لیکن بھاجپا کے ساتھ نہیں جائیں گے۔لالو یادو نے اس موقع پر کہاکہ ہم تو جانتے تھے نتیش ٹھیک آدمی نہیں ہے،لیکن اس وقت وہ خود ہمار ےیہاں آیا اور پھر ملایم سنگھ کے کہنے پر ہم اس کے ساتھ گئے۔

بُچکُن دیوی جھنجھار پور سے تین سو کیلومیٹر کا سفر طےکر کے ریلی میں بس تیجسوی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیےُ آئی تھی’ھمر بوا کے اتار دیلک اور اپنے گدی پر بیٹھ گیلک نیتیش کمار’۔بھیڑسے جب جب تیجسوی یادو زندہ باد کا نعرہ بلند ہوتا تھا بغل میں بیٹھے شرد یادو تیجسوی کی پیٹھ پر تھپکی دے کر  حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے۔ایک موقع ایسا بھی آیا جب شیبو سورین کے بیٹے ہیمنت سورین،چودھری چرن سنگھ کے پوتے جینت سنگھ اور اکھلیش یادو کے ساتھ تیجسوی اور تیج پرتاپ نے کھڑے ہو کراتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔اس وقت رابڑی دیوی کی آنکھوں میں وہ غصہ صاف جھلک رہا تھا جس کےلیےبُچکُن دیوی لمبا سفر طےکر کے آئی تھی۔سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے  وزیر آعظم نریندرمودی اور نیتش کمار کو جی بھر کر کوسا ،مجمع کو خطاب کرتے ہوےُ  رابڑی دیوی جب یہ کہہ رہی تھیں کہ نوجوانوں آپ کے ساتھ دھوکا ہوا ہے اور اس کا بدلہ نتیش کمارسے لینا ہے اس وقت در اصل رابڑی دیوی کی ممتا بول رہی تھی، شاید اسی لیے آج رابڑی دیوی بہت اچھے سے بول پائیں۔

راشڑیہ جنتا دل کی بھاجپا بھگاؤ دیش بچا ؤریلی کامیاب رہی، اس طرح کا قیاس لگا یا جا رہا تھا کہ صوبے میں آئے شدید سیلاب کی وجہ سے لوگ نہیں آئیں گے۔ لیکن ریکاڑد توڑ بھیڑ نےیہ دکھا دیا کہ لالو یادو کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے وہیں تیجسوی کا جادو بھی چلنے لگا ہے۔ملک کے کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق تیجسوی یادو کے پاس اس وقت نتیش کمار پر تنقید کے علاوہ کوئی ٹھوس ویژن نہیں ہے ایسے میں یہ بہت دور تک نہیں جا پائیں گے۔لالو یادو جن لوگوں کے ساتھ مل کر بھاجپا سے لڑنا چاہتے ہیں اور جس سماجی انصاف کی بات کرتے ہیں وہاں آج بھی وہی بھیڑکھڑی ہے جو کل تھی۔27 اگست کی ریلی میں لالو یادو  نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کی حکومت آئے گی تو ساتویں پاس کو سپاہی میں بحال کریں گے۔

 کیا اسی بھیڑ کو اب تیجسوی کی شکل میں اپنا لیڈر مل گیا ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل کے شیوانند تیواری نے بتایا کہ  تیجسوی کو لیڈر نیتش کمار نے بنایا ہے اور آج کے نوجوانوں میں تیجسوی کا کریز ہےنتیش کمار کے پاس کوئی کاسٹ بیس نہیں ہے ان کا مہا دلت بالکل فراڈ ہے جبکہ تیجسوی کے پاس لالو جی کا سماجی بیس خود بخود آ گیا ہے۔دوسری طرف جنتا دل یو کے ترجمان نیرج کمار سے اس ریلی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ لالو پرساد کی بھاجپا بھگاؤ دیش بچاؤ ریلی سیاسی طور پر فلاپ ہی نہیں رہی بلکہ لالو یادو نے اسٹیج پر موجود کانگرس کے سینیُر لیڈر اور شرد یادو جیسے بڑے لوگوں کی بے عزتی بھی کی ، اپنے بیٹے تیج پرتاپ کو ان بڑے لیڈڑوں کے بعد   بولنے کا موقع دیالالو یادو نے اس ریلی کو فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیاسی پارٹیوں کے اتحا د کے طور پر دکھانے کی کوشش کی لیکن اسٹیج پر اسی فرقے کی نمائندگی کم دیکھنے کو ملی جو فرقہ پرست طاقتوں کے نشانے پر سب سے زیادہ ہے۔پارٹی کو کبھی ختم ہونے سے بچانے میں اہم کردار نبھانے والے عبدالباری صدیقی تو اسٹیج پر دوسری صف میں دکھائی بھی دے رہے تھے لیکن سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی بڑے لیڈروں کی آمد کے بعد کہاں غائب ہو گئے پتہ بھی نہیں چلا۔

میدان میں سماجوادی پارٹی کے جھنڈے کے ساتھ ان کے کارکنان کی موجودگی اور اسٹیج پر پہلی صف میں بیٹھے اکھلیش یادو نے کہا کہ جب رتھ بہار میں رک سکتا  ہے تو بھاجپا کیوں نہیں۔سونیا گاندھی کا آڈیو بھاشن سنایا گیا اور راہل گاندھی کے پیغام کو بہار کانگریس کے صدر اشوک چودھری نے پڑھ کر سنایا۔اسٹیٹ کانگریس کا کوئی اہم رول نہ اسٹیج پر دکھائی دیا اور نہ ہی میدان میں کانگریس کا کوئی  بینر اور پرچم نظر آیا۔ممتا بنرجی نے بھاجپا بھگاؤ دیش بچاؤ ریلی کی حمایت میں ملک گیر پیمانے پر اس  محاذ کو لے جانے کی بات کرتے ہوئے  اردو کے کئی اشعار سنائے لیکن کہیں بھی اردو میں کوئی  بینر اور سلوگن نہیں دکھائی  دیا جبکہ بہار میں کچھ لوگ لالو یادو کی یوم پیدایُش پر اردو ڈے مناتے ہیں۔

سنیئر صحافی  سرور احمدکاماننا ہے  کہ لالو یادو نے اتوار کی ریلی سے یہ ثابت کر دیا کہ ماس میں ابھی بھی ان کی  گرفت مضبوط ہے ۔سب سے زیادہ بھیڑ غریب ریلی میں ہوئی تھی جو لالو یادو پر چارہ گھوٹالہ کے الزام لگنے کے بعد ہوئی تھی،اسی طرح اتوار کی بھاجپا بھگاؤدیش بچاؤریلی بھی لالو اور ان کے خاندان پر لگ رہے چارج کے بعد ہوئی۔ اس میں آنے والی بھیڑ میں بھی وہی غصہ اور ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ لالو کے حامیوں کا یہ غصہ کب تک برقرار رہتا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔