خبریں

قومی اسکول معا ملہ :دہلی اقلیتی کمیشن کا کیجریوال کو خط

 یاد رہے کہ پرانی دہلی کے قدیم ’’قومی اسکول‘‘ کو ایمرجنسی کے دوران30جون1976میں یہ کہہ کر ڈھادیا گیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر اس کے لئے مناسب زمین فراہم کی جائے گی۔

نئی دہلی : دہلی کے ’’قومی اسکول‘‘ کے بارے میں دہلی اقلیتی کمیشن نے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے اس مظلوم اسکول کو جلد از جلد مناسب زمین اور فنڈ فراہم کیا جائے تاکہ اسکول کی دوبارہ تعمیر ہوسکے۔ یاد رہے کہ پرانی دہلی کے قدیم ’’قومی اسکول‘‘ کو ایمرجنسی کے دوران30جون1976میں یہ کہہ کر ڈھادیا گیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر اس کے لئے مناسب زمین فراہم کی جائے گی۔ لیکن حکومت وقت نے اور بعد کی حکومتوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا اور اب بھی وہ اسکول عارضی طور سے عید گاہ دہلی کے اندر خیموں میں چل رہا ہے۔ پچھلے دنوں یہ معاملہ ہائی کورٹ میں بھی پہنچ گیا ہے جہاں سرکاری وکیل نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ اسکول کے بچوں کو علاقے کے دوسرے اسکولوں میں داخلہ کرادیا جائے۔

صدر اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے وزیر اعلیٰ دہلی کیجروال کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ دہلی سرکار ہائی کورٹ کی اگلی تاریخ سے پہلے قومی اسکول کو زمین اور فنڈ فراہم کرے تاکہ اس کی دوبارہ تعمیر ہوسکے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ پچھلے سال ایک خصوصی ملاقات میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ بہت جلد قومی اسکول کا دیرینہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔یاد رہے کہ فریقین اس سلسلے میں ہائی کورٹ کی اگلی میٹنگ مورخہ5 دسمبر2017 میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

اقلیتی کمیشن نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے اس مسئلے کو حل کرلیا جائے اور عدالت کو مذکورہ تاریخ میں یہ بتا دیا جائے۔ صدر اقلیتی کمیشن نے اپنے خط میں کہا کہ سرکاری وکیل کا یہ مشورہ کہ بچوں کو قریب کے دوسرے اسکول میں ڈال دیا جائے نانصافی پر مبنی ہے اور اسکول کے سلسلے میں سالہا سال سے مختلف حکومتوں کے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں چونکہ قومی اسکول اردو میڈیم ہے، اس لئے خدشہ ہے کہ دوسرے اسکولوں میں قومی اسکول کے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا۔صدر اقلیتی کمیشن نے وزیر اعلیٰ کو اپنے خط میں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں مثبت فیصلہ دہلی سرکار کے پروگرام اور نیتوں کے بارے میں عوام میں اچھا پیغام دے گا۔