خبریں

راجستھان : احمد خان قتل معا ملہ ،200 مسلمانوں نے چھوڑا گاؤں

ہم اس گاؤں میں کیسے لوٹ سکتے ہیں، ہم ڈرے ہوئے ہیں ،ہم کارروائی چاہتے ہیں ۔ہمارا ساز دم توڑ گیا ۔میرے بھائی کے چار بچے یتیم ہوگئے ،ان کی پرورش کون کرے گا۔

rajasthan-muslim-folk-singer

Photo Credit: NDTV

نئی دہلی :راجستھان کے دانٹل گاؤں میں دو ہفتے پہلےلوک گیت اور بھجن  گانے والے گلو کار کے قتل کے بعد 200مسلمان اپنے گاؤں سے ہجرت کر چکے ہیں ۔قتل کا الزام ہندو سنت اور اس دو بھائیوں پر ہے۔پولیس کے بیان کے مطابق مسلمان  جیسلمیر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔جہاں ان کی حفاظت کے لیے پولیس بھی تعنیات ہے۔

 یہ تنازعہ اس وقت شروع ہواتھا جب ایک پنڈت نے لوک گلوکار احمد خان پرالزام عائد کیا تھا کہ اس ہندو دیوی کی شان میں بھجن گاتے ہوئے  میں غلطیاں کی تھیں۔ معاملہ پاکستان کی سرحد کے پاس واقع ڈانٹال گاؤں میں 27 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب ایک مقامی سنت نے فن کار احمد خان پر یہ الزام لگایا کہ وہ ہندو دیوی کی حمد وثنا میں بھجن گاتے ہوئے غلطیاں کر رہا ہے جس کی وجہ سے دیوی ناراض ہوگئی ہے ۔

واضح ہوکہ پینتالیس سالہ احمد خان کا تعلق راجستھان کے لانگا منگنیار قبیلے سے تھا۔ یہ قبیلہ نسل در نسل ہندوؤں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر مندروں میں بھجن گانے کا کام  کرتا آیا ہے۔خبروں کے مطابق پنڈت رمیش سُتھر اور اس کے دوستوں نے احمدخان  کے ساز وسامان توڑ دیے تھے اوربعد میں اس کو قتل تھا۔

غورطلب ہے کہ احمد خان پسماندہ کمیونٹی سےتعلق رکھتے تھے ۔نوراتری جاگرن کے دوران سنت رمیش ستھر نے الزام لگایا نے اس کو قتل کردیا ۔پولیس نے بتایا کہ سنت اور اس کے دو بھائیوں پر خان کے قتل کا الزام ہے ۔ستھر کو پولیس نے گرفتار کر لیاہے لیکن اس کے بھائی ابھی فرار ہیں۔اس واقعے کے بعد 20مسلم خاندانوں نے اپنا گاؤں چھوڑ دیا ہے اور گاؤں لوٹنے سے انکار کر دیا ہے۔ضلع کلکٹر کے سی مینا نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں کمیونٹی آپس میں بات چیت کرے اور اس مسئلے کا حل نکالے۔

نوراتری میں دیوی پوجا کے دوران فن کار احمد خان نے جان بوجھ کر وہ راگ نہیں نکالے جس کی وجہ سے دیوی وہاں آتی ۔اس طرح کا الزام لگاتے ہوئے احمد خان کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر بے رحمی سے مار ڈالا گیا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔اس معاملے کے بعد ڈرے سہمے مانگنیار برادری کے لوگ جیسلمیر میں پناہ لے رہے ہیں۔ گائوں میں سناٹا پسرا ہے۔

بی بی سی ہندی کی ایک رپوٹ کے مطابق 27ستمبر کو نو راتری جاگرن میں بھوپے رمیش نے احمد خان کو خاص راگ چھیڑنے کو کہا احمد نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا مگر بھوپے نے اس کو منظور نہیں کیا۔اس کے بعد بھوپے کو لگا کہ اسی وجہ سے دیوی وہاں نہیں آرہی ۔

 پولیس کے مطابق پہلے احمد خان کا اغوا کیا گیا پھر اس کو پیٹا گیا جس کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی ۔پولیس کے مطابق  پہلے احمد خان کے گھر والوں نے اس کو قدرتی  موت کہا تھا، لیکن بعد میں ان کی رپورٹ پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔احمد خان کے بھائی سوجے خان کا کہنا ہے کہ ہم اس گاؤں میں کیسے لوٹ سکتے ہیں، ہم ڈرے ہوئے ہیں ،ہم کارروائی چاہتے ہیں ۔ہمارا ساز دم توڑ گیا ۔میرے بھائی کے چار بچے یتیم ہوگئے ،ان کی پرورش کون کرے گا۔سرحد کے اس گاؤں میں پسماندہ برادری کے لوگ صدیوں سے ہندو ؤں کی شادی ،تہوار اور دوسرے مذہبی تقریبات میں گاتے رہے ہیں۔لیکن اس طرح کا واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔