ادبستان

جب سرسید نے غالب کی بات نہیں مانی تھی…

SirSyedGhalibہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہونے کے بعد چندحساس، بیدار مغز دانشور و ں نے خود احتسابی  شروع کر دی تھی۔اس عمل میں اہم ترین سوال یہ تھا کہ ہندوستانی معاشرت میں ایسی کیا کمزوریاں تھیں کہ مغرب ان پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔راجہ رام موہن رائےکا نام ان دانشوروں میں سرفہرست ہے۔ لیکن 19ویں صدی کے ہندوستان میں مصلح صرف اپنے ہم مذہب کے خاص طبقہ کے درمیان کسی مخصوص خطے تک محدود رہ کر ہی اصلاح معاشرت کا کام کرتے تہے۔

19ویں صدی کے سبھی مصلح میں یہ قدر مشترک تھا کہ وہ عقلیت پسندی اور انسان دوستی کی کسوٹی پر اپنے پیغام کو پرکھتے تہے۔ ان میں سے چند ماضی کی احیا چاہتے تہے جبکہ بعض دانشوروں  کی نظر مستقبل اور روشن خیال طریقہ کار پر تھی۔ ان مصلحین نے یہ بہ خوبی سمجھ لیا تھا کہ مغرب کا تسلط سائنس ٹکنا لوجی میں آگے بڑھ جانے سے ہوا ہے جب کہ ہندوستانی معاشرت نے خود کو پیچھے دھکیل لیاہے۔نتیجتاًہندوستانی مسلمانوں کے درمیان جدید کاری کا  عمل نسبتاًدیر سے شروع ہوا۔

سید احمد، کی نظر ان معاملات پر تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ1859 ء تک وہ اپنے خانگی معاملات اور مسلکی سوالات اور تاریخ نویسی، جس میں ماضی پر فخر کیا جا سکے، کچھ ایسے سروکار تھے۔ شاید اسی لئے ان کی تصنیفات ایسی نوعیت کی تھیں۔ پھر بھی 1838 میں انہوں نے اپنی نوکری کے لئے مغل دربار کے بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی کا انتخاب کیا،اور آگرہ کے کمشنر آفس میں نائب منشی کی نوکری کر لی۔ شاید وہ حالات آئندہ کو کم از کم لا شعوری طور پر بھانپ رہے تھے۔ اس لیےمغل حکومت کے بجائے کمپنی کی نوکری کو ترجیح دیا۔سر سید کا 7 سال کا آگرہ قیام بہت اہم تھا۔ آگرہ شہراس زمانے میں انگریزوں اور عیسائی مشنریوں کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں سر سید کو انگریزوں کی سوچ اور کار کردگی سے واقفیت ہوئی۔

پھر بھی ابھی تک ان کی نظر ہندوستانی کی ماضی پر ہی تھی۔ مغرب کے سائنسی علوم اور مادی ترقی پر ان کی نظر اب بھی نہیں جا رہی تھی۔ دہلی کالج میں اس جانب خاصی پیش رفت ہو رہی تھی، لیکن سر سید اب بھی اس جانب متوجہ نہیں تھے۔ 1855میں”آئین اکبری”کی تدوین کرنے کے بعد غالب کے پاس تقریظ لکھوانے کے لیےگئے۔غالب نے اس ترجیح کو بے سود قرار دیتے ہوئےسر سید کو مشورہ دیا کہ زوال شدہ ماضی میں جھانکنےکے بجائےیہ دیکھا جائے کہ مغرب نےسائنسی علوم کے ذریعے مادی ترقی حاصل کر کے دنیا پر حکمرانی کر نا شروع کر دیا ہے۔ سر سید کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ وہ غالب سے ایسے خفا ہوئےکہ38 اشعار پر مشتمل منظوم تقریظ جو غالب نے لکھا اسے سر سید نے اپنی مدون آئینہ اکبری میں شامل بھی نہیں کیا۔

لیکن کمپنی کی ملازمت میں کچھ ترقی حاصل کرتے ہوئےآگرہ،گردو نواح دہلی سےہوتےہوئےاب وہ بجنورمیں تعینات تھےجب1857 کا انقلاب برپا ہو گیا۔ اس انقلاب کی وجہ سے ان کا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ مسلم سلطانوں،لودیوں اورمغلوں کی طرح انگریز بھی اب ہندوستان میں ہمیشہ کے لیےبسنےآئےہیں۔اس لئے ان سے مفاہمت کا راستہ نکالنا ہوگا۔اسباب بغاوت ہند لکھ کر بنیادی طور پر وہ انگریزوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ انھیں بھی ہندوستانیوں سے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور محکوم طبقہ سے ڈائلاگ قائم کرنا ہوگا۔ یہ بہت بڑی جسارت کا کام تھا کیوں کہ انگریزی حکومت اس وقت انتقامی خوں ریزی کر رہی تھی۔

مراداآباد تبادلے کے بعد وہ اس جانب کچھ اقدام کرنے کے لئے متوجہ ہوئے۔انہیں محسوس ہوا کہ تعلیم حاصل کر کے نوکریاں لینی ہوں گی ۔1859 میں انہوں نے مرادآباد میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ اس غرض سے کہ اب گھریلو تعلیم کے بجائے پبلک اسکول کا ذریعہ اپنانا ہوگا۔اس زمانے میں ہندوستان میں پبلک اسکول کا تصور تقریباً نہیں  تھا۔لیکن سر سید اب بھی اردو ورناکولر کے بجائےفارسی کو ترجیح دے رہےتھے جب کہ انگریزی حکومت نے 1837میں فارسی ہٹا کر اردو نافذ کر دیا تھا۔ سر سید اب بھی فورٹ ولیم کالج اور غالب کے خطوط کی سہل اردو کی طرف مائل نہیں ہوئے تھے۔لیکن مراداآباد سے غازی پورتبادلے کے بعد اب وہ اردو ورناکیولر کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ کیوں کہ اسی زبان کی تعلیم کے ذریعہ نوکریاں لی جا سکتی تھیں۔ یہاں سائنٹفک سوسائٹی(ٹرانسلیشن سوسائٹی)قائم کیا ایک اسکول بھی قائم کیا۔ پھر ان کا تبادلہ علی گڑھ ہو گیا اور سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ آ گئی۔اب تک سب کچھ ٹھیک تھا کہ اچانک اردو اور ناگری کا قضیہ کھڑا کر دیا گیا۔ اس قضیہ نے شدت تب اختیار کیا جب 1867 میں سر سید نے ورناکیولر یونیورسٹی کی تجویز پیش کی۔ کیمپسن جیسے انگریز افسرنے کچھ لوگوں کو ناگری اسکرپٹ کے لئے اکسا کر ایسا ماحول بنا دیا کہ بنارس میں تعیناتی کے دوران سر سید نے وہاں کے کلکٹر  سے گفتگو میں اپنی مایوسی اور بے بسی کا اظہار کیا کہ اب اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہوگا۔لیکن سر سید اپنے تعلیمی مشن پر رواں دواں رہے۔

1869 میں انگلینڈ سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جائزہ لینے کے بعدوہ اس نتیجے پر پہنچے کہ رہائشی اسکول کے بغیر نہ تو تعلیم دی جا سکتی ہے اور نہ ہی تربیت کی جاسکتی ہے،اور بغیر مخصوص تربیت کے اگر تعلیم حاصل کر بھی لیا تو ضروری نہیں کہ مغربی جدیدیت سے مفاہمت قائم ہو سکے، اور اگر وہ بھی ہو گیا تو پھر اسلامی تہذیبی شعور اور شناخت کی حفاظت شاید نہ ہو پاتی۔ان تمام مقاصد کے حصول اور اندیشوں کے رفع کے لئے انہوں نے کیمبرج کے ماڈل پر علی گڑھ میں کالج قائم کیا۔کالج کے چندہ کے لئے انہوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں واضح کیا کہ عالیشان مسجدیں بنوانے کے بجائےجدید تعلیم کے لیےاہل خیر اوراہل ثروت حضرات رہائشی اسکول اور کالج قائم کریں اور اسکالرشپ قائم کریں تا کہ غریب طلبا بھی پڑھ سکیں۔انہوں نے غیر مسلم ہم وطنوں سے بھی  یہی اپیل کیا۔

علی گڑھ کالج میں ہندو طلباکے لیےالگ سے اسکالر شپ قائم کیا تھا خاص اپنی جیب سے۔ہاسٹل میں گائےگوشت پر پابندی تھی۔ علی گڑھ کالج کا پہلا گریجویٹ اور پہلا پوسٹ گریجویٹ بھی ہندو ہی تھا۔ یہ سچ ہے کہ ان کا تعصب خواص کے لیےتھا لیکن 1872 کی سیلیکٹ کمیٹی رپورٹ برائےعلی گڑھ کالج کی تجویز میں انہوں نےمساوی حقوق و اختیارات کی بات کی تھی اور وسائل کے اضافےکے ساتھ اس جانب بھی رجوع کرنا تھا۔علی گڑھ کالج میں رفتہ رفتہ ان طبقوں کی نمائندگی بھی بڑھتی گئی ۔

سر سید کی تقریروں اور تحریروں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ علی گڑھ کالج کو یونیورسٹی بنا لینے کے بعد ایسے اور ادارے قائم کئے جائیں ۔ سر سید کی زندگی کے آخری سات سالوں کی تقریروں اور تحریروں میں اس بات پر خاصا اصرار ہے۔ لیکن سر سید کی وفات کے بعد مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی ترجیحات بیسویں صدی میں بدل گئیں ۔ اس انجمن نے دوسرا تعلیمی ادارہ قائم کرنے  اور ابھرتے مڈل کلاس کی تعلیمی ضرورتوں کو پوری کرنے کے بجائے مسلم لیگ کی سیاست کو اپنا نصب العین بنا لیا۔

(مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں پروفیسر ہیں۔)