خبریں

مرکزی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے: پروین توگڑیا

شعلہ بیان وی ایچ پی لیڈر نے ان باتوں کا اظہاریہاں ’ہندو ہیلپ لائن‘ کی آل انڈیا میٹنگ سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

PraveenTogadia_PTIجموں:وشوا ہندو پریشد کے بین الاقوامی صدر پروین توگڑیا نے ہندوستان میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو غیرقانونی پناہ گزین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بین الاقوامی سطح پر سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں۔ انہوں نے مرکزی سرکار سے کہا کہ وہ ان غیر قانونی پناہ گزینوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے۔

شعلہ بیان وی ایچ پی لیڈر نے ان باتوں کا اظہاریہاں ’ہندو ہیلپ لائن‘ کی آل انڈیا میٹنگ سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’یہ مرکزی اور ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے غیرقانونی پناہ گزینوں کو پکڑ کر سرحد سے باہر کرے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ روہنگیا مسلمان جو غیرقانونی پناہ گزیں ہیں اور جن کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے دنیا میں ثابت ہوئے ہیں، کو اب تک پکڑ کر جموں سے بنگلہ دیش کی سرحد پر کیوں نہیں بھیجا گیا، مجھے اس کا جواب چاہیے‘۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں میں مقام میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کی تعداد 13 ہزار 400 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ مرکزی سرکار کی جانب سے گذشتہ ماہ سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ء پیش رفت کا پیدا کردہ ہے۔