فکر و نظر

جواہر لعل نہرو کا پیغام، اپنے دوستوں اور نکتہ چینوں کے نام

میں مکمل جمہوریت کو مانتا ہوں یعنی سیاسی اور اقتصادی دونوں طرح کی آزادی حاصل ہو۔ فی الحال میں سیاسی جمہوریت کے لیے کام کر رہا ہوں۔ لیکن سمجھتا ہوں کہ یہی چیزبڑھ کر اور پھیل کر معاشی جمہوریت بھی بن جائے گی۔

Nehru_Gandhi_and_Patel_1946_WikimediaCommons

Photo : Wikimedia Commons

اخباروں اور اخبار نویسوں کا بے حد شکرگزار ہوں کہ وہ ازراہ عنایت میری تحریر و تقریر کی نشرو اشاعت کرتے ہیں ۔میں خاص طور پر اپنے معترضوں اور نکتہ چینوں کاممنون ہوں جو میرے لا تعداد نقائص اور بھول چوک کی طرف اشارہ کر کے مجھے صحیح راستہ دکھانے کی اتنی کوشش کرتے ہیں۔ میں ایسی تنقیدوں کو دوسروں کی تعریفوں سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میرے کثیر مشاغل، ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑتے رہنا، بڑے بڑے جلسوں میں تقریریں کرنا، دوستانہ اور پرجوش مجمعوں میں ہاتھوں ہاتھ پہنچنا، بحث ومباحثے، دفتر کے کام کا بوجھ اور پھر خطوں کے انبار کا مقابلہ کرنا، اس پرشور دنیا کے ہنگاموں اور جھگڑوں سے پناہ لینے کے لیے کچھ وقت ادھر ادھر سے کاٹ کر بچا لینا اور اپنے کو کسی دلکش کتاب میں کھو دینا۔ یہ باتیں میرے لیے بہت کم وقت چھوڑتی ہیں کہ میں دوستوں اور اعتراض کرنے والوں کی فیاضانہ نصیحتوں پر پوری طرح غور کر سکوں لیکن کبھی کبھی میں ان مشوروں اور تنقیدوں کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہوں اور اپنے فطری حلم کے باوجود ایک ابھار کا جذبہ مجھ پر اس خیال سے طاری ہو جاتا ہے کہ میرے منہ سے اتفاقیہ طور پر نکلے ہوئے الفاظ بھی لوگوں کے دلوں میں حرکت پیدا کرتے ہیں اگرچہ کبھی کبھی یہ حرکت غصے کی شکل میں نمایاں ہوتی ہے۔

مجھے شکایت نہ کرنی چاہیے اگر بولنے اور لکھنے کی اس کثرت میں کبھی کبھی غلطیاں ہوجاتی ہیں الفاظ اپنا ربط کھو دیتے ہیں یا فرضی باتیں میرے سر منڈھی جاتی ہیں اور میری مزاح پیدا کرنے کی کوشش سمجھی نہیں جاتی یا سنجیدگی سے اس کا اثر لیا جاتا ہے۔ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ زندگی کی راہ کافی سخت ہے اور اگر اس میں خوش طبعی کا پہلو نہ پیدا کیا جائے تو اس بوجھ کا اٹھنا مشکل ہوجائے یہ بات کافی بری ہے کہ میں اتنی تقریریں کرتا ہوں اور پھر اگر ان تقریروں کے متعلق ہر غلط رپورٹ کی تصحیح اور ہر غلط ترجمانی کی درستگی بھی کرتا رہوں تو زندگی تلخ ہوجائے۔ جو سوالات مجھ سے پوچھے جاتے ہیں وہ مستزاد ہیں۔ ان کی تعداد کی انتہا نہیں اور ان کی قسموں کی حد وہ خدا اور مذہب سے لے کر شادی، اخلاقیات، جنسیات، زمین پر خدا کے سایہ (بادشاہ) سرمایہ داری اور ملکیت تک کے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ سوالات شاذو نادر ہی میرے بیانات سے یا ملکی مسائل سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ درحقیقت یہ چیز نہایت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کس طرح میرے معترضین میری کہی ہوئی باتوں سے آنکھ بچا کر گزر جاتے ہیں اور دوسری باتوں پر وقت اور زور صرف کرتے ہیں۔

پھر بھی مجھے ان سوالات میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور میں بہ خوشی انھیں حل کرنے میں لگ جاتا اگر عمر اتنی مختصر نہ ہوتی اور زندگی کے دن گنے ہوئے نہ ہوتے۔ بدقسمتی سے ہم ان حالات میں گھرے ہوئے ہیں کہ ہم اپنی جوانی اور اس کے بعد کا حصہ سیاسیات کی خشک فضا میں رہ کر “کمیونل اوارڈ”(فرقہ وارانہ فیصلہ )اور مسجد شہید گنج کے مسئلہ پرجوش کا مظاہرہ کرنے میں ختم کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد زندگی اور زندگی کے حقیقی مسائل پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں رہتا۔بہرحال زندگی کے اصل مسائل ہیں، انسانوں کی معاشرتی، قلبی اور روحانی تعلقات اور انسان کا سماج سے تعلق۔ ہم ان کو پوری طرح دیکھ بھی نہیں سکتے ان کا سلجھانا تو بڑی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس سیاسی اور اقتصادی نظام نے جو ہمیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے ہماری نظر دھندلی کر دی ہے اور ہمارے جسم کو جکڑ دیا ہے۔

اس لیے موجودہ حالات میں میں ان سوالوں کا جواب دینے میں اپنا وقت نہیں لگا سکتا بلکہ سوال کرنے والے سے اپنی خودنوشت سوانح عمری دیکھنے کی طرف اشارہ کروں گا جہاں انسان اور دوسری چیزوں کے متعلق میرے عام تصورات ملیں گے۔ لیکن پھر بھی میں اس وقت بالکل خاموشی اختیار نہیں کرسکتا جب میرے رفقا کار کے متعلق فضول اور لاحاصل باتیں کہی جاتی ہیں اور میرے الفاظ سند کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی طرف برابر اشارے ملتے ہیں کہ مجھ میں اور میرے ساتھیوں میں مسلسل کشمکش ہے، کانگریس میں بہت جلد پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے اور بڑے اہم واقعات رونما ہونے والے ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میرے کچھ الفاظ جو میں نے خواتین کے ایک جلسے میں بمبئی میں کہے تھے بگاڑ دیے گئے ہیں تاکہ ان سے وہ مطلب حاصل کیا جائے جو کچھ میرے ذہن میں نہیں تھا۔

مجھے یقین ہے کہ میں نے لکھنؤ میں اور لکھنؤ کے بعد بھی نہایت آزادی سے اپنے اور کانگریس کی مجلس انتظامیہ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی غیر متعین پوزیشن کو صاف کر دیا ہے۔ یہ عجیب اور کسی قدر پریشان کن صورت حال میرے اشتراکی عقائد سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ یہ صرف سیاسی اختلاف تھا جو لکھنؤ میں ظاہر ہو کر سب کے سامنے آیا۔ ہم میں سے کسی نے اسے راز بنا کر نہیں رکھا کیونکہ ہمیں اس کا احساس تھا کہ ان اہم اور بنیادی مسائل پر جن کا تعلق عوام سے ہے ہمیں صاف گوئی اور ذہنی بے تعلقی سے کام لینا چاہیے کیونکہ یہی ہندوستان کی قسمت کے آخری فیصلہ کرنے والے ہوں گے ،اس لیے ہم اختلاف ہی پر اور کھلے ہوئے اختلاف پر رضامند ہوگئے لیکن اس کے بعد امداد باہمی اور اتحاد عمل پر بھی رضامند ہوئے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ ہمارے سامنے ہندوستان کی آزادی کا بزرگ تر سوال تھا جسے ہم دل سے عزیز رکھتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ہمارے درمیان اتفاق اور اتحاد کے نکات زیادہ تھے اور اختلاف رائے کے بہت کم۔ یقیناً ہمارے زاویہ نگاہ میں اختلاف تھا اور بعض چیزوں پر زور دینے میں فرق تھا۔ یہ سب کچھ سیاسی تھا اشتراکی نہ تھا اور اگر تھا بھی تو صرف اس حد تک کہ نقطہ نظر کا یہ اختلاف اور بعض چیزوں پر زور دینا اشتراکیت ہی نے پیدا کیا تھا۔ لکھنؤ کی کسی تجویز میں وہ چیز نہیں ظاہر ہوئی جسے اشتراکی کہہ سکیں۔ اشتراکیوں نے بھی اسے محسوس کیا کہ اصل مسئلہ سیاسی یعنی آزادی کا تھا اور اسی پر انھوں نے اپنے خیالات جما دیے۔ مجھے اس کا اعتراف ہے کہ مل کر کام کرنے پر رضامندی کا اظہار کر کے میرے ساتھ کام کرنے والوں نے میرا اور میرے خیالات پریشان کا جو احترام کیا ہے میں اس کے لیے دل سے ان کا شکر گزار ہوں۔ مجھے اس کا احساس ہے اور ایک  مرتبہ میں نے اپنے ساتھیوں سے بھی  اس کا تذکرہ کیا ہے کہ میں کسی قدر تکلیف دہ ہوں۔ میں وہاں کود پڑنا اور دوڑ جانا چاہتا ہوں جہاں عقل مند اور دوربین حضرات موقع اور محل کا خیال کریں گے۔ تاہم انھوں نے مجھے اور میرے مخصوص خیالات کو برداشت کیا۔ اختلاف اور اس قسم کی باتوں کا ذکر بے وقوفی ہے۔ ہمارے محاذ میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ آزادی ہمیں آوازدیتی ہے اور خون ہماری رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ ہم متفق ہوں یا اختلاف رکھیں۔ یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے سے جدا بھی ہوجائیں لیکن ہم پھر بھی اس آواز پر ساتھ ہی جائیں گے اور ان تمام لوگوں کو جو اس آواز کو سنتے اور اس پر لبیک کہتے ہیں ہم اپنے درمیان آنے کے لیے خوش آمدید کہتے ہیں چاہے ان کے خیالات دوسرے مسائل پر جو کچھ ہوں۔

ایک بار پھر میرے متعلق یہ اطلاع دی گئی ہے کہ میں نے کھادی کے بارے میں کچھ اہانت آمیز باتیں کہی ہیں۔ “میں نے یہ بار ہا کہا ہے کہ میں کھادی کو ملک کی اقتصادی خرابیوں کا آخری علاج نہیں سمجھتا اس لیے میں اس مشکل کا آخری حل کہیں اور تلاش کرتا ہوں۔” لیکن پھر بھی آج ہم جن حالات میں گھرے ہوئے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ کھادی کی ایک خاص سیاسی معاشرتی اور اقتصادی اہمیت اور قیمت ہے اس لیے اس کی ہمت افزائی ہونی چاہیے۔

لیکن زیادہ تر سوالات کا تعلق اشتراکیت (سوشلزم) سے ہوتا ہے جن سے نہ صرف لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس جوش کا بھی جو ذہن کو تاریک بنا دیتا ہے۔ سوشلزم ایک اقتصادی اصول ہے۔ یہ پیداوار تقسیم اور دوسرے سماجی مسائل کے باقاعدہ ترتیب دینے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے پیروؤں کے خیال کے مطابق اشتراکیت موجودہ سماج کی تمام خرابیوں کا حل ہے لیکن اس اقتصادی نظام پر غور کرتے ہوئے ہم برابر مذہب اور خدا کو درمیان میں لایا کرتے ہیں اور بادشاہ چارلس اول کے سر کی طرح روس برابر ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ میں قادر مطلق اور مختلف پر اسرار اور عجیب پرستش کے طریقوں پر بحث کرنے کو بالکل تیار ہوں۔ میں روس کے متعلق بھی گفتگو کر سکتا ہوں کیونکہ آج کل روس میں بڑی دلکشی سے مگر مجھے خاص مسئلہ سے ہٹا لے جانے پر اعتراض ہے یہ بات صرف ذہنی انتشار یا اصل سوال سے عمداً بچنے کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔

مذہب کے معاملے میں میں اسے بالکل مانتا ہوں کہ عقائد اور اعمال کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ لوگ خدا کی عبادت ہزاروں طریقوں میں سے کسی طریقے سے کرسکتے ہیں لیکن میں اس کے لیے بھی آزادی چاہتاہوں کہ اگر میرا جی چاہے تو میں کسی شکل میں خدا کی پرستش نہ کروں اور جن باتوں کو میں وہم پرستی اور سماج کی دشمنی تصور کرتا ہوں اس سے لوگوں کو روکوں لیکن جب مذہب شخصی مفاد اور سرمایہ داری کے بھیس میں آتا ہے اور لوگوں کو لوٹتا ہے تو اسے مذہب نہ سمجھنا چاہیے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

میں اس بنیادی اقتصادی نظریہ پر اعتقاد رکھتا ہوں جو روس کے معاشرتی نظام کی تہہ میں ہے۔ میرا خیال ہے کہ روس نے تمدن، تعلیم اور اگر میں روحانیت کے لفظ کو اس کے صحیح مفہوم میں استعمال کرسکو ں تو روحانیت میں بھی حیرت خیز ترقی کی ہے لیکن پھر بھی میں ہر اس بات کو جو وہاں جاری ہے پسند نہیں کرتا اور اسی لیے میں روس کی کورانہ تقلید کی رائے بھی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں سوشلزم (اشتراکیت) کے لفظ کو کمیونزم (اجتماعیت) پر ترجیح دیتا ہوں کیونکہ آخرالذکر لفظ سوویت روس کا مترادف بن گیا ہے۔ بمبئی کے بعض سربرآوردہ کاروباری میرے کمیونزم کے بدلے شوشلزم کے لفظ کے استعمال پر بہت اعتراض کرتے ہیں بظاہر ان کا یہ خیال معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنے اہل وطن کو دھوکا دیتا ہوں۔ اس مسئلہ پر انھیں اس قدر جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں کمیونزم کے لفظ سے ڈرتا نہیں۔ میری سرشت ہی میں یہ ہے کہ میری تمام ہمدردیاں سے سب سے زیادہ مظلوم اور سب سے زیادہ دبی ہوئی چیزوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ جبکہ حکومت کی ساری قوت اور ذاتی مفاد کمیونزم کے کچلنے میں صرف ہو رہے ہیں۔ یہی چیز کمیونزم کی طرف میری رغبت اور ہمدردی کا کافی بڑا سبب ہوسکتی ہے۔ دوسرے لوگ اور راستہ اختیار کرتے ہیں اور فطری طور پر قوی اور زبردست سے ملنے پر مائل ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں یہ قوت برطانوی سامراج ہے۔

لیکن الفاظ اور نام پراگندگی پیدا کرتے ہیں۔ میں جس چیز کی جستجو میں ہوں وہ یہ ہے کہ سماج سے نفع حاصل کرنے کا جذبہ نکل جائے، مقابلے کی جگہ خدمت اور اہمداد باہمی لے لے اور پیداوار منافع کے لیے نہیں بلکہ استعمال کے لیے ہو۔ چونکہ میں تشدد سے نفرت کرتا ہوں اور اسے ذلیل چیز سمجھتا ہوں اس لیے میں خوشی سے موجودہ نظام کو پسند نہیں کرتا جس کی بنیاد ہی تشدد پر ہے اسی سبب سے میں اور زیادہ پر امن اور پائیدار نظام تلاش کرتا ہوں جس سےتشدد کی جڑیں نکال کر پھینکی جاچکی ہوں، جہاں نفرت نے سکڑ کر شریفانہ جذبات کے لیے جگہ خالی کر دی ہو۔ میں ان چیزوں کا نام سوشلزم رکھتا ہوں۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ ہندوستان میں کسی طرح آئے گی کن کن منازل سے ہو کر گزرے گی اور کن دشواریوں پر قابو پائے گی۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ بغیر کسی اس قسم کی کوشش کے ہم افلاس اور بے کاری کے مسائل حل نہ کرسکیں گے۔ اگر دوسرے طریقے بھی ہیں تو میرے معترض کسی ایسی چیز پر خفا ہونے کے بجائے جسے وہ پسند نہیں کرتے یا شاید سمجھتے نہیں انھیں ملک کے سامنے پیش کیوں نہیں کرتے؟

لیکن قبل اس کے یہاں سوشلزم آئے یا اس کی کوشش بھی کی جائے ہمارے ہاتھ میں اپنی قسمت بنانے کے لیے طاقت بھی ہونی چاہیے، ہمیں سیاسی آزادی ملنی چاہیے۔ ہمارے سامنے ہی سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قابل توجہ مسئلہ ہے اور چاہے ہم سوشلزم کو مانیں یا نہ مانیں اگر ہم حقیقتاً آزادی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنی قوتوں کو متحد کر کے اسے ان ہاتھوں سے چھیننا ہےجو سے چھوڑنے پر رضامند نہیں ہیں۔

میں مکمل جمہوریت کو مانتا ہوں یعنی سیاسی اور اقتصادی دونوں طرح کی آزادی حاصل ہو۔ فی الحال میں سیاسی جمہوریت کے لیے کام کر رہا ہوں۔ لیکن سمجھتا ہوں کہ یہی چیزبڑھ کر اور پھیل کر معاشی جمہوریت بھی بن جائے گی۔ کانگریس نے ہمارے سامنے ان مسائل کے حل کرنے کا جو ذریعہ ممکن ہے وہی رکھا ہے اور وہ کانسٹوٹنٹ اسمبلی کا ہے میری سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ جو شخص اپنے کوجمہوریت پسند کہتا ہے کس طرح اس سے اختلاف رکھ سکتا ہے اور دوسرا راستہ تلاش کر سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو ہندوستان کے لاکھوں بے سمجھ لوگوں کا تذکرہ کرتے ہیں  جیسا کہ بمبئی کے اعلان میں 21 دستخط کرنے والوں نے کیا اور ان کے سامنے ملک کے اہم مسائل پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہیں غالباً جمہوریت پسند کہلانا پسند نہ کریں گے۔

کیا ہم اپنے مسائل کا کوئی جمہوری حل چاہتے ہیں؟ یہ ایک سوال ہے جو اپنے معترضین سے پوچھنا چاہوں گا۔ اگر ایسا ہے تو پھر جب میں انھیں عوام کے سامنے رکھتا ہوں اور انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں تو یہ شور و غوغا، یہ غصے میں بھرے ہوئے جذبات کیوں بلند کیے جاتے ہیں؟ میں نے اتفاقاً کہنے کے علاوہ شاید ہی کبھی سوشلزم کا ذکر ان سے کیا ہو۔ ہاں میں نے اپنے ملک کے حیرتناک افلاس، اپنے کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی بے کاری اور اس کے علاوہ سب سے اونچے درجہ کے تھوڑے سے لوگوں کے دوسرے طبقوں کے تیز زوال پر البتہ زور دیا ہے۔ ان تھوڑے سے لوگوں کی نگاہ میں یہی میرا گناہ ہے۔ لیکن جب ہندوستان کے متعلق سوچنے لگتا ہوں تو میرے سامنے یہی ایک تصویر آتی ہے۔ چاہے میں کوشش بھی کروں مگر اس خیال سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ یہ کوئی خوش گوار تصویر نہیں ہے۔ میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ جب اسے دیکھتا ہوں تو کبھی میرا خون سرد ہوجاتا ہے اور کبھی نفرت اور غصے سے کھونے لگتا ہے کہ کیا ایسا ہی ہونا چاہیے۔

(بہ شکریہ ،مضامین نہرو ،مترجم ؛آنند نرائن ملا،اردو اکادمی ،دہلی ،1992)