خبریں

مظفرنگر فسادات پر بنی فلم کی نمائش پر پانچ ضلعوں میں روک

فلم پروڈیوسر کا الزام ہے کہ اتر پردیش بلدیاتی انتخاب کی وجہ سے سینما گھروں کے مالکان کو فلم کی نمائش نہ کرنے کو کہا گیا ہے۔ وہیں ضلع انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے۔

muzaffar-nagar

مظفرنگر فسادات پر مبنی فلم’ مظفرنگر:دی برننگ لو‘کےپروڈیوسرمنوج کمار منڈی نے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش کے پانچ ضلعوں میں فلم کی اسکرینگ پر روک لگا دی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اتر پردیش بلدیاتی انتخاب ہونے تک انتظامیہ کے ذریعے مظفرنگر، شاملی، بجنور، سہارن پور اور باغپت میں فلم کی اسکرینگ پر روک لگا دی گئی ہے۔ 2013 کے فرقہ وارانہ فسادات میں بجنور چھوڑ‌کر باقی چاروں ضلعے فسادات سے متاثر تھے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،منوج کمار منڈی نے ان ضلعوں کے انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ ان لوگوں نے سینما گھر وں کے مالکان کو فلم کو ریلیز نہ کرنے کی ہدایت دی  ہے، جبکہ منوج کمار کے الزامات کی افسروں نے تردید کی ہے۔حالانکہ مظفرنگر کے سنگل اسکرین سینما گھروں کے مالکان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحریری طور پر تو نہیں لیکن زبانی طور پر افسروں نے فلم کو اتر پردیش بلدیاتی انتخاب کے ختم ہونے تک ریلیز نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

منوج نے انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں بتایا؛’یہ ایک کامرشیل فلم ہے جو 2013 کے فسادات پر مبنی ہے۔ مظفرنگر کے افسروں نے فلم دیکھی ہے اور ان کو اس میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں لگا۔ زبانی طور پر مظفرنگر، بجنور، شاملی، باغپت اور سہارن پور ضلع انتظامیہ نے سینما ہال کے مالکان کو ہدایت دی ہے کہ فلم چلنی نہیں چاہیے۔‘

مظفرنگر مشرق کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ہریش چندر کا کہنا ہے کہ فلم پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ بلدیاتی انتخاب کے چلتے سینما گھروں کے مالک ڈرے ہوئے ہیں۔ بلدیاتی انتخاب سے امن و امان میں خطرے  کا امکان ہو سکتا ہے۔

سہارن پور  کمشنر دیپک اگروال کا بھی کہنا ہے کہ مظفرنگر، شاملی اور سہارن پور میں فلم نہیں دکھائے جانے کو لےکر کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔بجنور کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ مدن سنگھ اور باغپت کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ لوک پال سنگھ نے بھی فلم کی روک کو لےکر ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ادھر مظفرنگر میں ناولٹی سینما کو ٹھیکے پر چلانے والے رمیش گپتا کا کہنا ہے کہ پانچ ضلعوں کے سینما گھروں کے مالکان کو زبانی ہدایت دی گئی ہے کہ جب تک بلدیاتی انتخاب نہیں ہو جاتے، تب تک فلم نہیں لگنی چاہیے کیونکہ اس سے قانونی نظام پر اثرپڑےگا۔رمیش نے آگے کہا کہ امن و امان بنائے رکھنے کے لئے سینما گھر وں کے مالکان نے فیصلہ کیا ہے کہ فلم نہیں چلائیں‌گے۔

اسکرول میں چھپی خبر کے مطابق، فلم کے ہدایت کار ہریش کمار نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات چیت میں کہا کہ وہ فلم کو انتظامیہ اور سینما گھروں  کے مالکان کو دکھا سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ہریش نےسوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ ؛’فلم کو سینسر بورڈ نے پاس کر دیا ہے۔ کیا سینسر بورڈ کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ کیا ہر فلم پہلے ضلع حکام کو دکھانی ہوگی؟

واضح ہو کہ سال 2013 میں مظفرنگر ضلع میں بھڑکے فسادات کے دوران تقریباً 62 لوگ مارے گئے تھے اور 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کو بےگھر ہونا پڑا تھا۔