خبریں

یوپی کوکا قانون :کیا یوگی حکومت کے نشانے پر ہیں مسلمان ؟

دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بے قصور لوگوں کی رہائی کے لئے کام کرنے والی تنظیم رہائی منچ  کے مطابق اس قانون سے پولیس کوچھان بین  کے لئے محنت نہیں کرنی ہوگی اور وہ ’اقبال جرم ‘کی بنیاد پر بےگناہوں کو سزا دلانے میں کامیاب ہو جا ئےگی۔

Photo: PTI

Photo: PTI

لکھنؤ: اترپردیش میں یوگی حکومت نے مکوکا کی طرز پر یو پی کو کا یعنی(Uttar Pradesh Control Of Organised Crime Act) کو اپوزیشن پارٹیز کی مخالفت کے باوجود جمعرات کویوپی اسمبلی میں سرمائی اجلاس کے دوران  قانونی شکل دے دیا ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس قانون سے ریاست میں جرائم پیشہ افراد،کھدائی اورزمین مافیاؤں  کے منظم جرائم پر نکیل کسا جا سکےگا۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی )کی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ مایا وتی نے اس بل کی مخالفت کی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ؛بی ایس پی اس بل کی مخالفت کرتی ہے اور عوام کے مفاد میں اس بل کو واپس لینے کی مانگ کرتی ہے۔مایاوتی نے الزام لگایا کہ ریاست میں بے گناہ  دلت اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کو جھوٹے معاملے میں پھنسا کر جیل بھیجا جا رہا ہے۔اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ایسی فرضی گرفتاریاں اور بڑھ جائیں گی۔

اس بل پرسول سو سائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بے قصور لوگوں کی رہائی کے لئے کام کرنے والی تنظیم رہائی منچ  نےکہا  ہےکہ اس طرح کے قانون پولیس کو کھلی چھوٹ دےکر بےلگام بنا دیتے ہیں ،جس سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ ثبوت کے طور پولیس کے سامنے دیا گیا کسی بھی ملزم کا بیان غیراہم ہوتا ہے اور اس کو عدالت ثبوت کے طور پر منظور نہیں کرتی۔ لیکن کنٹرول آف آرگنائز کرائم وہ چاہے کسی بھی ریاست کا ہو پولیس افسروں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ملزم کا بیان جس طرح چاہیں درج کر لیں، عدالت اس کو منظور کرے‌گا۔

رہائی منچ کے مطابق یہ قانون پولیس کو من مانے طریقے سے ملزمین کے خلاف ظلم کرنے کا بھی پورا حق دیتا ہے۔ یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ جرم قبول کروانے  کے لئے پولیس افسر ملزمین پر تھرڈ ڈگری ٹارچر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ  یہ قانون پولیس افسروں کو پوری طرح سے بےلگام بنا دے‌گا اور اس کے ذریعے تھرڈ ڈگری ٹارچر کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جا سکے‌گی۔ ایسا کہا کیا جا رہا ہےکہ اس قانون کا استعمال زمین اورکھدائی مافیا کے خلاف کیا جائے‌گا جبکہ ایسے مجرموں کو سیاسی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور ہر اقتدار کے ساتھ اس کا تجارتی گٹھ جوڑ ہو جاتا ہے۔

تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اب تک دہشت گردی کے معاملے میں جتنے بھی مقدمے دائرکئے گئے ہیں، کسی میں بھی پولیس کے ذریعے ثبوت نہیں جٹایا جا سکا ہے۔ اس قانون سے پولیس کوچھان بین  کے لئے محنت نہیں کرنی ہوگی اور وہ اقبال جرم کی بنیاد پر بےگناہوں کو سزا دلانے میں کامیاب ہو جا ئےگی۔ اس طرح کے کالے قانون محروم طبقات پر ریاست کے ذریعے منظم حملے کی سازش ہیں۔ قبائلی لوگوں کو نکسلی اورماؤوادی کے نام پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے  تو مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر۔

منچ  نے بیدار شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے کالے قوانین کی مخالفت متحد ہو کرکیا جائے تاکہ محروم سماج کے خلاف منظم ظلم وستم کوروکا جا سکے۔رہائی منچ کے ترجمان شاہنواز عالم کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے بھی یوپی کوکا قانون نے کے لئے اس وقت کی حکومت نے دہشت گردی کے نام پر بےگناہوں کی گرفتاریاں کروائیں اور جس فرقہ وارانہ سیاست نے یہ سب رچا آج وہ اقتدار میں آنے کے بعد یوپی کوکا جیسی سازش   پھر سے رچ رہی ہے۔ جس میں بےگناہ مسلمان بےموت مارا جائے‌گا۔