ادبستان

غالب پر منٹو کی ایک خاص تحریر : قرض کی پیتے تھے…

’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘ غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘

GhalibTomb_DawnNews

یہ مضمون 27دسمبر 2017کو شائع کیا گیا تھا۔

ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالبؔ وہاں سے اُکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادارسے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھر ا داس مہاجن بیٹھا ہے۔

غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا؛’’اخاہ! متھر ا داس ! بھئی تم آج بڑے وقت پر آئے…میں تمہیں بلوانے ہی والا تھا!‘‘

متھر ا داس نے ٹھیٹ مہاجنوں کے انداز میں کہا۔’’ حضور روپوں کو بہت دن ہوگئے۔ فقط دو قسط آپ نے بھجوائے تھے…اس کے بعد پانچ مہینے ہوگئے،ایک پیسہ بھی آپ نے نہ دیا۔‘‘

اسد اللہ خان غالبؔ مسکرائے’’بھئی متھر ا داس دینے کو میں سب دے دوں گا۔ گلے گلے پانی دوں گا…دو ایک جائیدادمیری باقی ہے۔‘‘

’’اجی سرکار! اس طرح بیوپار ہوچکا۔ نہ اصل میں سے نہ سود میں سے، پہلا ہی ڈھائی ہزار وصول نہیں ہوا۔ چھ سو چھپن سود کے ہوگئے۔‘‘

مرزا غالبؔ نے حقے کی نَے پکڑ کر ایک کش لیا۔’’ لالہ، جس درخت کا پھل کھانا منظور ہوتا ہے، اس کو پہلے پانی دیتے ہیں…میں تمہارا درخت ہوں پانی دو تو اناج پیدا ہو۔‘‘

متھر ا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ ٹھیک کی۔’’ جی، دیوالی کو بارہ دن باقی رہ گئے ہیں۔ کھاتہ بند کیا جائے گا۔ آپ پہلے روپے کا اصل سُود ملا کر دستاویز بنا دیں تو آگے کا نام لیں۔‘‘

مرزا غالبؔ نے حقے کی نَے ایک طرف کی’’لوابھی دستاویز لکھے دیتا ہوں،شرط یہ ہے کہ دو ہزار ابھی ابھی مجھے اوردو۔‘‘

متھرا داس نے تھوڑی دیر غورکیا۔’’ اچھا، میں اشٹام منگواتا ہوں…بہی ساتھ لایا ہوں۔ آپ منشی غلام رسول عرضی نویس کو بلالیں۔ پر سود وہی سوا روپیہ سینکڑہ ہوگا۔‘‘

’’لالہ کچھ تو انصاف کرو۔ بارہ آنے سود لکھوائے دیتا ہوں۔‘‘

متھرا داس نے اپنی دھوتی کی لانگ دوسری بار دُرست کی۔’’سرکار بارہ آنے پر بارہ برس بھی کوئی مہاجن قرض نہیں دے گا…آج کل تو خود بادشاہ سلامت کو روپے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان دنوں واقعی بہادر شاہ ظفر کی حالت بہت نازک تھی، اس کو اپنے اخراجات کے لیے روپے پیسے کی ہر وقت ضرورت رہتی تھی۔

بہادر شاہ تو خیر بادشاہ تھا لیکن مرزا غالب شاعر تھے۔ گو وہ اپنے شعروں میں اپنا رشتہ سپاہ گری سے جوڑتے تھے۔

یہ مرزا صاحب کی زندگی کے چالیسویں اور پینتالیسویں سال کی درمیانی عرصے کی بات ہےجب متھرا داس مہاجن نے ان پر عدم ادائیگی قرضہ کے باعث دیوانی عدالت میں دعویٰ دائر کیا،مقدمے کی سماعت مرزا صاحب کے مربی اور دوست مُفتی صدر الدین آزردہ کو کرنا تھی جو خود بہت اچھے شاعر اورغالبؔ کے مداح تھے۔

یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال:ایک دن دلّی میں

مُفتی صاحب کے مردھانے عدالت کے کمرے سے باہر نکل کر آواز دی۔’’ لالہ متھرا داس مہاجن اور مرزا اسد اللہ خان غالبؔ مدعاعلیہ حاضر ہیں۔‘‘

متھرا داس نے مرزا غالب کی طرف دیکھا اور مردھے سے کہا۔’’ابھی دونوں حاضر ہیں۔‘‘

مِردھے نے روکھے پن سے کہا۔‘‘ تو دونوں حاضرِ عدالت ہوں۔‘‘

مرزا غالب نے عدالت میں حاضر ہو کر مفتی صدر الدین آزردہ کو سلام کیا…مفتی صاحب مسکرائے۔

’’مرزا نوشہ، یہ آپ اس قدر قرض کیوں لیا کرتے ہیں آخر یہ معاملہ کیا ہے؟‘‘

غالب نے تھوڑے توقف کے بعد کہا؛’’ کیا عرض کروں، میری سمجھ میں بھی کچھ نہیں آتا۔‘‘

مفتی صدر الدین مسکرائے؛ ’’کچھ تو ہے،جس کی پردہ داری ہے‘‘

غالب نے برجستہ کہا۔’’ ایک شعر موزوں ہوگیا ہے مفتی صاحب،حکم ہو تو جواب میں عرض کروں۔‘‘

’’فرمائیے!‘‘

غالبؔ نے مفتی صاحب اور متھرا داس مہاجن کو ایک لحظے کے لیے دیکھا اور اپنے مخصوص انداز میں یہ شعرپڑھا؛

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مفتی صاحب بے اختیار ہنس پڑے۔ ’’خوب، خوب، کیوں صاحب! رسی جل گئی، پر بل نہ گیا۔ آپ کے اس شعر کی میں تو ضرور داد دوں گا۔ مگر چونکہ آپ کو اصل اور سود، سب سے اقرار ہے۔ عدالت مدعی کے حق میں فیصلہ دیے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘

مرزا غالبؔ نے بڑی سنجیدگی سے کہا؛’’مدعی سچا ہے، تو کیوں فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو اورمیں نے بھی سچی بات نثر میں نہ کہی، نظم میں کہہ دی‘‘

مفتی صدر الدین آزردہ نے کاغذات قانون ایک طرف رکھے اور مرزا غالب سے مخاطب ہوئے؛’’اچھا، تو زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا کہ ہماری آپ کی دوستی کی لاج رہ جائے‘‘

مرزا غالبؔ بڑے خود دار تھے۔ انہوں نے مفتی صاحب سے کہا؛’’حضور ایسا نہیں ہوگا…مجھے متھرا داس کا روپیہ دینا ہے…میں بہت جلد ادا کردوں گا‘‘

مفتی صاحب مسکرائے؛’’حضرت، روپے کی ادائیگی، شاعری نہیں آپ تکلّف کو برطرف رکھیے۔ میں آپ کا مداح ہوں مجھے آج موقع دیجیے کہ آپ کی کوئی خدمت کرسکوں۔‘‘

غالبؔ بہت خفیف ہوئے؛’’لاحول ولا…آپ میرے بزرگ ہیں…مجھے کوئی سزا دے دیجیے کہ آپ صدرالصدور ہیں۔‘‘

’’دیکھو،تم ایسی باتیں مت کرو ‘‘

’’تو اور کیسی باتیں کروں‘‘

’’کوئی شعر سنائیے۔‘‘

’’سوچتا ہوں…ہاں ایک شعر رات کو ہوگیا تھا۔عرض کیے دیتا ہوں ‘‘

’’فرمائیے‘‘

’’ہم اور وہ سبب رنج آشنا دشمن‘‘

مُفتی صاحب نے اپنے قانونی قلم سے قانونی کاغذ پر یہ حروف لکھے

’’ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے‘‘

مفتی صاحب بہت محظوظ ہوئے۔ یہ شعر آسانی سے سمجھ آسکنے والا نہیں۔ لیکن وہ خود بہت بڑے شاعر تھے۔ اس لیے غالبؔ کی دقیقہ بیانی کو فوراً سمجھ گئے۔

مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہوئی ۔مفتی صدرالدین آزردہ نے مرزا غالبؔ سے کہا؛آپ آئندہ قرض کی نہ پیاکریں۔

غالب جو شاید کسی شعر کی فکر کررہے تھے ۔کہا؛ایک شعر ہوگیا اگر آپ اجازت دیں تو عرض کروں ۔مفتی صاحب نے کہا ۔فرمائیے ۔فرمائیے۔

مرزا غالبؔ کچھ دیر خاموش رہے۔ غالباً ان کو اِس بات سےبہت کوفت ہوئی تھی کہ مفتی صاحب اُن پر ایک احسان کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب نے ان سے پوچھا؛’’حضرت آپ خاموش کیوں ہو گئے؟‘‘

’’جی کوئی خاص بات نہیں؛

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہوں

ورنہ کیا بات کرنہیں آتی

’’آپ کو باتیں کرنا تو ماشاء اللہ آتی ہیں۔‘‘

غالبؔ نے جواب دیا؛’’جی ہاں…لیکن بنانا نہیں آتیں۔‘‘

مفتی صدر الدین مسکرائے؛’’اب آپ جاسکتے ہیں۔ زرِ ڈگری میں ادا کردوں گا۔‘‘

مرزا غالبؔ نے مفتی صاحب کا شکریہ ادا کیا؛’’ آج آپ نے دوستی کے تمسک پر مہر لگا دی… جب تک زندہ ہوں، بندہ ہوں۔‘‘

مفتی صدر الدین آزردہ نے ان سے کہا؛’’اب آپ تشریف لے جائیے پر خیال رہے کہ روز روز زر ڈگری میں ادا نہیں کرسکتا، آئندہ احتیاط رہے۔‘‘

مرزا غالبؔ تھوڑی دیر کے لیے سوچ میں غرق ہوگئے۔

مفتی صاحب نے اُن سے پوچھا؛’’کیا سوچ رہے ہیں آپ؟‘‘

مرزا غالبؔ چونک کربولے؛’’ جی!میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا تھا۔ شاید کچھ سوچنے کی کوشش کررہا تھا۔

 کہ

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

مفتی صاحب نے ان سے پوچھا؛’’ کیا آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی؟‘‘

مرزا غالبؔ نے مسکرا کر کہا؛’’ کسی خوش نصیب ہی کو آتی ہوگی۔‘‘

مفتی صاحب نے کہا۔’’ آپ شاعری چھوڑیئے…بس آئندہ احتیاط رہے۔‘‘

مرزا غالبؔ اپنے انگرکھے کی شکنیں درست کرتے ہوئے بولے’’ آپ کی نصیحت پر چل کر ثابت قدم رہنے کی خدا سے دعا کروں گا۔مفتی صاحب مفت کی زحمت آپ کو ہوئی۔ نقداً سوائے ’’شکر ہے‘‘اور کیا ادا کرسکتا ہوں۔ خیر خدا آپ کو دس گُنا دُنیا میں، اور ستّر گُنا آخرت میں دے گا۔‘‘

یہ سُن کر مفتی صدر الدین آزردہ زیر لب مسکرائے؛’’ آخرت والے میں تو آپ کو شریک کرنا محال ہے۔ دنیا کے دس گنے میں بھی آپ کو ایک کوڑی نہیں دوں گا کہ آپ مے خواری کیجیے۔‘‘

مرزا غالبؔ ہنسے…’’مے خواری کیسی مفتی صاحب!

مے سے غرض نشاط ہے کِس رو سیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

اور یہ شعر سُنا کر مرزا غالبؔ ، عدالت کے کمرے سے باہر چلے گئے۔

(بہ شکریہ برقعے،مکتبہ شعر وادب ،سمن آباد،لاہور)