ادبستان

پریم چند کی زبانی: ہندومسلم سوسائٹی میں آخرکیوں مقبول ہوا مولا نا کا طرز تحریر؟

’ہندوستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جس نے مولانا کے ناولوں کا مطالعہ نہ کیا ہو،یہاں تک کہ بعض علماء جن کو ناول کے نام سے نفرت تھی ،مولانا کی تصنیف کا دیکھنا باعث حسنات جانتے تھے۔‘

Sharar_Premchand

مولانا عبدالحلیم شررکے والد حکیم تفضل حسین نیک نفس، پابند صوم و صلوۃ حنفی مذہب، صوفی مشرب، متوسط قد و قامت، گورا رنگ، چیچک رو کتابی چہرہ، لاغر اندام، ریش مبارک یک مشت، دو انگل کرنجی آنکھیں، لکھنؤ چھوائی ٹولہ میں رہتے تھے۔ نسبتاً شیخ ہاشمی عباسی تھے ۔اسی مکان میں مولانا شرر یوم جمعہ صبح چھ بجے 17 جمادی الثانی 1275ھ غدر کے دو برس بعد پیدا ہوئے۔

حکیم تفضل حسین ایک متوسط الحال آدمی تھے اور وہ روزمرہ منشیان شاہی میں  ملازم تھے۔ تاہم لڑکے کی تربیت اور سرپرستی میں بہت کوشش کی۔ چھ برس کی عمر سے مولانا کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ سال بھر تک والد کے پاس پڑھتے رہے اور قرآن کا ایک پارہ بھی ختم نہ ہوا۔

مولانا بچپنے میں نہایت شریر تھے، چنانچہ ان کی والدہ نے ایک مرتبہ کسی بات پر خفا ہو کر مارا تو انھوں نے غصے میں ان کی انگلی چبا لی۔ جب مولانا آٹھ برس کے ہوئے تو ان کے والد کلکتہ جانے لگے، مولانا شرر کو بھی اپنے ہمراہ لیتے گئے۔

وہیں ان کی تعلیم ہونے لگی۔ پہلے حافظ الٰہی بخش سے سال بھر میں قرآن ختم کیا۔ دو برس میں ماتیہ عامل، گلستان، بوستاں تک استعداد حاصل کی، ملا باقر سے ہدایۃ النحو، کافیہ، ملا جاہی ختم کی۔ منشی عبدالطیف سے شرح وقایہ اور خوشنویسی سیکھی۔ مولانا طباطبائی سے بھی کچھ عربی کتابیں نکالیں۔ حکیم مسیح سے طب حاصل کی اور پندرہ برس کی عمر میں شاہی منشیوں میں اپنے والد کی جگہ پر ملازم ہوگئے۔ ان کے والد لکھنؤ چلے آئے۔ اس وقت مولانا کی صحبت شاہی خاندان کی ذریات کے ساتھ تھی۔ تاثیر صحبت نے کچھ رنگ بدلا تو مولانا کے والد نے ان کو لکھنؤ بلوا لیا۔ یہاں آ کر مولوی عبدالباری، شاگرد مولانا عبدالحی سے معقول کی کتابیں پڑھیں اور مولانا عبدالحی سے کچھ درس حاصل کیا۔ لکھنؤ سے دہلی گئے۔ مولانا نذیر حسین صاحب سے حدیث کی کتابیں پڑھیں اور وہاں عبدالوہاب نجدی کے رسالہ توحید کا ترجمہ کیا۔ دہلی سے خاصے غیر مقلدبن کر لکھنؤ آ گئے۔ یہاں آپ کے والد نے حکیم سعیدالدین کی صاحبزادی سے نسبت طے کر لی تھی۔ لکھنؤ میں آتے ہی شادی ہوگئی۔ اب مولانا اودھ اخبار میں تیس روپے ماہوار کے ملازم ہو گئے۔ کچھ انگریزی بھی حاصل کر لی تھی اور شاعری کا بھی شوق دامن گیر ہوا۔ اس زمانے میں منشی نذیر احمد مینائی کی شاعری کا بہت شہرہ تھا، ان ہی کے شاگرد ہوئے اور شررؔ تخلص رکھا۔

اودھ اخبار میں شرر کے مضامین نے ایک ہلچل ڈال دی۔ لوگ بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ اودھ اخبار کی ملازمت کے زمرہ میں کئی دفعہ حیدرآباد جانے کا اتفاق ہوا، اور نواب وقار الامرا تک رسائی ہوگئی۔ مولانا کے والد بھی اسی زمانے میں حیدرآباد میں ملازم تھے اور آخر عمر میں پنشن لے لی تھی۔ مولانا باوجود اس کے کہ اودھ اخبار میں ملازم تھے اور مضامین لکھا کرتے تھے تاہم آپ کو دوست احباب کی صحبت میں بیٹھنے کا وقت مل جاتا تھا۔

ان کے ایک دوست مولوی عبدالباسط کرسی کے رہنے والے نہایت وفادار، غیور اور جری لکڑی کے فن میں استاد تھے۔ ان کے نام سے رسالہ محشر جاری کیا اور اس کا دفتر چوک ہزازہ میں قائم کیا۔ وہیں مولوی صاحب کی نشست بھی ہونے لگی۔ مولوی ہدایت رسول ان کے ہم محلہ اور دوست تھے، اکثر وہ بھی ساتھ رہتے تھے۔ لالہ روشن لال ایک کھتری تھے جو مسلمان ہوگئے تھے۔ وہ بھی اسی گڈے کے یار تھے۔ مولوی معصوم علی بھی اسی زمرہ میں تھے۔ مگر اپنی تہذیب اور مولویت کے زعم میں بے تکلف جلسے میں شریک نہ ہوتے تھے۔ محشر کی بہت کچھ شہرت ہوئی لیکن مولانا کی وارفتہ مزاجی سے وہ بھی بند ہوگیا۔

شادی کے دو برس بعد مولانا کو فکر ہوئی کہ کوئی مستقل ذریعہ معاش پیدا کیا جائے۔ اودھ اخبار سے قطع تعلق کر کے اپنا مستقل رسالہ دل گداز جاری کیا۔ اس میں ایک حصہ خیالی مضامین کا ہوتا تھا اور دوسرا حصہ ناول کا۔ پہلا ناول آپ کا “دلچسپ” ہے۔  اس زمانے میں ناول لکھنے والے ایک مولوی صاحب تھے، دوسرے پنڈت سرشار کشمیری، سرشار نے اپنا رنگ رندانہ اختیار کیا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ افسانہ عام لوگوں میں دلچسپی سے دیکھا جائے۔ اس لیے انھوں نے داستان امیر حمزہ کے خیالات کا اندازہ کر کے آزاد ہیر کو بہادر وارفتہ  مزاج رند اور عاشق مزاج چالاک قرار دیا۔ بدیع الزماں افیونی کو بختک کا جامہ پہنایا اور ان پر بے غیرتی کا خاتمہ کردیا۔ یہ رنگ ایسا مقبول ہوا کہ اس زمانے کی سوسائٹی نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

مولانا نے دیکھا کہ اس رنگ کے سامنے کوئی نیا رنگ جمانا مشکل ہے۔ انھوں نے رندانہ خیال کو سرشارؔ کے سپرد کردیا اور اپنے واسطے ایک نیا راستہ پیدا کیا۔ اسلام عرب کے تاریخی واقعات لے کر مسلمانوں کی تہذیب، علو ہمتی، دین داری، فیاضی علمی مشاغل اور وضع داریوں کو عبارت میں لکھنا شروع کیا۔

“دلچسپ” کو دل کشی کا لباس پہنایا۔ “ملک العزیز” ناول اس قدر مقبول ہوا کہ عام اور خاص، رند اور مولوی سب نے مطالعہ کیا اور گہری دلچسپی سے دیکھا۔ “منصور موہنا” لوگوں نے آنکھوں پر جگہ دی۔ درگیش نندنی، حسن انجیلنا بہت مقبول ہوئے۔ ہندوستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جس نے مولانا کے ناولوں کا مطالعہ نہ کیاہو، یہاں تک کہ  بعض علماء جن کو ناول کے نام سے نفرت تھی، مولانا کی تصنیف کو دیکھنا باعث حسنات جانتے تھے۔ اس کے علاوہ تہذیب اور متانت اتنی تھی کہ تمام ہندو مسلمان سوسائٹی میں ان کا طرز تحریر مقبول عام ہوا۔ اور تمام مہذب لوگوں نے اسے اپنے کتب خانہ میں جگہ دی اور ان کے اقتباسات درسی کتب میں داخل ہونے لگے۔

“دل گداز” ابھی پورے دو برس بھی نہ نکلنے پایا تھا کہ مولانا کو نواب وقار الامرا نے طلب فرما کر اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ انگلستان روانہ کیا۔ ڈیڑھ برس کے بعد مولانا اس سفر سے واپس آئے تو کچھ دنوں کے بعد نواب وقار الامرا معزول ہو گئے اورمہاراجہ کشن پرشاد وزیر ہوئے، ناچار مولانا پھر لکھنؤ تشریف لائے اور “دل گداز” پھر جاری ہوا۔ اس کے علاوہ بھی مولانا نے چند ناول تصنیف کر کے ایڈیٹر پیام یار کو معاوضہ معقول دیئے۔

لوگ کہتے ہیں ابتدا میں مولانا نے مختلف اخبارات میں بہ معاوضہ کام کیا اور روزانہ اخبار میں جو انوار محمدی پریس سے منشی محمد تیغ بہادر کے اہتمام سے نکلتا تھا کچھ مضامین لکھے۔ صحیفہ نامی اخبار جو مطبع نامی لکھنؤ سے نکلتا تھا اس میں بھی کچھ کام کیا۔

پہلی بی بی سے مولانا کے دو لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ بڑے لڑے محمد صدیق حسن کی تعلیم انٹرنس تک ہوئی۔ چھوٹے صاحبزادے مولوی محمد فاروق اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور مولانا کے دفتر کا کام بہ خوبی انجام دیتے تھے لیکن اٹھارہ برس کی عمر میں بیمار ہو کر انتقال ہوا۔ اس کا کچھ مولوی صاحب کو ایسا صدمہ ہوا کہ بہت دنوں تک کام بند رہا اس کے بعد ایک لڑکی کابھی انتقال ہوا۔

پچاس برس کی عمر میں مولوی صاحب نے اپنی دوسری شادی کی اور شادی کے بعد پھر ریاست حیدرآباد میں گئے۔ وہاں اسسٹنٹ صیغہ تعلیم مقرر ہوئے اور وہیں سے “دل گداز”جاری کیا۔ تاریخ سندھ تصنیف کی اور اس پر سرکار نظام سے پانچ ہزار روپیہ انعام ملا۔ کچھ دنوں کے بعد حیدرآباد سے قطع تعلق کر کے واپس آئے اور دفتر ہمدرد میں معقول تنخواہ پر ملازمت کر کے دہلی تشریف لے گئے مگر دہلی کی سوسائٹی مولانا کو پسند نہ آئی اور سال بھر کے اندر وہاں سے چلے آئے۔

پھر ریاست حیدرآباد میں طلبی ہوئی۔ سو روپیہ ماہوار تو حیدرآباد سے پنشن ملتی تھی، چار سو روپیہ ماہوار تاریخ اسلام لکھنے پر مقرر ہوئے۔ لیکن اس مرتبہ مولانا حیدرآباد میں مقیم نہ ہوئے۔ کام لے کر اعلیٰ حضرت کی اجازت حاصل کر کے لکھنؤ تشریف لے آئے اور پانچ برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے۔ ریاست نظام نے اس تاریخ کو بہت پسند کیا۔ اس مدت میں “دل گداز”نے بہت ترقی کی اور ہر سال ایک نیا ناول نے بھی ناظرین کو مفت ملنے لگا۔

دوسرے محل سے مولانا کے دو لڑکے اورلڑکیاں ہیں، ان سب میں چھوٹی ایک لڑکی ہے جس زمانہ میں مولانا حیدرآباد میں اسسٹنٹ صیغہ تعلیم تھے وہاں ایک ناول پردے کے نقائص پر لکھا تھا، جس کا نام بدرالنسا کی مصیبت تھا۔ اس کے بعد لکھنؤ میں آ کر “پردہ عصمت” کا اجرا کیا جس کے ایڈیٹر حسن شاہ تھے۔ ایک ناگوار بحث بھی اس درمیان آ پڑی۔ مسٹر چکبست مرحوم نے مثنوی گلزار نسیم کا ایک جدید ایڈیشن شائع کیا۔ اس کے مقدمے میں مصنف کی مدح سرائی اور دوسرے شعرا کی مذمت کا پہلو نکلتا تھا۔ مولانا نے اس پر ریویو کیا اور اسی ضمن میں مثنوی کے بعض عیوب پر نظر ڈالی۔ اس کا جواب “اودھ پنچ” نے خاص پیرایہ میں دیا۔ جس کے بعد مولانا نے ظریف اخبار نکالا اور پنچ کے رنگ میں جواب الجواب لکھا۔ ظریف کے ایڈیٹر منشی نثار حسین صاحب تھے۔ بحث آٹھ مہینے تک جاری رہی اور اس میں فریقین سے بہت کچھ رد و کد رہی۔ پھر مولانا نے ایک رسالہ “العرفان” نکالا، جس کے ایڈیٹر حکیم سراج الحق صاحب تھے۔ اس میں بھی تمام مضامین مولانا کے قلم کے ہوتے تھے مگر اس رسالے کی عمر بھی بہت کم ہوئی۔ مولانا کی تمام تصانیف مقبول عام ہوئیں اور اس قدر مقبول ہوئیں کہ باوجود حق تالیف محفوظ ہونے کے مختلف مطابع نے شہید وفا، ملک العزیز، منصور موہنا، درگیش نندنی، دلچسپ، دل کش، فردوس بریں، فلورا فلورنڈا کو بار بار چھپوا کر فائدہ اٹھایا اور اسی پر اکتفا  نہیں کی، حسن کا ڈاکو اور دربار حرام پور خراب  کر کے تبدل و تحرف کر کے اور قیمت قلیل رکھ کر حجم کم کر کے خراب کاغذ پر چھپوا کر ملک کو دھوکا دیا اور بہت فائدہ حاصل کیا۔

یوں تو تمام تصانیف مولانا کی مقبول عام ہوئیں مگر ابتدائی ناولوں میں ملک العزیز ورجنا، منصور موہنا، درگیش نندی، شہید وفا کو سب سے زائد قبولیت عام کا شرف ملا اور آخری ناولوں میں حسن کا ڈاکو، شوقین ملکہ، جویائے حق ، دربار حرام پور حد سے زیادہ پسند کیے گئے۔

مولانا علمی خدمت کے اس قدر حریص تھے کہ ان کا مد مقابل آج ایک متنفس بھی نظر نہیں آتا۔ ستر برس کی عمر ہوئی، پچپن برس تک زبان اردو کی خدمت میں مصروف رہے۔ اودھ اخبار، روزانہ اخبار صحیفہ نامی، ہمدرد میں کام کیا۔ محشر، مہذب، دل گداز، اتحاد، پردہ عصمت، العرفان ان سب رسالوں میں مضمون لکھے۔ ان میں 46 برس تک دل گداز کو جاری رکھا۔ اس کے بعد ان کی تصانیف کی طرف غور کیجئے تو اس کی تعداد کم و بیش ایک سو کتاب سے زائد ہے۔ دل گداز کے مختلف مضامین اور تاریخ کے بعض ابواب، ناول کے بعض حصے صیغہ تعلیم کے کورس میں داخل ہوئے۔ مولانا کے بعض ناول کے ترجمے دوسری زبانوں میں کئے گئے۔

آخر عمر میں مولانا کا رجحان تصوف کی طرف ہوا، اور متقدمین صوفیہ کی سوانح عمری سے اس کی ابتدا ہوئی۔ سوانح عمری  خواجہ معین الدین چشتی، سوانح ابوبکر شبلی اور اسی طرح کی کتابیں تصنیف کیں اور وہ پکے حنفی صوفی، پابند صوم و صلوۃ ہو گئے۔ نماز تو مولانا ہمیشہ پڑھتے تھے مگر جو خضوع و خشوع آخر وقت میں ہو گیا تھا اس کا درجہ بہت بلند تھا۔ چالیس پچاس برس کی عمر تک ترکی ٹوپی پہنی اور فرنچ داڑھی رکھی، خضاب کا استعمال بھی کیا مگر اس وقت میں ان کا حلیہ دوسرا تھا۔ چوگیہ ٹوپی، پوری ریش مبارک، سفید گداز بدن، میانہ قد، گول چہرہ، نورانی شکل اسلام اور تاریخ کا ہر وقت  تذکرہ ان کی زبان پر تھا۔ باتوں باتوں میں خدا و رسول کے تذکرے کا پہلو نکال لیتے تھے۔ آخر وقت میں ان کا سفر سے گھر چھوائی ٹولے تک رہ گیا تھا، مگر یہ ناممکن تھا کہ وہ کسی ضرورت سے ہماری طرف نکلیں اورہم سے نہ ملیں اور دو چار منٹ اپنے صرف نہ کریں۔ سال بھر کا عرصہ ہوا جب مولانا کسی قدر بیمار ہوئے اور خواب میں دیکھا کہ خاندان کے بعض بزرگ جو مر چکے ہیں مولانا سے کہتے ہیں کہ اب تم چلے آؤ، آپ نے یہ خواب اپنا بیان کیا اور کہا کہ اب امید نہیں کہ ہم اس بیماری سے نجات پائیں۔ احباب نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، ہم دعا کریں گے اور آپ اچھے ہوجائیں گے۔ حسن اتفاق سے ایسا ہی ہوا کہ مولانا تندرست ہوگئے اور ایسے اچھے ہوئے کہ اپنا کام اچھی طرح کرنے لگے۔

دس بجے سے قلم لے کر بیٹھتے تھے اور دو بجے تک لکھا کرتے تھے۔ دو بجے سے چار بجے تک کمرے میں سوتے تھے یا آرام سے لیٹے رہتے تھے۔ شام کو دوست احباب سے ملنے چلے جاتے تھے اور وہاں سے اکثر آٹھ نو بجے رات کو گھر آتے تھے ۔جیسا طرز تحریر معلومات سے لبریز تھا، ایسی تقریر نہ تھی مگر تقریر شروع کرنے کے بعد رفتہ رفتہ اس میں بھی دلچسپی پیدا کر لیتے تھے اور خاتمہ تقریر بہت پرلطف ہوتا تھا۔

شاعری آپ کی برائے نام تھی۔ ابتدائے شباب میں کچھ غزلیں کہی تھیں اور دو مثنویاں شب غم اور شب وصل لکھی تھیں جو مقبول عام ہوئیں لیکن فن شعر سےخوب واقف تھے اور اصول فن پر اکثر تقریر کیا کرتے تھے۔

سب سے آخری ناول “نیکی کا پھل” لکھا تھا جو انتقال کے بعد شائع ہوا ہے، اس نام سے آپ کے خاتمہ کا عمدہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔

قدرت کے تماشے دیکھو کہ مولانا 1936 کو رخصت کرتے ہوئے اپنے قلم سے اپنے مرنے کی خبر دل گداز کے صفحات پر لکھتے اور یہ نہیں محسوس کرتے کہ میں سال کی کیفیت نہیں بلکہ اپنی حالت لکھ رہا ہوں، لکھتے ہیں:

“اتنی ہی تھوڑی مدت میں اس نے بچپن کی نادانیاں، جوانی کی امنگیں اور بڑھاپے کی پختہ کاریاں سب دیکھ لیں اور اب پانچ چھ روز کا مہمان ہے۔”

کیا معلوم تھا کہ سچ مچ اس تحریر کے پانچ چھ روز کے بعد مولانا بیمار ہوجائیں گے اور ایک ہفتہ بھی بستر علالت پر لیٹنا نصیب نہیں ہوگا۔(باکمالوں کے درشن)

(بحوالہ :مضامین پریم چند،مرتبہ ،عتیق احمد،انجمن ترقی اردو پاکستان،1981)