خبریں

دہلی ہائی کورٹ کی ایم سی ڈی کو پھٹکار، کہا تنخواہ لیتے ہیں پر کام نہیں کرتے

غیر قانونی تعمیر سے جڑی ایک عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایم سی ڈی اگر محتاط رہتی تو ایسی تعمیرات کو روکا جا سکتا تھا۔

Building-Construction-Housing-Real-Estate-Reuters

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ ایم سی ڈی اپنی ذمہ داری کو لےکر اگر محتاط رہتی تو قومی راجدھانی میں غیر قانونی تعمیرات  کو روکا جا سکتا تھا۔کارگزار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے کہا کہ بلدیاتی اکائیاپنا کام ایمانداری سے کرتے تو عدلیہ کا بہت زیادہ وقت بچتا۔بنچ نے کہا، ‘ آج عدالتوں اور اپیلی عدالتوں میں بڑی تعداد میں دہلی میں غیر قانونی تعمیرات سے جڑی عرضی زیر التوا ہیں۔ عدالت میں عرضی آنے پر ہی آپ (ایم سی ڈی) کارروائی کرتے ہیں اور نوٹس جاری کرتے ہیں۔ جب یہ عمارت بن رہے ہوتے ہیں تو آپ چپ رہتے ہیں اور ایسا ہونے دیتے ہیں۔ ‘

عدالت نے کہا کہ یہ عام ٹرینڈبن گیا ہے کہ اگر آپ ایم سی ڈی سے تال میل کر لیتے ہیں تو آپ بچ نکلیں‌گے۔ایم سی ڈی کے رویے پر ناراض بنچ نے کہا، ‘ آپ تنخواہ لیتے ہیں لیکن اپنا کام نہیں کرتے ہیں۔ آپ آئینے میں اپنی شکل کیسے دیکھ پاتے ہیں؟ ‘

بنچ نے یہ بھی کہا، ‘ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دینا وسیع سطح پر لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی مانند ہے اور اس سے راجدھانی کابنیادی ڈھانچہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ ‘بنچ غیرسرکاری تنظیم پردرشتا پبلک ویلفیئر فاؤنڈیشن کی عرضی پر شنوائی کر رہی تھی، جس نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ وسط دہلی کے قرول باغ علاقے میں قریب 95 ایسی جائیدادیں ہیں، جہاں غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں۔

اس تنظیم کے صدر ہرکرشن داس نجھاون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس کے بارے میں دہلی نگر نگم میں شکایت درج کروائی ہے، لیکن اس کے ذریعے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔