خبریں

عرب نامہ :ایران میں احتجاج  کی لو مدھم ، تونس اور الجزائر میں مظاہرے

ایران کے شہروں میں تقریباًدوہفتوں کے بعد خاموشی لوٹ آئی ہے ،لیکن اسی درمیان مہنگائی مخالف اور روٹی کے نام پر ہونے والے مظاہروں نے  شمالی افریقن ممالک تونس ، الجزائر اور سوڈان  کے دروازں پر دستک دے دی ہے ۔

ArabNama_AlWafaq

گزشتہ ہفتہ کی شروعات  میں ایران میں عوامی احتجاج  کی رفتار دھیمی ہوتی نظرآئی اور موجودہ نظام کے حامیوں نے حکومت اور حکام کے حمایت میں مارچ کیے ۔ اس بار بھی اخبارات نے پچھلے ہفتہ کی طرح  ایران احتجاج کو کوریج دی  بالخصوص خلیجی میڈیا میں  اس پر مضامین اور اداریے شائع ہوئے ،ہنوز سلسلہ جاری ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کا ماننا  ہے کہ یہ احتجاج اتنے جلدی تھمنے والے نہیں ہیں  ، اسی وجہ سے وہ ان مظاہروں کا موازنہ 1979 کے اسلامی انقلاب اور 2009 کے سبز انقلاب سے کررہے ہیں  اور حالیہ مظاہروں کو ماضی کے مظاہروں سے بڑا بتارہے ہیں۔

ایران کے شہروں میں تقریباً دوہفتوں کے بعد خاموشی لوٹ آئی ہے یا دھیرے دھیرے آرہی ہے لیکن اسی درمیان   مہنگائی مخالف اور روٹی کے نام پر ہونے والے مظاہروں نے  شمالی افریقن ممالک تونس ، الجزائر اور سوڈان  کے دروازں پر دستک دے دی ہے گوکہ ان مظاہروں میں  وہ جوش اور ولولہ نہیں ہے جو ایران کے مختلف شہروں میں نظر آئے۔

ایران سے شائع ہونے والے  عربی اخبار “الوفاق”  نے ایرانی صدرروحانی  کا وہ بیان اپنے 11 جنوری 2018 کے شمارہ میں سہ سرخی بنائی ہے جس میں صدرجمہوریہ ایران نے  معاشی مسائل کے حل اور شہریوں کے حقوق  کی تحفظ کو حکومتی کا ترجیحی ایجنڈا  بتایا ہے۔ اسی کے ساتھ صدر جمہوریہ نے وزیر داخلہ سے ہونے والے احتجاجات کی تفصیلی رپورٹ مانگی ہے جس میں حوادث کا باریک بینی سےجائزہ لیا گیا ہو۔

ArabNama_AshraqAlwast

اخبار “الشرق الاوسط” نے اپنے 11 جنوری 2018 کے روزنامہ میں تونس میں ہونے والے احتجاج کو پہلی خبر بنایا ہے، اخبار لکھتا ہے کہ  چھوٹے او ر معاشی طورپر  غیرخوشحال علاقوں سے شروع ہونے والے مہنگائی اور بے روزگاری مخالف مظاہروں نے بڑے شہروں کو اپنے چپیٹ میں لے لیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 230 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے ۔  وزرات دفاع کے ترجمان بلحسن الوسلاتی کے مطابق  چند صوبوں  میں حکومتی عمارتوں اور سنجیدہ  پلانٹوں اور عوامی  فسیلیٹیز کی حفاظت کی غرض سے مسلح افواج کوتعینات کیا گیا ہے۔ پچھلے دودنوں میں امن امان کی بگڑتی صورت حال کا الزام سیاسی  پارٹیوں نے ایک دوسرے پر لگایا۔حزب اقتدار میں شامل الندا پارٹی اور تحریک النہضہ نے سماجی اور معاشی  مسائل پر تمام اسٹیک ہولڈرس کی موجودگی میں   ایک نیشنل ڈیبیٹ (کانفرنس) کی کال دی ، جب کہ حزب اختلاف کی پارٹیوں  نے رات میں احتجاج کی  قیادت کے حکومت کے الزام کو  یہ کہتے ہوئے خارج کیا  انہوں نے موجودہ مالیاتی قانون کے خلاف  پرامن مظاہرہ کی کال دی تھی  اور امن امان  کی بگڑتی صورت حال  کےلیے  حزب اقتدار میں  شامل الندا پارٹی  اور تحریک النہضہ ذمہ دار  ہے۔

لندن سے شائع ہونےوالے اخبار  “الحیاۃ “ نے 10 جنوری 2018 کے شمارہ میں تونس اور سوڈان کے  بعد  الجزائر میں احتجا ج  کےتحت لکھا ہے کہ   سوڈان اور تونس میں روٹی  کےلیے   جاری احتجاج کے بیچ گذشتہ کل الجزائر میں بھی  فورسیز اور اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے درمیان دھکا مکی ہوئی اس وقت ہوئی جب ڈاکٹروں نے راجدھانی میں مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ ٹرانسپورٹ اور ایجوکیشن سیکٹر  کے ملازمین میں بھی  بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جارہی ہے جو کہ کسی وقت بھی احتجاج اور مظاہرے کی شکل لے سکتی ہے۔

ArabNama_London

سوڈان میں روٹی  اور دیگر کھانے پینے کی اشیا ء میں  مہنگائی کےخلاف ہونے والے احتجاج کی خبر کو  روزنامہ “الشرق الاوسط” نے پہلے صفحہ پر نمایاں طورپر جگہ دی ہے ، اخبار کےمطابق خرطوم یونیورسٹی  کے طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بعد مظاہرے دوسرے شہروں اور صوبوں میں پھیل گئے جس کی وجہ سے کئی سیاسی لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، حکام نے 6 روزناموں پر قبضہ کرکے ان کی تقسیم پر وجہ بتائے بغیرروک لگادی ہے۔

سعودی عرب نے ایران  میں مہنگائی اور بے روزگاری مخالف مظاہروں  سے ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مختلف قسم کے سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کے لیے مہنگائی بھتے اور دیگر مراعات کا اعلان کیا، سعودی عرب کے اخبار “البلاد” “عکاظ ” “السبق”  اورایلاف کے ساتھ ساتھ سعودی عربیہ کی راجدھانی الریاض سے نکلنے والے روزنامہ  “الریاض” نے بھی  شاہی فرمان  اور اس پر ہونے والے عوامی رد عمل کو شائع کیا ہے۔

ArabNama_AlRiyaz

مصر میں صدارتی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور الیکشن کی تیاریاں شروع ہیں ، سابق مصری وزیر اعظم اور گذشتہ مصری الیکشن کے صدارتی امیدوار اور حالیہ صدارتی انتخابات کے متوقع امیدوار  احمد شفیق نے الیکشن  حصہ نہ لینے کا فیصلہ لیکر سیاسی تجزیہ نگاروں کو حیرت میں ڈال دیا جب کہ متحدہ عرب سے مصر واپسی صداراتی انتخابات میں حصہ لینے کے غرض سے ہوئی تھی۔  لندن سے شائع ہونےوالے عربی اخبار “القدس” یہ معلومات دی، اس ہفتہ کی بڑی خبروں میں سے یہ ایک خبر تھی، مشرق وسطی سے شائع ہونے والے ہر چھوٹے بڑے اخبار اس خبر کو اہمیت کے ساتھ شائع کی۔

سابق یمنی صدر  عبداللہ صالح  کے بھتیجے بریگیڈئیر طارق محمد عبد اللہ  کے 11 جنوری 2018 کی شام اچانک منظرعام پرآنے نے حوثیوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے، 37 دنوں  تک  لاپتہ رہنے کے بعد اچانک ان کی واپسی سے حوثیوں کو ایک صدمہ سا لگا ہے جنہوں نے صنعاء  کے دسیوں گھروں میں گھس  کر جنرل پیپلز کانگریس کے سربراہ کوڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی تھی۔ یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ یہ بھی حوثیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے، لیکن اچانک ان کے منظر عام پر آنے سے پھر سے چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ موجودہ یمنی بحران میں ان کا کیا کردار ہوگا؟

ArabNama_2

اگرچہ  حوثیوں نے  میڈیا میں ان کی نموداری کو  کم  اہم کرکےپیش کرنے کی کوشش کی ہے اور حوثی میڈیا نے جنرل پیپلز کانگریس کی طرف منسوب ایک بیان نشر کیا ہے جس میں  جنرل پیپلز کانگریس نے بریگیڈئیر طارق پر غداری کا الزام لگایا ہے  اس اعلان کے بعد جس میں انہوں نے  تمام فریقوں سے بات چیت اور امن سلامتی کی بات کی تھی اور یہ کہاتھا  تمام اسٹیک ہولڈر سے تعاون کی درخواست کریں اور خاص طور سے سعودی عرب سے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ  یمن کا سیاسی استحکام علاقہ کے لیے مفید ہوگا اور یہ ملک عربی امتیازات سے دست بردار نہیں ہوگا۔ اس خبر کو مشرق وسطی کے میڈیا میں خوب کوریج ملی  ، علاقہ کے دیگر اخباروں کے ساتھ سعودی عربیہ کی راجدھانی الریاض سے نکلنے والے روزنامہ  “الریاض” نے بھی شائع کیا۔