فکر و نظر

رویش کمار کا بلاگ :بکواس اور بوگس مدعا ہےآفس آف پرافٹ

  آنکھیں کھول‌کر دیکھیے۔  ٹی وی چینلوں کے بھروسے ملک کو مت چھوڑئیے۔  پتا کرتے رہیے۔  دیکھتے رہیے۔  آپ کسی کی سائڈ لیں مگر حقیقت تو دیکھیں۔  یہ بھی تو دیکھیں کہ الیکشن کمیشن کسی کا ٹائپسٹ تو نہیں بن رہا ہے۔

ElectionCommission_PTI

علامتی تصویر/ پی ٹی آئی

ہر حکومت طے کرتی ہے کہ آفس آف پرافٹ کیا ہوگا، اس کے لئے وہ قانون بنا کر پاس کرتی ہے۔  اس طرح بہت سے عہدےجو فائدے سے بھی زیادہ متاثر کن ہیں، وہ آفس آف پرافٹ  سے باہر ہیں۔

آفس آف پرافٹ  کا تصور اس لئے کیا گیاکہ اقتداری جماعت یا اپوزیشن کے ایم ایل اے حکومت سے آزاد رہیں۔  کیا واقعی ہوتے ہیں؟  بات اتنی تھی کہ وزیروں کے علاوہ ایم ایل اے مجلس عاملہ کا کام نہ کریں، ایوان کے لئے دستیاب رہیں اور عوام کی آواز اٹھائیں۔  آپ اگر پتا کریں‌گے کہ کس ریاست کی اسمبلی 100 دن کا بھی اجلاس کرتی ہیں تو شرم آنے لگے‌گی۔  ایوان چلتے نہیں اور آفس آف پرافٹ کے نام پر آدرش ایم ایل اے کا تصور کرنے کی حماقت ہندوستانی میڈیا میں ہی چل سکتی ہے۔

جب ایسا ہے تو پھر فرمان کا نظم  کیوں ہے، کیوں فرمان جاری کرکے ایم ایل اے کو حکومت کے حساب سے ووٹ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔  فرمان کا نظم (وہیپ)بذات خود آفس آف پرافٹ ہے۔  کسی حکومت میں دم ہے کیا کہ وہیپ ہٹا دے۔  وہیپ کی پیروی نہ کرنے پر رکنیت چلی جاتی ہے۔  باقاعدہ ایوان میں چیف وہیپ ہوتا ہے تاکہ وہ ایم ایل اے یا رکن پارلیامنٹ کو حکومت کے حساب سے ووٹ کے لئے ہانک سکے۔

اگر اتنی سی بات سمجھ آتی ہے تو پھر آپ دیکھ سکیں‌گے کہ الیکشن کمیشن یا کوئی بھی دہلی پر فالتو میں الیکشن تھوپ رہا ہے جس کے لئے لاکھوں یا کروڑوں پھونکے جائیں‌گے۔  میڈیا نے ان سب باتوں کو نہیں بتایا، لگے بھائی لوگ سروے کر رزلٹ ہی بتانے کہ انتخاب ہوگا تو کیا ہوگا۔

آئین میں آفس آف پرافٹ واضح نہیں ہے۔  اس کا تصور ہی نہیں ہے۔  اس کا مطلب ہے جو آفس آف پرافٹ کے دائرے میں رکھے گئے ہیں وہ واقعی آفس آف پرافٹ نہیں ہیں کیونکہ آفس آف پرافٹ تو قانون بنا کر فہرست سے نکال دیا جاتا ہے! جمہوریت میں ٹائم برباد کرنے کا گیم سمجھے آپ؟

عدالتی آرڈربھی آفس آف پرافٹ کو لےکر ایک جیسے نہیں ہیں۔  ان میں تسلسل نہیں ہے۔  بہت سی ریاستوں میں ہوا ہے کہ آفس آف پرافٹ دیا گیا ہے۔  کورٹ نے ان کی تقرری کو غیرقانونی ٹھہرایا ہے، اس کے بعد ریاست نے قانون بنا کر اس کو آفس آف پرافٹ سے باہر کر دیا ہے اور عدالت نے بھی مانا ہے۔  پھر دہلی میں کیوں نہیں مانا جا رہا ہے؟

کئی ریاستوں میں retrospective effect یعنی بیک ڈیٹ سے آفس آف پرافٹ کو فہرست سے باہر کیا گیا۔  آئین میں اہتمام ہے کہ صرف کریمنل قانون کو چھوڑ‌ کر باقی معاملوں میں بیک ڈیٹ سے چھوٹ دینے کے قانون بنائے جا سکتے ہیں۔  فوٹو کلیئر ہوا؟

کانتا کتھریا، راجستھان کے کانگریس ایم ایل اے تھے۔ آفس آف پرافٹ  پر تقرری ہوئی۔  ہائی کورٹ نے غیرقانونی ٹھہرا دیا۔  ریاستی حکومت قانون لے آئی، اس عہدے کو آفس آف پرافٹ سے باہر کر دیا۔  تب تک سپریم کورٹ میں اپیل ہو گئی، سپریم کورٹ نے منظور بھی کر لیا۔  ایم ایل اے کی رکنیت نہیں گئی۔  ایسے کئی مقدمہ ہیں۔

2006 میں شیلا دیکشت نے 19 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری بنایا۔ آفس آف پرافٹ  کا معاملہ آیا تو قانون بنا کر 14 عہدوں کو آفس آف پرافٹ کی فہرست سے باہر کر دیا۔  کیجریوال نے بھی یہی کیا۔  شیلا کے بل کو صدر کو منظوری مل گئی، کیجریوال کے بل کو منظوری نہیں دی گئی۔

مارچ 2015 میں دہلی میں 21 ایم ایل اے پارلیامانی سکریٹری مقرر کئے جاتے ہیں۔  جون 2015 میں چھتیس گڑھ میں بھی 11 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری مقرر کیا جاتا ہے۔  ان کی بھی تقرری ہائی کورٹ سے غیر قانونی ٹھہرائی جا چکی ہے، جیسےدہلیہائی کورٹ نے دہلیکے ایم ایل اے کی تقرری کو غیر قانونی ٹھہرا دیا۔

چھتیس  گڑھ کے ایم ایل اے کے معاملے میں کوئی فیصلہ کیوں نہیں، کیوں چرچا کیوں نہیں۔  جبکہ دونوں معاملے ایک ہی وقت کے ہیں۔  آپ نے کوئی بحث دیکھی؟  کبھی دیکھیں‌گے بھی نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن بھی اب محلے کی سیاست میں استعمال ہونے لگا ہے۔  ممبروں کو اپنا فائدہ چاہیے، اس لئے یہ کمیشن کے بہانے آفس آف پرافٹ کی پولٹکس ہو رہی ہے۔

مئی 2015 میں رمن سنگھ حکومت نے 11 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری بنا دیا۔  اس کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔  نیو انڈین ایکسپریس میں 1 اگست 2017 کو خبر چھپی ہے کہ چھتیسگڑھ ہائی کورٹ نے تمام پارلیامانی سکریٹریوں کی تقرری منسوخ کر دی ہے کیونکہ ان کی تقرری گورنر کے دستخط سے نہیں ہوئی ہے۔  دہلی میں بھی یہی کہا گیا تھا۔

ہریانہ میں بھی ٓفس آف پرافٹ کا معاملہ آیا۔  کھٹّر حکومت میں ہی۔  پانچ ایم ایل اے پچاس ہزار تنخواہ اور لاکھ روپے سے زیادہ بھتہ لیتے رہے۔  پنجاب ہریانہ کورٹ نے ان کی تقرری غیر قانونی ٹھہرا دی۔  پر ان کی رکنیت تو نہیں گئی۔راجستھان میں بھی دس ایم ایل اے کے پارلیامانی سکریٹری بنائے جانے کا معاملہ چل ہی رہا ہے۔  گزشتہ سال 17 نومبر کو ہائی کورٹ نے وہاں کے چیف سکریٹری کو نوٹس بھیجا ہے۔  ان کو تو ریاستی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں بھی آفس آف پرافٹ کا معاملہ چل رہا ہے۔  وہاں تو 118 ایم ایل اے پر آفس آف پرافٹ لینے کا الزام ہے۔  20 ایم ایل اے کے لئے اتنی جلدی اور 118 ایم ایل اے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں؟  118 ایم ایل اے کے بارے میں خبر گزشتہ سال 27 جون 2017 کے ٹیلی گراف اور ٹائمس آف انڈیا میں چھپی تھی کہ 9 وزیر آفس آف پرافٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔

2016 میں اروناچل پردیش میں جوڑ توڑ سے بی جے پی کی حکومت بنتی ہے۔  ستمبر 2016 میں وزیراعلیٰ پریما کھانڈو 26 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری مقرر کر دیتے ہیں۔  اس کے بعد اگلےسال مئی 2017 میں 5 اور ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری مقرر کر دیتے ہیں۔

اروناچل پردیش میں 31 پارلیامانی سکریٹری ہیں۔  وہ بھی تو چھوٹی ریاست ہے۔  وہاں بھی تو کوٹہ ہوگا کہ کتنے وزیر ہوں‌گے۔  پھر 31 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری کیوں بنایا گیا؟  کیا آفس آف پرافٹ نہیں ہے؟  کیا کسی ٹی وی چینل نے بتایا آپ کو؟

کیا 31 پارلیامانی سکریٹری ہونے چاہیے؟  کیا 21 پارلیامانی سکریٹری ہونے چاہیے؟  جو بھی جواب ہوگا، اس کا پیمانہ تو ایک ہی ہوگا یا الگ الگ ہوگا۔  اروند کیجریوال کی تنقید ہو رہی ہے کہ 21 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری کیوں بنایا؟  مجھے بھی لگتا ہے کہ ان کو نہیں بنانا چاہیے تھا۔  پر کیا کوئی جرم ہوا ہے، اخلاقی یا اصولی  یا آئینی طورپر؟

کیجریوال اگر اصول کی سیاست کر رہے ہیں، اس لئے ان کو 21 ایم ایل اے کو پارلیامانی سکریٹری نہیں بنانا چاہیے تھا تو پھر باقی وزیراعلیٰ اصول کی سیاست نہیں کر رہے ہیں؟  کیا وہ موج کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بنے ہیں اور لالچ دینے کے لئے پارلیامانی سکریٹری کا عہدہ بانٹ رہے ہیں؟

اس لئے آفس آف پرافٹ کا معاملہ بکواس ہے۔  اس کے ذریعے دہلی پر ایک فالتو کا مسئلہ تھوپا گیا ہے۔  اول تو اس نظام اور اس سے ہونے والے قانونی جھگڑا کو ہی ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہیے۔آپ کے اداروں کا تماشہ اڑ رہا ہے۔  آنکھیں کھول‌کر دیکھیے۔  ٹی وی چینلوں کے بھروسے ملک کو مت چھوڑئیے۔  پتا کرتے رہیے۔  دیکھتے رہیے۔  آپ کسی کی سائڈ لیں مگر حقیقت تو دیکھیں۔  یہ بھی تو دیکھیں کہ الیکشن کمیشن کسی کا ٹائپسٹ تو نہیں بن رہا ہے۔