خبریں

عدالت کی حکومت کو صلاح، دلت لفظ کے استعمال سے بچیں 

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک عرضی کے جواب میں کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو خط وکتابت میں دلت لفظ کے استعمال سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ لفظ آئین میں نہیں ہے۔

Court-Hammer-2

گوالیار:مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو اپنے خط وکتابت میں دلت لفظ کا استعمال کرنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس لفظ کا آئین میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔گوالیار کے رہنے والے سماجی کارکن موہن لال ماہور کی رٹ عرضی کا تصفیہ کرتے ہوئے جسٹس سنجے یادو اور جسٹس اشوک کمار جوشی کی عدالتی بنچ نے پچھلے ہفتے کہا کہ اس کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری ملازم اس لفظ کا استعمال نہیں کریں۔

بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں، چونکہ درخواست گزار مرکزی حکومت، ریاستی حکومت کے اہلکاروں کے ذریعے جاری ایسا کوئی دستاویز  رکارڈ میں نہیں لا سکا جہاں کہا گیا ہو کہایس سی ،ایس ٹی کی جگہ دلت لفظ کا استعمال کیا جائے۔  اس لئے ہم کسی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔بنچ نے کہا کہ حالانکہ ہمیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور ا س کے ملازمین‎ کو درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل کے ممبروں کے لئے دلت لفظ کے استعمال سے بچنا چاہیے کیونکہ دلت لفظ کا آئین یا کسی قانون میں ذکر نہیں ملتا۔

درخواست گزار کے وکیل جتیندر شرما نے بتایا کہ عدالت نے 15 جنوری کو یہ فیصلہ سنایا۔