خبریں

ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں کو ضعیفوں کی پروانہیں : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے ناراضگی ظاہر کی کہ گووا، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، جھارکھنڈ، میزورم، مدھیہ پردیش اور یونین ٹیریٹری دمن و دیو اور لکچھدیپ کے وکیل ضعیفوں کی حالت سے متعلق عرضی کی سماعت کے دوران حاضر ہی نہیں ہوئے۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

علامتی فوٹو : رائٹرس

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے ملک میں اولڈ ایج ہوم کی حالت کو لےکر دائر عرضی پر کئی ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں کے ذریعے حلف نامہ داخل نہیں کرنے پر منگل کو ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ واضح ہے کہ حکام کو ضعیفوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کو بتایا گیا کہ 23 ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں نے اپنے جواب داخل کئے ہیں، جبکہمزید11  کو ابھی حلف نامہ داخل کرنے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ ان 11 ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں  نے نہ تو حلف نامہ داخل کئے اور نہ ہی گووا، ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، جھارکھنڈ، میزورم، مدھیہ پردیش اور یونین ٹیریٹری ریاستوں دمن و دیو اور لکچھدیپ کے وکیل ہی سماعت کے دوران حاضر ہوئے۔

بنچ نے آندھر پردیش سمیت ان تمام ریاستوں کو تین ہفتے کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کا آخری موقع دیا۔سپریم کورٹ نے سینئر شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے سینئر وکیل اشونی کمار کی پی آئی ایل پر گزشتہ سال ستمبر میں مختلف ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں سے ہرایک ضلع میں اولڈ ایج ہوم کی حالت کے بارے میں جواب مانگا تھا۔

عرضی پر سماعت کے دوران کمار نے بنچ سے کہا کہ وہ ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں کے حلف ناموں میں دی گئی معلومات کو مرتب کرکے اس کے سامنے پیش کریں‌گے۔بنچ نے کہا کہ وہ مختلف مشوروں پر ‘ نکتہ وار ‘ غور کرے‌گی، کیونکہ کئی ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں کے ایک ہی طرح کے مشورے ہو سکتے ہیں۔  بنچاس عرضی پر اب 22 مارچ کوسماعت کرے‌گی۔

 نیشنل لیگل سروس اتھارٹی کی نومبر، 2016 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ این ایل ایس اے (سینئر شہریوں کو قانونی امداد) اسکیم، 2016 جلد سے جلد نافذ کی جانی چاہیےاور اگر اس میں کسی قسم کی اصلاح کی ضرورت ہو تو حکام کو اس پر غور کرکے اس میں ضروری تبدیلی کرنی چاہیے۔