خبریں

بجٹ 2018 : ’دنیا کی سب سے بڑی‘ ہیلتھ اسکیم کی حقیقت

ہندوستان جیسی بڑی آبادی کے ملک میں بیمہ پر مبنی صحت اسکیم کا کامیاب ماڈل میری نظر میں نہیں آیا ہے۔  یہاں تک کہ ترقی یافتہ اور دولتمند امریکہ کا بیمہ پر مبنی ماڈل بھی دنیا کے کامیاب عوامی صحت ماڈل میں شمار نہیں ہوتا۔

علامتی تصویر : پی ٹی آی

علامتی تصویر : پی ٹی آی

ہم ہندوستانی فطری طورپرہربات میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔  یوروپ اور کئی دوسرےممالک کے سفر میں مجھے بار بار محسوس ہوا کہ ہم لوگ بولنے میں زیادہ تر ملکوں کو شکست دے سکتے ہیں۔  اپنے رہنماؤں کو ہی دیکھ لیجئے، چاہے انتخابی میدان ہو یا پارلیامانی بحث ۔ اپنے ٹی وی چینلوں کو ہی دیکھ لیجئےکسی اہم موضوع پر بحث ہو تو ہماری ٹی وی پیشہ ور اس کو بحث کے بجائے ‘ مہا بحث ‘ کہنا پسند کرتے ہیں۔  انہی کی طرز پر رہنما اپنی ریلیوں کو ‘ مہاریلی ‘ کہنے لگے ہیں۔  بالکل اسی انداز میں گزشتہ جمعرات کو ہماری حکومت نے دعویٰ کیا کہ سالانہ بجٹ میں جس نئے صحت پلانکا اعلان ہوا ہے، وہ ‘ دنیا کی سب سے بڑی اسکیم ‘ ہے۔  میرا ارادہ اپنی حکومت کے دعوے کو چیلنج دینا نہیں ہے۔  ویسے بھی ہندوستان  آبادی کے حساب سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔  اگر ہمارے یہاں کسی اسکیم کے تحت 10 کروڑ فیملی کے تقریباً 50 کروڑ لوگوں کو مستفید ہونے کاموقع دیاجا سکا تو بلاشبہ وہ دنیا کی سب سے بڑی اسکیموں میں ایک مانی جا سکتی ہے۔  لیکن کسی اسکیم کی بلندی، عظمت یا اس کے مقصد کی تشخیص اس بات سے نہیں ہو سکتی کہ اس کے اعلان کے وقت اس کے اینکر کیاکیا دعوے کر رہے ہیں، بلکہ اس کی تشخیص اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ اصل میں اس سے استفادہ کتنے لوگوں نے کیا ، کتنی مستعدی اور قابلیت کے ساتھ اس کی عمل آوری ہوئی! اس طرح دیکھیں تو حکومت کی ‘ دنیا کی سب سے بڑی صحت اسکیم ‘ کے مقاصد، اس کو نافذ کرنے کا طریقہ اور اس کے لئے ضروری سرمایہ کاری  کے حقائق پر ابھی سے سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔

میڈیا بول : بجٹ میں ہیلتھ انشورنس کا سچ

مرکزی بجٹ میں اس کو بیمہ مبنی ایسی اسکیم کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، جس کو نیشنل ہیلتھ پروٹیکشن اسکیم (NHPS) کے تحت شروع کیا جا رہا ہے۔  اہتماموں کے حساب سے اس اسکیم پر 50 لاکھ کروڑ روپے کا خرچ آئےگا۔  لیکن بجٹ میں اس طرح کی اسکیموں کے لئے محض 2000 کروڑ کا اہتمام کیا گیا ہے۔  اس سال کے بجٹ میں ملک کے مکمل صحت کے لئے کل رقم 56 226 کروڑ طے کی گئی ہے۔  حکومت نے کہیں اس بات کی وضاحت اورتفصیل نہیں دی ہے کہ 50 لاکھ کروڑ کی بڑی رقم کا انتظام وہ کیسے کرے‌گی! یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ بیمہ پر مبنی اس اسکیم کے لئے مرکزی حکومت ریاستوں سے بھی تعاون لے سکتی ہے۔  ابھی اس بارے میں کوئیپختہ حکمت عملی نہیں طے کی گئی ہے۔  ڈیڑھ لاکھ ‘ ویلنیس سینٹر ‘ کھولنے کی بات کی جا رہی ہے۔  اس کے لئے بھی پختہ خاکہ سامنے نہیں آیا ہے کہ جس ملک کی بڑی آبادی کیزیادہ تر ریاستوں میں پرائمری ہیلتھ سینٹر، ضلع ہسپتال اور ریفرل ہسپتال انتہائی بدترین حالات کے شکار ہیں، جہاں فی شخص،ڈاکٹر کا اوسط دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک کے مقابلے کم ہے اور جہاں شعبہ صحت کی نجی کاری نے عام آدمی کے سامنے سخت بحران پیدا کر دیا ہے، وہاں حکومت اچانک اتنی بڑی تعداد میں ‘ ویلنیس سینٹر ‘ کیسے کھولے‌گی اور کیسے چلائے‌گی! اگر یہ ویلنیس سینٹر صرف نجی شعبے میں کھولے جانے ہیں تو یہ کیسے عام لوگوں کی ضروریات کو پوری کریں‌گے؟  کیا  تب ‘ دنیا کی سب سے بڑی صحت اسکیم ‘ کی زیادہ تر رقم  نجی شعبے اور کچھ بیمہ کمپنیوں کے حوالے نہیں ہو جائے‌گی؟

دنیا میں بیمہ مبنی صحت اسکیموں کا تھوڑا بہت فائدہ اگر کہیں ملتا ہے، تو وہ عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں۔  کسی  نصف ترقی یا ترقی پذیر ممالک، اور وہ بھی ہندوستان جیسی بڑی آبادی کے ملک میں بیمہ پر مبنی صحت اسکیم کا کامیاب ماڈل میری نظر میں نہیں آیا ہے۔  یہاں تک کہ ترقی یافتہ اور دولتمند امریکہ کا بیمہ پر مبنی ماڈل بھی دنیا کے کامیاب عوامی صحت ماڈل میں شمار نہیں ہوتا۔  اس سے منسلک دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک ایسا بڑا ملک جو عوامی صحت پر لمبے وقت سے اپنی جی ڈی پی کا محض 1.3 فیصدی خرچ کرتا آ رہا ہو، وہ صرف کچھ بیمہ پر مبنی اسکیموں سے تمام غریب لوگوں کو صحت کافائدہ کیسے مہیا کرا سکتی ہے؟  بیمہ کے تحت علاج میں کئی بیماری شمار تک نہیں ہوتے۔  ترقی یافتہ ممالک، مثال کے لئے کناڈا جہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر نافذ ہے، عوامی صحت پر جی ڈی پی کا 10.2 فیصدی خرچ ہوتا ہے۔  امریکہ میں 14فیصدی سے کچھ اوپر، سویٹزرلینڈ 11.1 فیصدی، ناروے 8.9 فیصدی، نیدرلینڈ  11.1فیصدی اور سویڈین 11فیصدی۔  ان کے مقابلےابھرتی ہوئی معیشت کے ساتھ نسبتاً طاقتور ‘برکس’ممالک یعنی برازیل،روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ میں عوامی صحت پر سب سے کم خرچ ہندوستان میں ہوتا ہے۔ سارک ممالک میں افغانستان، مالدیپ اور نیپال بھی ہندوستان کے مقابلے اپنی اپنی جی ڈی پی کا زیادہ فیصد عوامی صحت پر خرچ‌کر رہے ہیں۔

دنیا کے زیادہ تر عوامی صحت کے ماہرین مانتے ہیں کہ ہندوستان جیسی بڑی آبادی اور ترقی پذیر ملک میں بیمہ پر مبنی اسکیم لوگوں کو اصل معانی میں صحت نہیں مہیا کرا سکتی ہے۔  اس کے لئے ہندوستان کےمنصوبہ سازوںکو پرائمری ہیلتھ سینٹر،ریفرل ہسپتالوں، ضلع ہسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور ایمس جیسے بڑے اداروں کو مستحکم بنانا ہوگا۔  صحت کے شعبے میں پرائیویٹ سرمایہ کاری کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ، ڈاکٹروں اورنرسوں کا نیٹ ورک بڑھانا ہوگا۔  عوامی صحت پر ہندوستان کو اپنی جی ڈی پی میں 1.3 فیصدی کے خرچ کو بڑھاکر کم سے کم 6 سے 7 فیصدی کرنا ہوگا۔  ہماری حکومت اور منصوبہ سازوں کو پتہ نہیں کیوں بیمہ مبنی ‘ نجی-سرکاری کوآپریٹو  ‘ کے پٹے پٹائے فارمولے پر ہزاروں کروڑ کی رقم برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں! اس کا فائدہ امید اور مقصد کے برعکس نہ صرف کم لوگوں تک پہنچے‌گا، بلکہ اس رقم کی بندربانٹ بھی آسان رہے‌گی۔