خبریں

راجستھان : سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کی مانگ پر اسمبلی گھیرنے آ رہے کسانوں کو روکا

جے پور ضلع میں کسانوں کی آمد ورفت روکنے کے لئے اضافی پولیس دستہ تعینات۔  میڈیا رپورٹ کے مطابق منگل کو 84 کسان لیڈروں کی گرفتاری سے کسانوں میں غصہ ہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات سمیت 11 نکاتی مانگوں کو لےکر اکھل بھارتیہ کسان مہاسبھا اور اس سے جڑی تنظیموں کے اعلان پر جمعرات کو راجستھان اسمبلی کا گھیراؤ کرنے جے پور آ رہے سیکر کے کسانوں کو پولیسنے راستے میں روک دیا۔

پولیسانتظامیہ نے راجستھان کے سیکر ضلع سے جے پور کوچ‌ کر رہے کسانوں کو جے پور پہنچنے سے پہلے ہی بیچ راستے میں روک دیا۔  ضلع میں اضافی پولیسدستہ تعینات کر دیا گیا ہے۔  اس دوران تمام گاڑیوں کی تفتیش کی جارہی ہے۔کسان مہاسبھا کے قومی صدر امرارام سمیت کئی کسان رہنماؤں نے دو دن پہلے اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے لئے سیکڑوں کسانوں کے ساتھ جے پور کوچ کیا تھا۔  لیکن ان کو جے پور سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، جس کے وجہ سے کسان رہنماؤں اور کسانوں نے بدھ کو سیکر ضلع صدر دفتر پر مظاہرہ کیا تھا۔

کسانوں کو جے پور پہنچنے سے روکنے کے لئے انتظامیہ اور پولیسنے ان کو راستے میں ہی روک دیا ہے۔  سرحدوں پر اضافی پولیس دستہ تعینات کر تمام گاڑیوں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔حکومت اس بار پوری چوکسی برت رہی ہے تاکہ کوئی بڑی تحریک کھڑی نہ ہو سکے۔  وہیں کسان رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد منگل کو سیکر میں بند بلایا گیا تھا۔  پولیسنے کسان رہنماؤں کی گرفتاری کے لئے رات بھر چھاپےماری بھی کی ہے۔

کسان رہنماؤں نے بتایا کہ کسان الگ الگ گروہ میں چھوٹی گاڑیوں سے جے پور روانہ ہو چکے ہیں۔  اس میں اجیت گڑھ، دھود، داتارام گڑھ، کھنڈیلا، لچھمن گڑھ سمیت سیکر ضلع کے کسان جے پور کے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔  وہ گاؤں کے راستے جے پور میں داخل ہوں‌گے۔

کسان رہنماؤں نے بتایا کہ پولیس ان کو جہاں روکے‌گی، وہ وہیں جام لگا دیں‌گے۔  فی الحال ابھی تک اس طرح جام لگانے کی کہیں سے بھی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔  وہیں، پولیستمام گاڑیوں کی جانچ‌کر رہی ہے۔دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق، 84 کسان رہنماؤں کو منگل کو گرفتار کر جیلوں میں ڈالے جانے سے کسانوں میں غصہ ہے۔  احتجاج کےطور پرریاست بھر میں بدھ کو بند اور جلسے ہوئے۔  سیکر اور آس پاس کے قصبے بند رہے، 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

امرارام، سابق ایم ایل اے پیما رام سمیت منگل کو پکڑے گئے 84 کسان رہنماؤں کو بدھ کو 28 فروری تک جیل بھیج دیا ہے۔  جس کی مخالفت میں کرولی میں بھی ایم ایل اے کروڑی لال مینا نے جلسہ کیا۔ دوسری طرف جھونجھنو کے گڑھا میں کسان سبھا ضلع صدراور ذیلی ضلع صدر ودیادھر گل کو پولیسنے گرفتار کیا۔  چوروں سے بھی 10 لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔غور طلب ہے کہ کسانوں نے بدھ کو اعلان کیا تھی کہ وہ جمعرات کو اسمبلی کا گھیراؤ کریں‌گے۔

وہیں، دہلی کی عوامی تحریکوں کی وفاقی تنظیم ،این اے پی ایم،جس میں میدھا پاٹکر، ارونا رائے، نِکھل ڈے، بنائک سین جیسے سماجی کارکن شامل ہیں، نے بھی تحریک کو اپنی حمایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ راجستھان حکومت کو 13 ستمبر 2017 کو اکھل بھارتیہ کسان مہاسبھا کے ساتھ ہوئے سمجھوتہ کو نافذ کرنا چاہیے اور گرفتار تمام رہنماؤں کو فوراً رہا کرنا چاہیے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)