ادبستان

عالمی یوم خواتین پر خاص:اس ماں کے نام ایک انتساب جو گمنام ہے…

ویمینس ڈے ‘ کے موقع پر اگر ہم ایسی ایک ماں کو سلام کریں ،جس کا نام ابتک میں نے نہیں بتایا، اور آپ نے بھی نہیں  پوچھا، تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ ہیں تو سب مائیں ایک جیسی ہی۔ ماں سے اونچا درجہ اور کس نام میں ہے؟

ManishGaekwad

 ایک بار جب میری ماں کولکاتہ سے ممبئی مجھ سے ملنے آئی، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ؛یہ کمپیوٹرانٹرنیٹ پر کتنے سارے لوگوں کی تصویریں آتی ہیں، تو نے میری فوٹو کیوں نہیں لگائی؟  ان کو لگا کہ میں ان سے شرمندہ ہو کر ان کی تصویر اپنے سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کیا۔  میں نے اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا، اور کیوں کہ مجھے سیلفی لینے میں زیادہ کچھ انٹریسٹ نہیں ہے تو وہ بات بنا کسی پروف کے ٹل گئی۔

ماں نے گن چن‌ کر کچھ ہی فوٹو کے لئے پوز کیا ہے۔  ان کی زندگی کا سب سے پہلا فوٹو شوٹ شاید تب کا ہے جب ان کی شادی بچپن میں کرا دی گئی تھی۔  تب ان کو شاید یہ ہوش بھی نہیں تھا کی وہ ایک شادی شدہ عورت ہیں۔اس فوٹو کو دیکھ‌کر لگتا ہے کہ  ان کی عمر 10 سال یا اس سے بھی کم ہے۔  اس فوٹو میں ان کے بغل میں ایک نوجوان آدمی کھڑا ہے۔  وہ فوٹوگراف ایک اسٹوڈیو میں لیا گیا ہے، ایک ثبوت کے طور پر کے وہ شادی جائز ہے، حالانکہ اگر صحیح نظر سے دیکھا جائے تو وہ فوٹوگراف ایک ثبوت ہے کہ  اس طریقے کی شادی قانوناً جرم ہے۔  ماں کی مانگ میں سیندور، گلے میں منگل سوتر، اور آنکھوں میں ایک جانا پہچانا خالی پن ہے-ایک بچی  کا جو یہ پوچھ نہیں سکتی کے وہ یہاں کیا کر رہی ہے، پوچھ بھی کیسے سکتی ہے جب کوئی اپنا اس کے پاس ہے ہی نہیں۔

پونے کے کنجربھات سماج میں جہاں آج بھی بیٹیاں مصیبت کی جڑ مانی جاتی ہیں، میری ماں ایک ایسی فیملی میں جنمی جس گھر میں اناج کے دانے سے زیادہ بیٹیاں پیدا ہو گئیں۔  بیٹیوں کی لائن اس امید میں لگ گئی کے ایک بیٹے کی خوشی مل جائے تو بچے بنانے والی مشین یعنی کہ میری نانی سانس لے سکے۔

جب کھانے کو نوالہ کم پڑنے لگا تو فوراً سب کی شادی کرا دی گئی۔  ماں کا بنڑا (سماج کی بھاشا میں دولہا) آگرہ سے تھا۔  وہ آگرہ کا تاج محل دکھانے سے رہا، اپنے گھر پر کام کروا کر کچھ سالوں تک ماں کو کھٹایا اور خوب ستایا۔  اس دور کے بارے میں جتنا کم کہا جائے اتنا کہنا بھی سمجھ لیجئے مشکل ہے دوہرانا۔

آگرہ میں جب ماں جوان ہوئی تو ان کی ساس نے ان کو کولکاتہ کے ایک کوٹھے پر بٹھا دیا۔  آگرہ کی کال کوٹھری سے کولکاتہ کی رنگین گلیاں ہی صحیح۔  ساس اور بیٹے کا دھندا چھوٹی لڑکیوں کو بیاہ‌ کر سوناگاچھی میں بیچنے کا تھا۔  پر ماں کی قسمت اچھی نکلی کہ  وہ نابالغ نہیں رہی۔  کوٹھے پر ان کو ناچنا اور گانا سکھایا گیا تاکہ وہ مجرا کر سکیں۔

اپنی قسمت سے لڑنے کے  بجائے ماں نے اس کو گلے لگا لیا۔  جس نے کبھی اسکول نہ دیکھا ہو، جس نے اپنے نام کے حرف تک نہ سمجھا ہو، وہ عورت اگر اپنی خواہش کے خلاف ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں سے نکلنے کا کوئی سوراخ نہ دکھے، تو وہ وہاں سے بھاگ‌کر کرے‌گی بھی کیا؟  کیا آسان ہے اس کے لئے ایک عزت کی روٹی کمانا؟  کیا کنجربھات سماج خود اس کو عزّت دےکر ایک نئے سرے سے دوسرا موقع دے‌گا؟  کیا لوگ اس کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں‌گے؟

پر ایسا نہ  ہوکر بھی ماں نے اپنے سارے فیصلے خود کئے۔  اپنی عزّت اور اپنی فیملی والوں کی عزّت کے لئے۔  انہوں نے کوٹھے پر کام کرکے اپنی فیملی والوں کو اس ماحول سے دور رکھا،اپنے سے چھوٹی بہنوں کو پڑھایا، ان کی شادی کرا کر ان کو کوٹھے سے بچایا۔  یہاں تک کہ  ان کا چھوٹا بھائی، جو نو بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا، اس کو پڑھایا، لکھایا، اس کی شادی کروا کر گھر بسایا۔  یہ سب کچھ ایک ایسی عورت نے کیا جو ان سب خوشیوں سے محروم تھی-اور شاید اسی وجہ سے وہ اس کے معنی اور اہمیت سمجھتی ہے۔

Manish_Gaekawad

1980 میں جب ہم کولکاتہ کے بؤبازار کے کوٹھے میں اور ممبئی میں کانگریس ہاؤس کے کوٹھے میں رہا کرتے تھے تب وہاں کے کوٹھوں کا ماحول ایسا تھا جہاں غزلیں گائی جاتی تھیں، جہاں کتھک ناچ مشہور ہوا کرتا تھا، جہاں غنڈےموالی کبھی کبھار شرافت سے پیش آتے تھے۔  اس ماحول کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، پر میرے لئے وہ اس لئے برا نہیں تھا کیونکہ میں نے کوئی اور ماحول دیکھا ہی نہیں تھا۔  کیسا ہوگا وہ ماحول جہاں ہر چیز صحیح ہو؟  مجھے جو دکھا وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے جب میں نے کچھ صحیح دیکھا ہی نہ ہو؟  جو میرے گھر میں تھا پھر وہ غلط کیسے ہو سکتا تھا؟

میرا ایسا سوچنا صحیح اس لئے بھی تھا کیونکہ تعلیم سے ہی ایک بچّے کا دماغ بڑھتا ہے اور تب ہی اس میں سمجھ آتی ہے-میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ایسا کہنا میرے لئے آسان ہے-کیونکہ میں نے خودسے سمجھ لینا آسان بنایا-یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔  میرے ساتھ اور بھی بچّے تھے کوٹھے میں ، پر سب کا نصیب ایک جیسا تو نہیں ہوتا ہے-خود بنانا پڑتا ہے-جو شاید میں نے تب کیا جب ماں نے مجھے دارجلنگ کے ایک بورڈنگ اسکول میں داخلہ دلا کر مجھے تعلیم یافتہ کیا۔  جس وجہ سے مجھے دونوں دنیا کو سمجھنے کی عقل ملی۔  اسکول میں پڑھائی کی، اور گھر پر پڑھائی پر ہی دھیان دیا۔  جو کوٹھے کے دوسرے بچّے تعلیم کے باوجود نہیں کر سکے۔  پر اس میں ان کی اتنی ہی غلطی ہے جتنا کہ سماج میں جہاں ان کا کوئی مول نہیں۔  شاید میں نے بنا کچھ سوچےسمجھے اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کی صرف اپنی تعلیم پر دھیان دےکر۔

گھر میں طبلہ، باجا، گھنگھرو، یہ سب دیکھ‌کر، سن‌ کر، مجھے بہت شوق تھا کہ میں بھی ناچوں، گاؤں، پر ماں کو مجھ سے ایک ہی امید تھی کے میں پڑھ لکھ کر ایک اچھا انسان بنوں۔  بڑھتےبڑھتے پڑھائی لکھائی میں اتنا کچھ خاص تو نہیں نکلا، کالج تک تو بور ہو گیا تھا پڑھائی سے، مارکس بُرے آنے لگے، پر تب تک خود پر اعتماد تھا کہ انگریزی فت فٹ بول لیتا ہوں، اور لکھنے کا بہت شوق ہے۔  بچپن سے میری ایک ہی خواہش تھی کہ میں ایک دن ایک کتاب لکھوں۔

وہ خواہش آج پوری ہو گئی ہے۔  میں کئی سالوں سے ایک صحافی کے طور پرکام  کرتا آیا ہوں۔  مڈ ڈے نیوز پیپر، اسکرال ویب سائٹ، اور دی ہندو نیوز پیپر کے لئے رپورٹنگ کرتا آیا ہوں۔  اگلے مہینے میرا ٹریول-فکشن ناول ” لین ڈیز (Lean Days) ” چھپ رہا ہے- مشہور پبلشر ہرپرکالنس سے۔

یہ سب اس لئے ممکن ہوا کیونکہ میری ماں نے مجھے پانچ سال کی عمر میں بورڈنگ اسکول میں داخلہ کروایا، جہاں میری فرسٹ لینگویج انگلش رہی۔  انگلش محض ایک ایسی زبان سے جس سے ہم پوری دنیا میں اپنی بات پہنچا سکتے ہیں، اور جس کی وجہ سے ماں کی فوٹو بھی انٹرنیٹ پر چھپ سکتی ہے۔

بہر حال، ماں اور میں، ہم دونوں ہی اپنی بات کو پیپر / ویب سائٹ کے ذریعے آپ سب تک دیگر زبانوں (ہندی، مراٹھی، اردو) میں بھی پہنچا سکتے ہیں۔  یہ ضروری نہیں کی ہم سب کی زبان ایک ہی ہو، کہانیاں ہم سب کی مِل جُل کر ایک جیسی ہی ہوتی ہیں ۔  فرق صرف سمجھنے میں ہوتا ہے، فرق صرف انسانیت سے ہوتا ہے۔

ویمینس ڈے ‘ کے موقع پر اگر ہم ایسی ایک ماں کو سلام کریں (جس کا نام ابتک میں نے نہیں بتایا، اور آپ نے بھی نہیں  پوچھا)، تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ ہیں تو سب مائیں ایک جیسی ہی۔ ماں سے اونچا درجہ اور کس نام میں ہے؟