فکر و نظر

گمنام مجاہد آزادی شیرعلی خاںؔ آفریدی

شیر علی قید ی تھا لیکن کام ہیرو کا کرگیا مگر ہائے افسوس ! اسے بھلانے میں ہم نے بھی انگریزوں کی تقلید کی ۔

sher ali afridi

قوموں کے عروج وزوال کی شناخت ایسے حریت پسندوں سے ہوتی ہے جوملک وقوم کی خاطر اپنی جان نثار کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ایسے ہی ایک عظیم مرد مجاہد کا نام ہے شیر علی خاں آفریدی جن کی قربانی تاریخ ہند میں سنہری حرفوں میں لکھے جانے کی حامل ہے ۔

برطانوی مؤرخ نے تو شہید شیر علی خاں آفریدی کا عظیم کارنامہ تاریخ سے مٹانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وطن عزیز کی آزادی کے بعد حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہوئے انڈین مؤرخین نے بھی ان کی قربانی پرپردہ ڈالنا ہی مناسب سمجھا۔‘شیر علی ؔ خاں کی  شہادت کے متعلق انگریزی حکام نے اس بات کا عزم کر رکھا تھا کہ اس سرفروشِ وطن کی قربانی کو جدو جہد آزادی ہند میں کسی بھی قیمت پر درج نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ایک مشہور تاریخ داں سر ولیم ولسن ہنٹرؔ (Sir William Wilson Hunter)نے شیرعلی ؔ کے بارے میں ان جذبات کا اظہار کا کیا ہے؛

’’اس (شیر علی )کا،اس کے گاؤں اور نہ ہی اس برادری کانام میری کتاب میں جگہ پائے گا ۔‘‘
اس عظیم مجاہد آزادی کی بے لوث قربانی کی شہادت دیتا ماؤنٹ ہوپ ٹاون (Mount Hopetown)کا یہ پتھر ؛
’’یہ وہی جگہ ہے جہاں 8فروری 1872 کو وائسرائے لارڈ مایو ایک سزا یافتہ قیدی شیرعلی خاں کے حملے کا شکار ہوئے اور اس حملہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ شیرعلی کو11مارچ1872کو وائپر لیند میں پھانسی دی گئی ۔‘‘

شیر علیؔ ولد’’ ولی‘‘ساکن تیراہ جمرود (ضلع پیشاور) ۔ وہ کمشنر پشاور کے سوار اردلیوں میں بھرتی ہوئے۔ان کے خاندان میں مدت سے رنجش چلی آرہی تھی ۔ انجام کار اپنے حریف کے قتل کے الزام میں اسے 22؍اپریل1867ء کو کمشنر پشاور نے پھانسی کی سزا سنائی۔ تاہم شیرعلی نے متعد د انگریز افسران کے ماتحت خدمات انجام دی تھی‘‘لہذا’’سزائے موت کالاپانی میں بدل دی گئی‘‘ اور انہیں مئی 1869ء جز ائرانڈمان نکوبارمیں لایا گیا۔ان کا قیدی نمبر15557 تھالیکن چونکہ دوران قید ان کا عام چلن اچھا تھا چنانچہ انہیں ٹکٹ چھٹی قیدی دیا گیاجس سے انہیں بناروک ٹوک تمام جزیروں میں آمدورفت کی سہولت حاصل ہو گئی اور انہیں ہاپ ٹاؤن بھیج دیا گیا ۔

یہاں انہیں اپنے گھر سے ایک خط موصول ہوا جس میں مسٹر نارمنؔ (چیف جسٹس کلکتہ ہائی کورٹ) کے قاتل عبداللہ پنجابیؔ کو تختہ دار پر چٹر ھانے کی خبرتھی۔ جسے پڑھنے کے بعد ان کے رگوں میں بہنے والے لہو میں بھی حب الوطنی کا طوفان جوش مارنے لگا ا اور مادر ہند کی خاطر کچھ کر گزرنے کی خواہش بیدار ہوئی تو انہو ں نے اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لئے کسی ’’یورپی اعلیٰ عہد ے دار کو قتل کرنے کا ‘‘مصمم ارادہ کر لیا جو وائسرائے کے قتل کی شکل میں منظر عا م پر آیا ۔شیر علی خاںؔ نے دوران قید’تین برس ‘ تک’’ اکثرروزے ر کھے ،تنخواہ اورمزدوری سے جوکچھ بچتا ،مہینے دومہینے کے بعد اس کا کھانا پکا کر مسکینوں میں تقسیم کردیتا‘انہی نیک خوبیوں سے متاثر ہوکر جیل حکام نے ان کو بارک میں حجامت کاکام کرنے کی اجازت دے دی۔1869ء میں جب لارڈمایو گورنر جنرل اوروائسر اے منصب پر فائز ہوئے ‘ توانہوں نے’’میجر سٹوارٹؔ کو اکتوبر1871ء میں انڈمان کے چیف کمشنر‘ کے عہدے پر فائزکیا گیا ۔جو آج کے سب سے مذموم قید خانہ گوانتانا سے بھی زیادہ اذیت ناک جگہ تھی ۔

چیف کمشنر نے صرف چھ ماہ کی قلیل مدّت میں ہی قیدیوں کو ایسی دل سوز اذیتیں دیں  جن کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ اسٹوارٹ ؔ نے اپنے انتظامات کے معائنہ کرنے کے لئے لارڈمایوؔ سے بارہا درخواست کی ۔ جسے قبول کرتے ہوئے ’۲۴ جنوری ۱1872 ء کو کلکتہ سے برما ہوتے ہوئے8 فروری صبح8 بجے پورٹ بلیر‘ر اترے ۔ چیف کمشنر نے ان کی حفاظت کے پیش نظر کوئی کسرنہ اٹھاکر رکھی ،پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کرتے ہوئے اتنے سخت حفاظتی اقدام کئے کہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مارسکا مگر موت کے آگے کس کا زور چلا ہے۔ادھروائسرائے کا پرتپاک اور والہانہ استقبال 21توپوں کی سلامی سے کیا جارہاتھا ۔ ادھر شیرعلی خاں کے دل میں آزادی کالاوہ ابل رہا تھا ۔ وہ تو اسی دن کا بے صبری سے منتظرتھا،’’ اس نے سبزی کاٹنے والی چھری کو پتھرپر مزید تیز کیا ‘‘اور اپنے شکار کا ایک بھوکے شیر کی مانند اننظار کرنے لگا۔

اسی دوران ان کے دل میں ماؤنٹ ہیریٹMount Harriet) (دیکھنے کا بھی خیال آیا یعنی مقصد معائنہ سیاحت میں بدل گیا۔لیکن پرائیوٹ سکریٹری اور چیف کمشنر نے مناسب وقت ہونے کے سبب ان سے بارہا التماس کیا کہ وہ آج وہا ں نہ جائیں بلکہ اگلے روز سیر کریں مگر ان کی ضد کے آگے کسی کی ایک نہ چلی البتہ ان کے پہنچنے سے قبل مزید ایک اور دستہ روانہ کردیا گیا۔انہوں نے اس حسین وادی میں تقریباً پندرہ منٹ گزارے، غروب آفتاب کی رنگیں شفق اور ساحل سے ٹکراتی ہوئی موجوں کی دلکش آمیزش نے ان کو فریفتہ کر دیا۔

وائسرائے اس بات سے بے بہرہ تھے کہ یہ دلفریب شام ان کی زندگی کی آخری شب میں تبدیل ہونے والی ہے ۔ لگ بھگ شام 7بجے وائسرائے واپسی کے لئے پہاڑی سے اترے ، آفتاب اپنا سفر تمام کرچکا تھا اور فضا تاریکی کی بسیط چادراوڑھ چکی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر علی خاںؔ نے نگاہ بچتے ہی اپنے شکار کو دبوچ لیا ۔ اچانک لوگوں نے لارڈ مایوؔ کو ایک شخص کی گرفت میں دیکھاجب تک ان کا محافظ عملہ حرکت میں آتا تب تک شیر علی خاںؔ مثل شیر اپنا کام انجام دے چکا تھا۔ وائسرائے کو چھری کے دو زخم ‘لگے اور سمندر میں گر پڑے مگر انہوں نے اپنے پورے ہوش و حواس کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا :کچھ لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا ہے لیکن میں ٹھیک ہوں زیادہ چوٹ نہیں لگی ۔

وائسراے کو سمندر سے نکال کر کنارے لایا گیااور پاس کھڑی ڈیلے گاڑی پر بٹھا دیا گیا جو پل پر کھڑی تھی۔مشعلیں دوبارہ روشن کی گئیں۔وائسراے کو سمندر سے نکال کر کنارے لایا گیااور پاس کھڑی ڈیلے گاڑی پر بٹھا دیا گیا جو پل پر کھڑی تھی۔وہ ایک دو منٹ تک چپ چاپ بیٹھے رہے۔اس وقت دیکھاکہ ان کی پشت پر کوٹ کٹ کر ایک چھید ہوگیاجس میں سے پرنالے کی طرح خون بہتاہے۔اسے رومالوں سے بند کرنے کی کوشش کی گئی پھر ان کے پاؤں لڑکھڑائے اور پیچھے کی طرف گر پڑے۔ آہستہ سے کہا ’’میرا سر اوپر اٹھاؤ ‘‘ساتھ ہی ختم ہوگئے۔

اس ضمن میں یہ بات قابل غورہے کہ1856 ء تا1947 ء کے درمیان برٹش حکومت کے 20؍گورنرجنرل ؍وائسراے میں سے لارڈ مایوؔ کا ہی اپنے عہدے پر رہتے ہوئے قتل ہوا ۔وائسرائے کی لاش کو ان کے جنگی جہاز ’’گلاسکو ‘‘(H.M.S.Frigate Glasgow) پر ہی سر کاری اعزاز دیا گیااورمقدمہ کی سماعت میجر جنرل اسٹورٹؔ فاسٹ ٹریک کو رٹ نے اگلے روز اسی جنگی جہاز پر شروع کی۔انگریزحاکموں کو یقین نہیں تھا کہ شیر علیؔ تنہا اس واردات کو انجام دے سکتاہے بلکہ ان کے خیال میں اس کے پیچھے کو ئی گہری سازش کارفرماہے۔

انگریز حکام نے شیر علیؔ سے دریافت کیا کہ اس نے اتنا بڑ ا کام کس کے اشارے پرکیا اور اس سازش میں کون کون افراد اس کے معاون تھے ۔ جذبۂ آزادی کے نشہ سے سرشار اس جر ی مجاہد نے شیر کی طرح گرجتے ہوئے کہا :’’ میں نے خدا کے حکم سے کیا ہے خدامیرا شریک ہے۔‘‘

مورخہ 18؍ فروری 1872ء شیرعلی خاں آفریدی کو سزائے موت سنائی گئی اور 20؍فروری 1872تحقیقات ضابطہ منظوری کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔11؍ مارچ1872ء کو اس عظیم مجاہد آزادی نے وائپر لینڈ پر تختہ دار ہونے سے قبل انگریزی حکام سے جس انداز میں خطاب کیا۔ ان کی شجاعت و دلیری اور فداکاری کا جذبہ اپنی تمام حدود پارکرتانظر آتاہے’’بھائیوں میں نے تمہارے دشمن کو مار ڈالا اور تم گواہ رہنا میں مسلمان ہوں‘۔پھر کلمہ پڑھنے لگا اور کلمہ پڑھتے پڑھتے اس کی روح پرواز ہوگئی۔شیر علی قید ی تھا لیکن کام ہیرو کا کرگیا مگر ہائے افسوس ! اسے بھلانے میں ہم نے بھی انگریزوں کی تقلید کی ۔

  • Naushad Ali Ansari

    Very informative.thanks