خبریں

اپوزیشن کے سخت تیور برقرار، پارلیمنٹ میں چھٹے دن بھی نہیں ہوسکا کوئی کام

اسپیکر سمترا مہاجن نے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع کی تیلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دےئے جانے ، اے آئی اے ڈی ایم کے رکن کاویری آبی تنازعہ معاملہ ، تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن ریاست میں ریزرویشن کا کوٹہ بڑھانے اور کانگریس رکن بینک گھپلہ کے معاملہ میں ہنگامہ کرنے لگے ۔

فوٹو: رائٹرز

فوٹو: رائٹرز

نئی دہلی: کانگریس اور چند دیگر اپوزیشن جماعتوں اور حکمرا ں این ڈی اے کی ایک حلیف جماعت نے سرکاری سیکٹر کے بینکوں میں گھپلہ دارالحکومت میں سیلنگ، کاویری مینیجمنٹ بورڈکے قیام اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے سے متعلق معاملات کے سلسلے میں آج بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں چھٹے روز بھی کوئی کام نہیں ہو سکا ۔دونوں ایوانوں میں کارروائی ایک بار ملتوی کرنے کے بعد پورے دن کے لئے ملتوی کردی گئی۔امور خزانہ کے وزیر مملکت پرتاپ شکلا نے لوک سبھا میں شور شرابہ کے دوران ہی چٹ فنڈ ترمیمی بل 2018 اور بھگوڑا اقتصادی جرائم بل 2018پیش کیا ۔

اراکین کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی پہلے بار ہ بجے اور پھر دن بھر کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔اسپیکر سمترا مہاجن نے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع کی تیلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دےئے جانے ، اے آئی اے ڈی ایم کے رکن کاویری آبی تنازعہ معاملہ ، تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن ریاست میں ریزرویشن کا کوٹہ بڑھانے اور کانگریس رکن بینک گھپلہ کے معاملہ میں ہنگامہ کرنے لگے ۔ہنگامہ کررہے اراکین تختیاں اور نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کی کرسی کے سامنے آگئے۔

ہنگامہ کے درمیان اسپیکر نے شور و غل کررہے اراکین سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن زبردست شور و غل کی وجہ سے ان کی آواز سنائی نہیں دی۔شوروغل کے درمیان اسپیکر نے تقریباََ تین منٹ تک وقفہ سوال جاری رکھا لیکن ہنگامہ میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اس لئے محترمہ مہاجن نے ایوا ن کی کارروائی 12بجے تک ملتوی کردی۔بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلہ میں اپوزیشن جماعتوں کے زبردست ہنگامہ کی وجہ سے لوک سبھا میں وقفہ سوالات مسلسل چھٹے دن نہیں چل سکا۔

دوسری طرف راجیہ سبھا میں بھی ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی شروع کردی۔ چےئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے اراکین کو پرسکون رہنے کی تلقین کی لیکن جب ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں کے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔دو بجے جیسے ہی ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے ایوان کی کارروائی شروع کرنی چاہی ترنمول کانگریس کے سدھیندو شیکھر رائے نے ضابطہ کا سوال اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران اے آئی اے ڈی ایم کے، ڈی ایم کے،عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے ا راکین نشست کے قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے۔آپ کے اراکین بلند آواز میں دارالحکومت میں سیلنگ کا مسئلہ اٹھا رہے تھے جبکہ دیگر اراکین اپنے ہاتھوں میں پوسٹر لئے ہوئے تھے۔ ڈپٹی چیئرمین نے ارکان سے اپنی جگہوں پر واپس جانے کی اپیل کی لیکن جب انہوں نے اپنی اپیل کا کوئی اثر نہیں دیکھا تو ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کر دی۔