فکر و نظر

اسٹیفن ہاکنگ: اپنی معذوری کو شکست دینے والا سائنٹسٹ

 اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں۔اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں۔اگرمیں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضا سلامت ہی، جو چل سکتے ہیں اور جودونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے،جوکھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں؟

اسٹیفن ہاکنگ /فوٹو;فیس بک

اسٹیفن ہاکنگ /فوٹو;فیس بک

ایک ایسا سائنس داں جولوگوں کو کائنات کی نہ صرف سیر کرواتا تھا بلکہ ایسی معلومات فراہم کرتا تھا کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ پوری دُنیا کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ طاقتور کہلانے والے ممالک کے سربراہ بھی اُنھیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اُس عظیم ماہر فلکیات، طبعیات دان اور ریاضی دان کا نام اسٹیفن ولیم ہاکنگ ہے۔جو8 جنوری1942 کو آکسفورڈ برطانیہ میں پیدا ہوا۔اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی معذوری کوہی اپنی طاقت بنایا۔76 سال کی عمر میں 14؍مارچ2018کو ان کا انتقال ہوگیا۔

اُنھیں ہمارے وقت کا آئنسٹائن کہا جاتا تھا۔ ان کا اہم کارنامہ بلیک ہول اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی (Cosmology) کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس ضمن میں اُن کی ایک شہرۂ آفاق کتاب اےبریف ہسٹری آف ٹائم (مکمل اردو ترجمہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے)خاص اہمیت  کی حامل ہے۔ اسٹیفن نے بلیک ہول اور ٹائم مشین کے بارے میں  اہم معلومات فراہم کیں۔ہاکنگ طالب علمی کے زمانے میں بہت اچھے طالب علم نہیں تھے۔ روشن دماغ ہونے کے باوجود بھی اُن کے اساتذہ کی یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا ۔ طالب علمی کے زمانے میں اُنھوں نے اپنی قابلیت اور صلاحیت کا کوئی خاص مظاہر بھی ہ نہیں کیا تھا۔1966ء میں جب وہ 21 برس کے تھے تو اُن پر بیماری کا حملہ ہوا۔ یہ بیماری Motor Neuron Disease بھی کہلاتی ہے ،جس میں انسان کا جسم آہستہ آہستہ مفلوج اور معذور ہو جاتا ہے۔ اس بیماری نےاُنھیں رفتہ رفتہ مفلوج و معذور بنا کر جسمانی طور پر وہیل چیئر تک محدود کر دیا ۔

زندگی کے اس مشکل ترین دور میں ایک بڑا فیصلہ کرنابھی اپنے آپ میں ایک بڑی بات تھی۔ اُنھوں نےاس حالت  میں ایک بڑے کام کو چُنا۔اس کام نے جہاں اُسے موت کے خوف سے کسی حد تک دُور رکھا وہیں دوسری طرف اس کام میں بنی نوع انسان کی بھلائی کے پہلوبھی سامنے آئے۔

ہاکنگ نے جس مشکل ترین کام کا انتخاب کیا وہ آئنسٹائن کے پیچیدہ ترین نظریہ اضافت پر غور کرناتھا۔ ان گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے وہ کائنات میں موجود بلیک ہولز سے الجھ بیٹھا۔ ڈاکٹروں کی پیش گوئی کے برعکس ہاکنگ  زندہ رہا ۔ اُس کی اس معذوری کے پیچھے یہ  حادثہ ہے کہ وہ ایک دن سیڑھیوں سے نیچے پھسل گیا۔اسٹیفن  اکیس سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوا تھا۔سب سے پہلے اس کے ہاتھ کی انگلیاں مفلوج ہوئیں،پھر اس کے ہاتھ، پھر اس کے بازو، پھر اس کا بالائی دھڑ،پھر اس کے پاؤں، پھر اس کی ٹانگیں اور آخر میں اس کی زبان بھی مفلوج ہوگئی تھی۔یوں وہ 1965ء میں وہیل چیئر تک محدود ہو گیا۔پھر اس کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اور مرنے تک سیدھی نہ ہو سکی۔

وہ1974ء تک خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کا محتاج ہو گیا تھا۔ اس کے پورے جسم میں صرف پلکوں میں زندگی موجود تھی۔وہ صرف پلکیں ہلا سکتا تھا۔ اُس نے و ہیل چیئرپر کائنات کے رموز کھولنا شروع کیے جس سے پوری سائنسی دُنیا حیران رہ گئی۔کیمبرج کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے ہاکنگ کیلئے ’’ٹاکنگ‘‘ کمپیوٹر بنایا۔ کمپیوٹر اُس کی وہیل چیئر پر لگا دیا گیا تھا۔ کمپیوٹر اُس کی پلکوں کی زبان کوسمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پلکیں ایک خاص زاویے میں ہلتی تھیں۔ جولفظوں کی شکل اختیار کرتے تھے۔ وہ لفظ کمپیوٹر کی اسکرین پر ٹائپ ہوجاتے تھے اور بعدمیں ا سپیکر کے ذریعے سنے اور سنائے جانے لگتے تھے۔اس طرح اسٹیفن ہاکنگ دُنیا کا واحد شخص تھا جو اپنی پلکوں سے بولتا تھا اور پوری دُنیا اس کی آواز سنتی تھی۔ اسٹیفن ہاکنگ نے پلکوں کی اسی جنبش کے ذریعے سے بہت سی کتابیں لکھیں۔

اس کی کتابA Brief History of Time نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیاتھا۔یہ کتاب237 ہفتےتک  دُنیا کیBest Seller کتاب رہی اوردُنیا بھر میں خریدی اور پڑھی گئی۔ اسٹیفن نے90ء کی دہائی میں ایک نیا کام شروع کیا تھا کہ مایوس اور نااُمید لوگوں کو زندگی کی خوبصورتیوں کے بارے میں لیکچر دے کر اُن کے عزم اور حوصلے کو بڑھاتا رہا۔ دُنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اور یونی ورسٹیوں میں اسے لیکچرز کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔وہ اپنی معذوری کی مثال دے کر عزم اور حوصلے کو مستحکم بنانے کے لیے اکثر کہتے تھے کہ؛

’’ اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں۔اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں۔اگرمیں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضا سلامت ہی، جو چل سکتے ہیں اور جودونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے،جوکھا پی سکتے ہیں، جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں؟‘‘۔

1979 سے 2009تک ہاکنگ کیمبرج یونیورسٹی کے اُس عہدے پر فائز رہا جس پر کبھی مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن فائز تھا۔ ہاکنگ کودور حاضر کا افلاطون بھی گردانا جاتا تھا۔اسٹیفن ہاکنگ نے آکسفورڈ یونین ڈیبیٹنگ سوسائٹی میں ایک لیکچر کے دوران انکشاف کیاتھا کہ دُنیا میں انسانوں کے محض ایک ہزار سال باقی رہ گئے ہیں۔جس کے بعد خطۂ ارض سے نسل انسانی ختم ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کو اپنی بقا کیلئے کسی دوسرے سیارے پر نقل مکانی کرنا ہوگی۔ہمیں زمین کے مدار سے نکل کر چاند یا کسی اور سیارے پر منتقل ہونا ہوگا۔اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دیگر سیاروں میں جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اُس کی تحقیق کے حساب سے انسانوں کو زمین چھوڑ دینی چاہیے۔ یہ سیارہ انسانوں کیلئے بہت چھوٹا ہو گیا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق ہمارے پاس جگہ ختم ہو رہی ہے اور اب رہنے کیلئے دیگر سیارے ہی بچے ہیں۔ کیوں کہ زمین جلد ہی کسی تباہ کن سیارچے سے ٹکرائے گی۔ اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ خلا میں پھیلنے سے ہم انسانیت کے مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ اورجین ہاکنگ کی ایک یادگار تصویر/فوٹو:فیس بک

اسٹیفن ہاکنگ اورجین ہاکنگ کی ایک یادگار تصویر/فوٹو:فیس بک

معروف سائنسدان نے کہا کہ چاند اور مریخ  انسانی آبادیوں کیلئے بہترین مقامات ہیں، تاہم انسانوں کو نظام شمسی سے نکل کر قریبی ستاروں کے نظام تک جانا ہوگا۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ ہم نے اپنے سیارے کو موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتے درجہ حرارت، قطبی برفانی خطوں میں کمی، جنگلات اور جانوروں کے خاتمے جیسے تباہ کن تحائف دیئے ہیں اور ہم تیزی سے اپنے انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ نے اس قدر عالمی شہرت حاصل کی تھی کہ اُن کی پی ایچ ڈی تھیسس کی آن لائن اشاعت کے کچھ ہی دیر بعد اُس کی مقبولیت کی وجہ سے کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ کریش (Crash)ہوگئی تھی۔ تھیسس کی اشاعت کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر60 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس سائٹ کا رُخ کیاتھا۔

ہاکنگ اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ ہمارے ارد گرد صرف ایک کائنات نہیں بہت سی کائناتیں ہیں۔ ہم Universeمیں نہیں Multiverseمیں رہتے ہیں۔ یہ کائنات پانی کے بلبلوں کی طرح پیدا ہوتی ہیں ۔ان میں سے بعض کی عمر مختصر اور بعض کی عمر طویل ہوتی ہے۔ جو ہماری کائنات کی طرح بڑھتی اور پھیلتی ہیں اُن میں سورج چاند ستارے بنتے ہیں۔ آخر ایک دن وہ کائنات پھیلنا بند کر کے سکڑنا شروع کر دیتی ہے اور سکڑتے سکڑتے کسی بلیک ہول میں مر جاتی ہے۔ پھر اس بلیک ہول سے ایک اور کائنات پیدا ہوتی ہے۔ ہاکنگ اس نتیجے پر پہنچا کہ انسانوں کا وقت اور خالق خدا کا تصور صرف ہماری کائنات سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ہماری کائنات ختم ہو جائے گی تب بھی اور کائناتیں موجود ہوں گی۔ ہاکنگ کہتا ہے کہ یہ کائناتیں خود ہی بنتی بگڑتی پیدا ہوتی اور مرتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ نجانے کب سے چل رہا ہے اور کب تک چلتا رہے گا۔

2014ء سے پہلے ہاکنگ اپنے مذہبی‘ روحانی اور سیکولر نظریات کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے تھے لیکن ستمبر2014کی ایک تقریر میں ہاکنگ نے کھل کر کہہ دیا کہ وہ Atheist ہیں اور انسانوں کے لیے اپنے ارد گرد پھیلی کائناتوں کے رازوں کو سمجھنے کے لیے کسی خدا کے تصور کی ضرورت کونہیں مانتے تھے۔

(مضمون نگار یونی ورسٹی آف حیدرآباد میںریسرچ اسکالرہیں۔)

  • Mir Bilal

    بہت ہی عمدہ تحریر اور پر کشش بھی ،اس تحریر میں میقناطیسی عنصر ہے جو واقعی قاری کو آخر تک ساتھ رکھنے میں محو رکھتی ہے ۔ان تحریروں سے سائنسی مزاج پیدا کیا جا سکتا ہے ۔جس کی کمی اکثر و بیشتر اردو ادب کے طلبا و طالبات میں پائی جاتی ہیں۔آپ نے واقعی میں حق ادا کیا ہے۔