خبریں

کون تھےکیدارناتھ سنگھ؟

اترپردیش کے بلیا ضلع‎ میں پیدا ہوئے ۔  پیٹ میں انفیکشن کی وجہ سے کیدارناتھ سنگھ کو نئی دہلی  واقع ایمس میں بھرتی کرایا گیا تھا۔

ٖفوٹو : خواب تنہا کلیکٹو

ٖفوٹو : خواب تنہا کلیکٹو

نئی دہلی: ہندی کے معروف شاعر کیدارناتھ سنگھ کا انتقال سوموار کی رات نئی دہلی  واقع آل انڈیا میڈیکل سائنسز (ایمس) میں ہو گیا۔  وہ 83 سال کے تھے۔پیٹ میں انفیکشن کی وجہ سے ان کو ایمس میں بھرتی کرایا گیا تھا۔  کیدارناتھ سنگھ کی پیدائش سات جولائی 1934 کو اترپردیش کے بلیا ضلع‎کے چکیا گاؤں میں ہوئی تھی۔

2013 میں گیان پیٹھ انعام سے نوازے جانے والے وہ ہندی کے 10ویں شاعر تھے۔  پیچیدہ موضوعات کو آسان اور لوگوں کی زبان میں کہنے کے لئے ان کو جانا جاتا تھا۔  وہ نئی نظم کے اہم ترین شاعروںمیں سے ایک تھے۔ادب کے سب سے بڑے انعام گیان پیٹھ انعام کے علاوہ  ساہتیہ اکادمی انعام، ویاس سمان، میتھلی شرن گپت سمان، دنکر سمان، ویاس سمان سے نوازے جا چکے ہیں۔

مشہورو معروف نظموں کے مجموعہ ’تیسرا سپتک ‘کے معاصر شاعروں میں سے ایک کیدارناتھ سنگھ بھی تھے۔  اسے اگیے نےمرتب کیا تھا اور کیدارناتھ سنگھ کی نظموں کو اس میں جگہ دی تھی۔ان کی نظموں کا ترجمہ تقریباً تمام اہم ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی، اسپینش وغیرہ  میں ہوا ہے۔

نظم لکھنے کے علاوہ انہوں نے تنقید اور مختلف کتابیں مرتب کی تھیں ۔  شعری  مجموعہ کی بات کی جائے تو ‘ ابھی بالکل ابھی ‘، ‘ زمین پک رہی ہے ‘، ‘ یہاں سے دیکھو ‘، ‘ شیر ‘، ‘ اکال میں سارس ‘، ‘ اتر کبیر اور انیہ کویتائیں ‘، ‘ تالستائی اور سائیکل ‘ وغیرہ اہم ہیں۔ان کی تنقید ی کتابوں میں ‘ میرے سمئے کے شبد ‘، ‘ آدھونک کویتا میں بمبودھان  ‘ ‘  کلپنا اور چھایاواد ‘، ‘   میرے ساکشاتکار ‘ وغیرہ اہم ہیں۔

1956 میں بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) سے انہوں نے ہندی ادب میں ایم اے کیا تھا اور 1964 پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔  اس کے علاوہ وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ہندوستانی زبانوں کا مرکز میں بطور چیئرپرسن اور پروفیسر کام کر چکے تھے۔