ادبستان

فلم ریویو: ہم نے گاندھی کو مار دیا …

سنیما:اس سوچ کو قبول کرنے کا مطلب ہے گاندھی اور جناح  کے نام پر ساورکر کو’ ویر‘ کہنا ۔بھلے آپ نے اس کو ہندو شدت پسند اور مسلم شدت پسند کہہ دیا ہے ۔لیکن اس شدت پسندی میں جہاں بہت سی باتوں کوسادہ بلکہ Generalizeکرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہیں’ویر‘ کے تخاطب میں اور طرح کی  شدت پسندی کا اثبات کیا گیاہے۔ان سب باتوں کے باوجود فلم عدم تشدد کا ایک  پیغام دیتی ہے۔

gaandhi

عدم تشدد اور سچائی کی باتیں کرتے ہوئے ہمیں جس ایک شخصیت کے بارے میں سب سے زیادہ پڑھایا گیا ‘وہ گاندھی ہیں ۔سیاسی ڈسکورس میں اکثر بلکہ بیشتر حوالہ بننے والی شخصیت گاندھی ہیں ۔شدت پسند سیاسی جماعتوں کے درمیان بنیا کہلانے والی شخصیت بھی گاندھی ہیں ۔سچ پوچھیے تو ہم اورآپ کسی بھی نظریے کے ہوں ‘اتہاس میں بیٹھے گاندھی سے پیری مریدی کا رشتہ ہو نہ ہو ‘ہم ان کی بات ضرور کرتے ہیں ۔اب اس گفت و شنید میں گاندھی امن کے دُوت ہوں یا آپ کی رائے میں کچھ اور …بات ہر پھر کر وہیں پہنچتی ہے کہ یہ ملک گاندھی کا ہے۔

اب گاندھی کے اس ملک میں ہمارے پاس خاطر خواہ حوالے  ہیں کہ ہم ان کو جس طرح چاہیں ‘اپنی زندگی میں شامل کریں ؛ یوں کہہ لیجیےکہ اسلوب حیات میں ایک بڑے Protagonistکے طور پر جگہ دیں ‘یا پھر نقد ونظر والی بصیرت کے ساتھ کہیں کہیں خارج کریں اور رد و قبول کی اپنی اپنی پڑھنت میں اہنسا کے اس پجاری پر بات کریں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ گاندھی پر لٹریچر کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ایسے میں جب کہ ہم نے اپنے اپنے حصے کے گاندھی کو پڑھ رکھا ہے ،ان کی ایک تصویر بنا رکھی ہے تو کسی فلمساز کے لیے گاندھی میں دلچسپی کے وہ کون سے سامان ہوں گے جو وہ اس بات کا جوکھم مول لینے کو راضی ہو کہ اس کے نظریے کا گاندھی باکس آفس پر بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بن جائے گا؟

میں اسی سوال کے ساتھ نعیم  اے صدیقی  کی فلم ؛تکنیکی زبان میں کہیں تو پیریڈ ڈراما ’ہم نے گاندھی کو  ماردیا‘ کی اسکریننگ کے موقع پرفلم ڈویژن آڈیٹوریم،نئی دہلی میں موجودتھا۔ میری دلچسپی اس لیے بھی تھی کہ فلمساز سمیت تقریباً تمام اسٹار کاسٹ میرے لیے نئے تھے۔ہاں فلم میں معروف اداکارہ کے طور پرصرف پرتما کاظمی اپنی شاندار ایکٹنگ کے ساتھ نظر آئیں اور فلم کو اپنی اداکاری سے اپنے نام کر لینے والے ایکٹر سبرت دتا نے مجھے متاثرکیا۔بتاتا چلوں کہ ان کا تعلق نیشنل اسکول آف ڈراما سے بھی ہے اور انہوں نے کچھ اہم اور بڑی  فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

پرتما کاظمی‎

پرتما کاظمی‎

اسکریننگ سے قبل فلم کی ہیروئن سمیکشا بھٹناگرکی  بات چیت سے  معلوم ہوا کہ انہوں نے فلم ’پوسٹر بوائز‘ میں بابی دیول کی وائف سورج مکھی  کا رول کیا ہے ۔اس کے علاوہ کئی ٹی وی سیریل میں کام کر چکی ہیں ۔اگر اس فلم میں بھٹناگرکے رول کی بات کریں تو وہ اپنے کردار کے ساتھ جد و جہد کرتی نظر آئی ۔دراصل فلم کا اوپننگ ایکٹ ہی ان کے نام تھا ‘لیکن وہ اپنی اداکاری کی مصنوعیت  سے آخر تک نکل نہیں پائی۔اسٹیج پر چل رہے ڈراما کی طرح آڈینس تک پہنچنے کی شعوری کوشش میں ان کااپنی باڈی لنگویج اور ڈائیلاگ کی ادائیگی میں لاؤڈ ہونا ان کے کردار کو نمایاں نہیں کر پایا ۔صاف صاف کہوں تو اس اسکرپٹ میں بھٹناگر اپنے لیے جگہ نہیں بناپائی ‘ میرے ذہن میں بھٹناگرکاایک آدھ سین بھی اس طرح محفوظ نہیں رہ گیا کہ میں ان کی ایکٹنگ کی گریڈنگ کروں۔

 پوری فلم میں کچھ ہی ایکٹ  اور سین ایسے ہیں جس میں وہ نہیں ہے ۔اس موجودگی کے باوجود بھٹناگر اپنے حصے کےگاؤں دیہات اور بیانیہ عرصہ کے مطالبات سے کوسوں دور ایک طرح کے خالی پن کے ساتھ ناظرین کو متوجہ کرنے کی تگ ودو کرتی نظر آئی۔حالاں کہ بات چیت کے دوران شبانہ اعظمی اور اسمتا پاٹل کواپناInspiration کہنے والی بھٹناگر  نے بتا یا  کہ فلم کے مطالبات اور ٹائم پیریڈ کے مد نظر اس نے کئی پرانی  فلمیں دیکھی ہیں ۔

جتن گوسوامی

جتن گوسوامی

اسی طرح فلم کے ہیرو کی بات کریں تو جتن گوسوامی  کہیں کہیں ناظرین کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے ‘لیکن مجموعی طور پر ان کی اداکاری بھی ایک نوع کے خالی پن کے ساتھ پردے پر اٹھتی بیٹھتی ناظرین کے ذہن سے غائب ہونے لگتی ہے ۔فلم میں سبرت دتا  کی بات کریں تو میں ان کوایک کمزوراوربے ترتیب  اسکرپٹ کا ’مہانایک‘ تصور کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے’ مونولاگ‘ میں بھی کئی جگہوں پر ہمیں حد درجہ متاثر کیا ۔کم بجٹ اورکمزور اسکرپٹ والی اس فلم  میں وہ اس سے زیادہ رنگ شاید بھر بھی نہیں سکتے تھے ۔ سبرت  کا رول ایک معلم  کا ہے جو گاندھی کے نظریات کی تبلیغ کا شدید خواہاں ہے ۔ہدایت کار نے ان کی اداکاری سے بہت کام نہیں لیا ،یوں کہہ سکتے ہیں کہ سبرت نے اپنی ایکٹنگ سے فلم کے کئی عیوب کی بخوبی پردہ داری کی ۔

سبرت دتا (عینک لگائے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں)

سبرت دتا (عینک لگائے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں)

فلم میں ماں (پرتماکاظمی )بیٹے (جتن گوسوامی )کی کہانی اور اس کے گاؤں کو بھی بہت کمزور طریقے سے فلمایا گیا ہے۔اس کے باوجود ماں کے کردار میں پرتما کی اپنی ایکٹنگ اور کچھ شاندار مکالمے نے جان ڈال دیا ہے۔فلم کا اکثر حصہ ایک ٹرین میں ہے ،جس میں ہندو اشرافیہ کے علاوہ کچھ دلت بھی ہم رکاب ہیں ۔ان کرداروں کی موجودگی میں چھوا چھوت اور انسان کی لالچ کو گاندھی کے نظریے سے الگ بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس میں کئی سین بہت اچھے ہیں اور گاندھی کے اقوال زریں کی طرح ہماری توجہ بھی کھینچتے ہیں ،لیکن ہندو اشرافیہ اور دلت کے درمیان گاندھی کے نظریے کا یہ مبلغ جتنی کامیابی سے چھوا چھوت کے خلاف گاندھی درشن کو پیش کرتا ہے اتنی ہی ناکامیابی سے دلت کردار وں کی ایک ایسی تصویر ہمارے ذہن میں بنتی ہے جو میرے خیال میں کسی  بھی دلت اور پسماندہ کمیونٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا ۔

گاندھی کے وقت کے ہندوستان میں بھی دلت کرداروں کو اگر کوئی فلمساز گاندھی کے نظریات کا کٹھ پتلی محض سمجھتا ہے، تو شاید وہ اس وقت کے سیاسی ڈسکورس کو نہیں جانتا۔شاید اس لیے اس فلم میں وہ لاشعوری طورپربابا صاحب امبیڈکر کو  گاندھی سے کمتر بتانے کی ذہنی سیاست کااسیر نظرآتا ہے۔دراصل فلم میں یہ وہ جگہ تھی؛جہاں باباصاحب کےنظریے کے سچ کو بھی Establishکیا جاسکتا تھا۔لیکن پوری فلم دیکھنے کے بعد یہی احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسے فلمساز کا Obsessionہے ،جوبعض’ مسلمانوں‘ کی طرح اپنے آپ کو گاندھی کے نظر یے کا سب سے بڑا علمبردار ثابت کرنا چاہتا ہے۔

میں نے مسلمانوں والی بات اس لیے کہی کہ  اسٹریو ٹائپ  کے تحت فلمساز نے اس میں زبردستی کا ایک مسلمان کردار رکھا ہے جو ماحول کی سنگینی اور ملک کی بدامنی کے باعث ہندو بن کر سفر کر نے کو مجبور ہے ۔ اس کے پاس ہتھیار بھی ہے ۔یہاں گاندھی کے نظریے سے اس کردار کو مسلمان نہیں کہنے کی ضد میں ایک ڈرا ہوا انسان بتایا گیا ہے۔فلمساز نے شروع میں اس کے مسلمان ہونے کی بات کو چھپانے کی بہت کوشش کی ہے کہ اس کردار کا سسپنس اس وقت تک  قائم رہے جب تک کہ اس کا کلائمکس نہیں آجا تا ۔لیکن اس سسپنس کو آڈینس پہلی نظر میں ہی بھانپ لیتی  ہے ؛اور کلائمکس میں جب وہ  ہندو اشرافیہ(ہیرو ہیروئن) کی بچی کو ٹرین کی زد میں  آنے سے بچانے کے بعد بے خیالی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ سین عام ہندوؤں کےنظریے والی اخباری رپورٹ بن جاتا ہے کہ مسلمان بھی انسان ہوتے ہیں ۔اس طرح یہاں گاندھی کا آدرش واد انہی معنوں میں قائم ہوتا ہے جن معنوں میں ہم گاندھی کے اقوال زریں ایک دوسرے کو سناتے ہیں ۔

HGKMD 3

یہ فلم آزادی کے بعد اس وقت  کی کہانی کو پیش کرتی ہے جس میں  گاندھی زندہ تھے اور پورے ملک میں بد امنی کا ماحول تھا۔اس ماحول میں گاندھی کو بامعنی بنانے کے لیے فلمساز نے تمام سعی کی ہیں ،لیکن  گاندھی کو ان کے نظریے سے سمجھنے اور پیش کرنے سے زیادہ ان حوالوں میں روشن  کیا گیا ہے جو اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں کہ ؛وہ گاندھی ہی تھے جنہوں نے پاکستان کو پیسہ دینے کی حمایت کی تھی اوروہ گاندھی ہی تھے جو ہندو مسلمان اتحاد کے علمبردار تھے ۔ان باتوں کی تہوں سے بیانیہ کو گرفت میں لینے کی کوشش بالکل نہیں کی گئی اور گاندھی کے آدرش واد کے نام پرنعیم اے صدیقی نےاپنے Conceptکے ساتھ  سنجے رائے کی کہانی اور مکالمہ نویسی کو  یکطرفہ پردے پرپیش کر دیا  ۔

فلم میں ایک بات بڑے مزے کی تھی کہ اس میں’قراردادپاکستان‘ کے حوالے سے جناح اور ساورکر کا نام لیا گیا ہے۔بڑی خوبصورتی سے جہاں محمد علی جناح کا پورا نام لیا گیا ،وہیں ساورکر کو صرف ’ویر ‘کہا گیا ہے۔یہاں شاید سینسر بورڈ کی کچھ دخل اندازی تھی اور اگر یہ دخل اندازی ہے تو بھی ایک فلمساز کے طور پر آپ اس کو کیسے قبول  کر سکتے ہیں ؟ اس سوچ کو قبول کرنے کا مطلب ہے گاندھی اور جناح  کے نام پر ساورکر کو’ ویر‘ کہنا ۔بھلے آپ نے اس کو ہندو شدت پسند اور مسلم شدت پسند کہہ دیا ہے ،لیکن اس شدت پسندی میں جہاں بہت سی باتوں کوسادہ بلکہ Generalizeکرنے کی کوشش کی گئی ہے وہیں’ویر‘ کے تخاطب میں اور طرح کی  شدت پسندی کا اثبات کیا گیاہے۔

HGKMD trailor

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس فلم کا نام پہلے ’ہے رام ہم نے گاندھی کو ماردیا‘تھا اور اسی نام سے ٹریلر بھی ریلیز ہوا تھا ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بھی سینسر بورڈ نے اپنا کام کیا اور فلمساز ’ہے رام ‘کو حذف کرنے پر مجبور ہوئے۔ان باتوں سے الگ اگر آپ پوری فلم کا موڈ سمجھنا چاہیں تو اس میں جو ہندو  ؛شدت پسند ہندو ہے  وہی مسلمانوں کا بہی خواہ اورہمدردبھی ہے۔ایک آدھ سین میں مسلم بلوائی  ہیں بھی تو وہ خانہ پری کرتے نظر آتے ہیں ۔دراصل یہ فلم سچائی کو دکھانے سے زیادہ اس کو چھپا لیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنی جان دینے والا ہر ہندو’ گاندھی ‘ہے۔شایداس لیے فلم اپنے آخری حصے میں پہنچ کر گاندھی کے اس آشرم کی تمثیل بھی پیش کرنے لگتی ہے جس میں سارے ہندوستانی ہیں اور چرخہ کات رہے ہیں ۔

HGKMD 2

اس تمثیل سے پہلے فلم ایک شدت پسند ہندو کی قلب ماہیت کو موضوع بناتی ہے کہ پاکستان اورمسلمان کی وجہ سے گاندھی سے شدیدنفرت کرنے والا ہندو بھی آخر میں گاندھی بن جاتا ہے ۔ایک شدت پسند ہندو کو گاندھی بنانے  اور مسلمانوں کا ہمدردکھانے میں یہ فلم جن باتوں سے اپنا مواد حاصل کرتی ہے ،ان کو دیکھ کر فلمساز کے مطالعے پر شک ہوتا ہے اور تاریخی حقائق کو عامیانہ انداز میں پیش کرنے کی عجلت پسندی کا احساس بھی شدت سے ہوتا ہے۔

فلمساز کی مانیں تو انہوں نے باکس آفس کی ضرب و تقسیم سے الگ یہ فلم ’راشٹر پتا‘ کے پریم میں ان کے نظریا ت کو عام کرنے کے لیے محدود وسائل میں بنائی ہے ۔اس لحاظ سے ان کے کام کی قدر کی جاسکتی ہے، لیکن انہوں نےان وسائل کابھی ڈھنگ سے استعمال نہیں کیا ؛اور اگر آپ کا مقصد واقعی گاندھی کے نظریے اور تعلیم کو عام کرنا ہے تو اور بھی کم بجٹ میں فلم کے ہی دوسرے میڈیم میں اظہار کیا جاسکتا ہے۔

ڈائریکٹرکو اسکرپٹ میں شاید یہ بات محسوس نہ ہوئی ہو کہ پردے پر چل رہی ان کی فلم کئی بار انجام کو پہنچ کرزبردستی کے  ڈراما کے ایک نئے ایکٹ کی طرح پھر سے شروع ہوجاتی ہے،اس طرح یہ فلم بور کرنے لگتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ فلم کم بجٹ کی ہے ،لیکن فلم بن نہیں پائی ہے۔گاندھی کے نام پر کسی اور طرح کے سیاسی ڈسکورس کو غذا فراہم کرتی یہ فلم بہت دھیمی ہے ۔کمزورڈائریکشن  کا مکمل احساس اس میں ہوجاتاہے۔ پوری فلم کے ایک بڑے حصے کو ٹرین کی ایک ہی باگی میں گھنٹے بھر سے زیادہ فلمانے کو فلم خود ہی جھٹلا نے لگتی ہے۔

فلم میں گاندھی کہیں نظر نہیں آتے ؛یہ دراصل گاندھی کے نظریات کی نمائندگی اور نفرت کی ترجمانی میں ہندو اشرافیہ کی فلم ہے ، جس میں نمک اور تیل کی طرح دلت اور مسلمان کردار جمع کر دیے گئے ہیں ۔گاندھی کی عدم موجودگی سے موجودگی کو ممکن بنانے کی تکنیک تو بہت اچھی تھی ،لیکن فلم اس کو سنبھال نہیں پائی ۔

فلم کی اسکریننگ سے پہلے ہوئی بات چیت میں بتایا گیا کہ دلی سرکار یہ فلم  اسکولی بچوں کو دکھانا چاہتی ہے ۔بظاہر یہ بہت اچھی بات ہے،لیکن اس نظریے سے جب میں اس فلم کا جائزہ لیتا ہوں تو  محسوس ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنے معصوم ذہنوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان صرف ایسا ہوتا ہے …یاجناح اور ساورکر کی بحث اتنی سادہ ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کی فلمیں گاندھی کے نظریے سےزیادہ ایک طرح کی Stereotypingکی خطرناک کوشش ہے ۔ان سب باتوں کے باوجود فلم عدم تشدد کا ایک پیغام دیتی ہے۔

  • C M Naim

    The review was long and judgmental but not very helpful to this reader. I got no idea of the film’s story or plot. Or of its production values. Or of the cinematic goals the maker had mind when he decided to make this film