خبریں

فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ : مارک زکر برگ نے اخبارات میں اشتہار کے ذریعے مانگی معافی

مارک زکر برگ نے کہا ہے کہ ؛آپ کے ڈیٹا کاتحفظ ہماری ذمہ داری ہے اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہم اس کے اہل نہیں ہیں۔ ہم پر اعتماد کرنے کا شکریہ ،میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے لیے بہتر کام کروں گا۔آئندہ ایسی کوئی غلطی نہ ہو ہم اس کے لیے اقدامات کر رہے  ہیں ۔

Credit: Mark Zuckerberg/@BBC_Joe_Lynam

Credit: Mark Zuckerberg/@BBC_Joe_Lynam

نئی دہلی : فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے صارفین کےڈیٹا لیک کیے جانے کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے برطانیہ اور امریکہ کے 9 اخبارات میں معافی نامہ شائع کروایا ہے۔مکمل ایک صفحہ پر شائع اس اشتہار میں مارک زکر برگ کے دستخط کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہے کہ‘آپ کے ڈیٹا کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہم اس کے اہل نہیں ہیں’۔

یہ اشتہاربرطانیہ کے 6 بڑے اخبارات سمیت سنڈے ٹائمز ،دی آبزرور، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوا۔اشتہار اس اخبار میں بھی شائع ہوا ہے جس نے فیس بک پر صارفین کی معلومات کے اسکنڈل کا انکشاف کیا۔مارک زکربرگ نے وضاحت کی کہ یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالرنےایک ایپ کے ذریعے فیس بک کے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا 2014 میں لیک کیا تھا’۔انہوں نے پہلی بار معافی مانگتے ہوئے گزشتہ ہفتہ یو ایس ٹیلی ویژن کو دیے انٹرویو میں کہا ‘یہ اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف تھا جس کے لیے میں معافی مانگتا ہوں کہ اس وقت ہم زیادہ کچھ نہیں کرسکے ۔آئندہ ایسی کوئی غلطی نہ ہو ہم اس کے لیے اقدامات کر رہے  ہیں ۔’متذکرہ اشتہار میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم پر اعتماد کرنے کا شکریہ ،میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے لیے بہتر کام کروں گا۔

Courtesy: @BBC_Joe_Lynam/Twitter

Courtesy: @BBC_Joe_Lynam/Twitter

اشتہار میں مارک زکربرگ کا بیان شائع ہوا جو انہوں نے گزشتہ ہفتے دیا اور جس کے بعد امریکہ اور یورپ میں تفتیش کا عمل شروع ہوا اور ساتھ ہی فیس بک کے شیئرز کی قیمت گر گئی ۔فیس بک کے سربراہ نے واضح کیا کہ ’’ہم ہر اس اپلیکیشن کا جائزہ لے ہیں جس کے پاس صارفین کا وسیع ڈیٹا ہے ہمیں امید ہے کہ ڈیٹا چوری کرنے والے اور بھی  ہیں لیکن ہم انہیں تلاش کرکے ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کر دیں گے‘‘۔واضح ہو  کہ گزشتہ جمعہ کو نیویارک ٹائمز اور گارجین نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا تھا کہ کیمبرج اینالٹکا نامی کمپنی نے 5 کروڑ سے زیادہ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کا 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں غلط استعمال کیا۔

کیمبرج اینالٹکا کی سروس ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کے لیے حاصل کی گئی تھیں اور اس نے کروڑوں افراد کے ڈیٹا کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا۔اس اسکنڈل کے سامنے آنے کے بعد فیس بک کو شدید تنقید اور مالی نقصانات کا سامنا ہوالیکن مارک زکربرگ اور فیس بک کی سی او او شیرل سینڈبرگ نے خاموشی کو ترجیح دی تھی۔برطانیہ اور امریکہ کے اخبارات میں شائع اشتہار میں کیمبرج اینا لٹکا پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔فیس بک نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیمبرج اینا لٹکا کو تصدیق کیے بغیر ڈیٹا فراہم کیا۔

(خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے ان پٹ کے ساتھ)