خبریں

جیلوں میں متعینہ تعداد سے زیادہ قیدی ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے : سپریم کورٹ

سپریم کورٹ  نے کہا کہ جیل افسر جیلوں کے زیادہ بھرے ہونے کے مدعے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ ایسی کئی جیلیں ہیں جو متعینہ تعداد سے 100 فیصد اور کچھ معاملوں میں تو 150 فیصد سے زیادہ بھری ہیں۔

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

(علامتی فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: سپریم کورٹ  نے ملک بھر‌کی جیلوں میں صلاحیت سے زیادہ قیدی بھرے ہونے پر فکر جتاتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی ہائی کورٹ  اس معاملے پر غور کریں کیونکہ اس سے ‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ‘ ہو رہی ہے۔عدالت نے تمام اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹس سے گزارش کی کہ وہ معاملے کو خودبخود  مفاد عامہ عرضی کے طور پر لیں اور ان کو ایک وکیل کا ایک نوٹ بھی ریفر کیا جو اس تعلق سے عدالت کی نیائے متر کے طور پر مدد کر رہے ہیں۔

جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے کہا، ‘ نیائے متر  کی طرف سے دئے گئے نوٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیل افسر جیلوں کے زیادہ بھرے ہونے کے مدعا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ اس طرح کی کئی جیلیں ہیں جو متعینہ تعداد سے 100 فیصدی اور کچھ معاملوں میں تو یہ 150 فیصد سے زیادہ بھری ہیں۔ ‘بنچ نے کہا، ‘ ہمارے خیال میں اس معاملے پر ہرہائی کورٹ کو لاء سرویسز اتھارٹی / ہائی کورٹ  لاء سرویسز کمیٹی کی مدد سے آزادانہ طورپر غورکرنا چاہیے تاکہ جیلوں کے  زیادہ بھرے ہونے سے متعلق کچھ سمجھ آ سکے کیونکہ اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی شامل ہے۔ ‘

بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جنرل سکریٹری ضروری قدم اٹھانے کے لئے عدالت کے حکم کی کاپی  ہرایک ہائی کورٹ  کے رجسٹرار جنرل کو بھیجیں‌گے جو واپس سپریم کورٹ  کو رپورٹ کریں‌گے۔عدالت نے جیل میں اسٹاف کے عہدے خالی ہونے کے مدعے کو بھی دیکھا اور تبصرہ کیا کہ جیلوں میں اسٹاف کی بھرتی کے لئے اتھارٹی اور ریاستی حکومتیں بہت کم دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ اس نے ہرایک ہائی کورٹ  کےچیف جسٹس سے کہا کہ اس مدعے کو خودبخود مفاد عامہ عرضی کے طور پر اٹھائیں۔

اس بیچ، مرکز نے بنچ کو مطلع کیا کہ خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں پر وومین اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ منسٹر ،نیشنل وومین کمیشن اور نیشنل لاء یونیورسٹی کے ذریعے ایک مطالعہ کرا رہا ہے جو 30 جون تک پورا ہو جائے‌گا۔حکومت نے کہا کہ وزارت مطالعے کو دیکھے‌گا اور تین ہفتوں کے اندر ضروری قدم اٹھائے‌گا۔ بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 2 اگست مقرر کی ہے۔مرکز نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کھلی جیل قائم کرنے کے لیے قدم اٹھائے جا رہے ہیں اور اصلاحی اداروں کے انتظامیہ کے لئے مثالی اور مساوی اصول پہلے ہی بنائے جا چکے ہیں۔