فکر و نظر

اتم پردیش نہیں پولیس اسٹیٹ بن رہا ہے اترپردیش

ریاست کےاعلی حکام کی عدم دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کو ان کی منظوری حاصل تھی جو حکمراں طبقے کی طرف سے کسی ہدایت نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اور اگراترپردیش میں معاملہ کمیونسٹوں، دلتوں، اقلیتوں یا کچھ اوبی سی برادریوں کا ہو تو اسکے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

BHU-Girls-Protest

اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی نظر میں احتجاج اور اختلاف کے جمہوری حق کے استعمال کا مطلب اقدام قتل ہوتاہے۔ 37 دنوں کے وقفے میں مشرقی اتر پردیش میں پیش آنے والے چار واقعات میں پولیس کی کارروائی سے یہی پیغام ملتا ہے۔اپنے مطالبات کی حمایت میں احتجاج کو لیکرالگ الگ واقعات میں مظاہرین کے خلاف،حکومتی منشا کے مطابق کام کرنے کی مشاق ہو چکی، پولیس کی کارروائیوں میں یکسانیت اسی کا مظہر ہے۔ مظاہرین کے ذریعہ توڑپھوڑ یا پتھربازی، پولیس کی کارروائی، ایف آئی آر اور ایف آئی آر میں دفعہ 307 یعنی اقدام قتل۔ کئی بار پولیس کے زخمی ہونے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ کئی بار واقعات کی تفصیلات مبینہ ملزمان پر عائد کی جانے والی دفعات کے اعتبار سے طے ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر اگر دفعہ 436 لگائی جانے والی ہے تو رہائشی مکان میں آتشزنی شامل ہوتی ہے۔

ایس ایس ٹی ایکٹ کے ناکارہ بنانے کو لیکر 2 اپریل کے بھارت بند کے دوران اعظم گڑھ کے مالٹاری اور سگڑی تحصیل کے سامنے احتجاج کر رہے مظاہرین میں کچھ لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔ پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ پولیس لاٹھی چارج کرتی ہے۔ درجنوں مظاہرین زخمی ہوتے ہیں، گرفتار کئے جاتے ہیں۔ سگڑی تحصیل پر ایسا کرنے والوں میں کچھ نے اپنے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور کچھ نے یہ زحمت بھی نہیں اٹھائی تھی۔ مظاہرین نے انکی شناخت وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ارکان کے طور پر کی۔ مالٹاری بازار میں بھی یہی واقعہ دہرایا جاتا ہے۔ بازار میں کئی دلت لڑکوں کو، جو احتجاج میں شامل بھی نہیں تھے، مقامی لوگوں نے ان کے دلت ہونے کی شناخت کرتے ہیں اور کم از کم دو مقامات پر مبینہ عوام نے انھیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ایف آئی آر ہوتی ہے اور گرفتارشدگان دفعہ307 کے ملزم قرار پاتے ہیں۔ ایف آئی آر میں کئی ایسے لوگ بھی نامزد کئے جاتے ہیں جو مظاہروں میں شامل بھی نہیں تھے۔

قصبہ سرائے میر، اعظم گڑھ میں 27 اپریل کوشان رسول میں گستاخی سے متعلق ایک فیس بک پوسٹ کو لیکر عوام مشتعل ہوتے ہیں۔ کافی حجت بحث کے بعد پولیس معمولی دفعات میں ایف آئی آر درج کرتی ہے۔ پولیس کی کارروائی سے غیر مطمئن عوام دوسرے روز قومی سلامتی ایکٹ کےتحت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج درج کرواتے ہیں۔کافی دیر تک پولیس حکام کوئی نوٹس نہیں لیتے۔بات چیت کی غرض سے کچھ لوگ پولیس اسٹیشن کے اندر جاتے ہیں۔ مطالبہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ بات چیت کرنے والوں میں سے کچھ لوگ عوام کو یہ بتانے کے لئے باہر آتے ہیں کہ مطالبہ مان لیا گیا ہے، اسی دوران پولیس پر پتھر پھیکے جاتے ہیں۔ پولیس لاٹھی چارج کرتی ہے۔ نشانہ صرف مجمع ہی نہیں ہوتا بلکہ تھانے میں موجودمذاکرات کاروں پر بھی لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ گیس کے گولے داغے جاتے ہیں۔ مجمع منتشر ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد پولیس اور اچانک نمودار ہوئے فرقہ پرستوں کا گروہ گاڑیوں اور دکانوں میں توڑپھوڑ کرتا ہے۔ سب کچھ کیمروں میں قید ہوجاتا ہے۔ لیکن پولیس صرف مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرتی ہے اور 23 دفعات میں اقدام قتل کی دفعہ بھی شامل کرتی ہے۔ وہ شخص بھی نامزد ہوجاتا ہے جو کسی اور جگہ اپنی بیوی کے علاج کے سلسلے میں اسپتال میں ہے اور واقعہ کے وقت اسپتال کے سی سی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بی ایچ یو میں گذشتہ ستمبر میں ایک طالبہ سے چھیڑخانی کو لیکر چلنے والی تحریک کو بدنام کرنے والے ایک متنازعہ بیان پرطلبہ، یونیورسٹی کی پراکٹر رویانا سنگھ سے ان کے بیان کے لئے وضاحت چاہتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ گزشتہ تحریک جے این یو کے لوگوں کے اکسانے پر چلائی گئی تھی اور احتجاج کے دوران باہری عناصر کولڈ ڈرنک اور پِزہ بھیجتے تھے۔ لیکن پراکٹر ملنے سے انکار کرتی ہیں۔اس بیچ دھکا مکی کی وجہ سے دروازے پر لگا شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پولیس جائے وقوع پر موجود ہوتی ہے اور سچائی سے واقف ہونے کے باوجود پراکٹر کی تحریر پر ایف آئی آر درج کرتی ہے اور اس میں دفعہ 307 بھی شامل کرتی ہے۔ شیوانگی کےیونیورسٹی میں موجود نہ ہونے کے باوجود بھی ایف آئی آر میں اس کا نام شامل ہوتا ہے۔

14 مئی کو گورکھپور کے استھولی گاؤں میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ کھلیہان کی زمین پرقبضہ کی نیت سے تعمیر شروع کرتے ہیں جس کی گاؤں کے دلت مخالفت کرتے ہیں۔ 100 نمبر پر فون ہوتا ہے۔ پولیس نے تعمیر رکوا کر اگلے روز فریقین کو صلح سمجھوتے کے لئے گگہا پولیس اسٹیشن بلاتی ہے۔ جب دلت عورتیں اور مرد قریب دس کی تعداد میں پولیس اسٹیشن پہنچتے ہیں تو مخالف گروپ وہاں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ بات چیت شروع ہوتے ہی ویرین گالیاں دیتا ہے اور پہلے اپنی بندوق کے کندے اور پھر پولیس کی لاٹھیوں سے دلتوں کو پیٹنا شروع کرتا ہے۔ جب باقی دلت اسکی مخالفت کرتے ہیں تو ایس او سنیل سنگھ اور دوسرے اہلکار بھی دلتوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ خبر گاؤں تک پہنچتی ہے تو قریب 30-40 دلت عورتیں اور مرد تھانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس جرم کی پاداش میں پولیس لاٹھی چارج کرتی ہے اور گولیاں چلاتی ہے جس میں تین دلتوں کو گولی لگتی ہے اور کئی دیگر زخمی ہوتے ہیں۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ویرین نے اپنے نجی بندوق سے بھی فائر کیا۔ اسکے بعد پولیس  استھولی گاؤں میں چھاپہ مارتی ہے۔عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو پیٹتی اور نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہے۔ 31 نامزد اور 250 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ 27 دلتوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ مظلوم دلتوں کے خلاف دوسری دفعات کے علاوہ دفعہ 307 میں مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ نامعلوم افراد کی تلاش کے نام پر پولیس کی دہشت سے کئی دلت خاندانوں کو گاؤں چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ لینے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔

مذکورہ واقعات میں کم سے کم تین معاملے ایسے ہیں جہاں سچائی جاننے کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیج کافی ہیں۔ہر پولیس اسٹیشن میں سی سی کیمرے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر سرائے میر، گگہا اور بی ایچ یو کے واقعات کی سچائی جاننی ہو تو ان مقامات کی فوٹیج دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن اعلی حکام میں اس کے تئیں عدم دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کی مذکورہ کارروائیوں کو انکی منظوری حاصل تھی جو حکمراں طبقے کی طرف سے کسی ہدایت نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اترپردیش میں معاملہ کمیونسٹوں، دلتوں، اقلیتوں یا کچھ اوبی سی برادریوں کا ہو تو اسکے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔