فکر و نظر

کوبرا پوسٹ اسٹنگ سے میڈیا گھرانوں کو کیا سیکھنا چاہیے؟ 

میڈیا مالک اخباروں اورنیوزچینلوں کی اصلاح  کے لئے کچھ کریں یا نہ کریں، لیکن یہ تو طے ہے کہ جب تک ہرروز، ہر نیوزروم میں مزاحمت ہوتی رہے گی،تب تک ہندوستانی صحافت بنی رہے‌گی۔

newspaper-media-reuters

کوبراپوسٹ کی طرف سے کئے گئے2درجن سے زیادہ قومی اور علاقائی میڈیا ہاؤس کے ‘اسٹنگ آپریشن‘پر میڈیا صنعت کی طرف سے کئی طرح کے رد عمل آ رہے ہیں۔کوئی خاموش ہےتو کوئی قانونی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے تو کوئی کسی بھی طرح کے غلط کام میں  ملوث   ہونے سے براہ راست انکار کر رہا ہے۔ٹائمس  گروپ   کی طرف سے تو یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بڑے افسر جو  کیمرے   کے سامنے قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں دراصل’ ریورس  اسٹنگ’ کر رہے تھے اور کوبراپوسٹ کے انڈر کور رپورٹر کو اپنی باتوں میں ‘پھنسا ‘رہے تھے۔اس  اسٹنگ   میں پھنسی کوئی بھی میڈیا ہاؤس یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے کہ وہ جس طرح سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں،اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ان کی اس ہچکچاہٹ کی وجہ تو سمجھی جا سکتی ہے لیکن ملک کے دوسرے میڈیا ہاؤس  کی خاموشی سمجھ سے پرے ہے۔

کچھ میڈیا مالکوں نےاسٹنگ آپریشن کی اخلاقیات کو لےکر سوال کھڑے کئے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے اداروں میں اس کی اجازت نہیں ہے۔اصول کے مطابق صحافیوں کو کسی اسٹوری کے کوریج کے دوران اپنی غلط پہچان نہیں بتانی چاہئے۔اس معاملےمیں کبھی کبھار تھوڑی بہت چھوٹ لی جاتی ہے لیکن اسٹنگ میں تو سب کچھ پوری طرح سے غلط پہچان پر ہی ٹکا ہوتا ہے۔حالانکہ مدیر کوئی جج نہیں ہے، جو کسی اطلاع کو اس کے غلط طریقے سے نکالے جانے کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کریں‌گے۔صحافت میں ایسا نہیں ہوتا، یہاں بس ایک پیمانہ ہوتا ہے کہ وہ اطلاع مفاد عامہ کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔

عوامی مفادات کو ترجیح

وکی لیکس اور ایڈورڈ اسنوڈین نے خفیہ دستاویزوں کو عام کرکے امریکی قانون کو توڑا۔اس کے باوجود اس ملک کے کچھ بڑے اخباروں اور نیوز چینلوں نے ان دستاویزوں کو دکھانے کو لےکر اچھوت جیسا سلوک نہیں کیا۔انہوں نے اس کو پڑھ‌کر اس کا تجزیہ کیا اور جتنا ممکن ہو سکتا تھا، اس کی جانچ کی اور پھر اس کو عوامی طور پر سامنے لایا۔ایسا انہوں نے عوام کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے کیا بھلےہی وہ اطلاعات  غیرقانونی طریقے سے اکٹھا کی گئی تھیں۔اس سال کی شروعات میں برٹن کےایک قابل اعتماد نیوز ایجنسی چینل 4 نے کیمبرج  انالٹکاکے اوپر کئے گئے  اسٹنگ آپریشن کو عام کیا تھا۔بالکل اسی طرح جیسے کوبراپوسٹ کے  اسٹنگ   میں ایک انڈر کور رپورٹر کو اپنے حق میں الیکشن کو متاثر کرنے کے بدلے میں میڈیا ہاؤس کو پیسے کی پیشکش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ہندوستان کے کسی بھی بڑے میڈیا ہاؤس نے اس  اسٹنگ   کے بارے میں نہ تفصیل سے بتایا ہے اور نہ ہی اس کی منشا پر کوئی گفتگو کی ہے۔اس میں ویسے میڈیا ہاؤس بھی شامل ہیں جو اچانک سے  اسٹنگ   کی اخلاقیات کو لےکر انتہائی حساس ہو چکے ہیں۔پیسے کی طاقت پر سیاسی مدعوں کو بھٹکانا مفاد عامہ سے سمجھوتہ کرنے سے جڑا مدعا ہے۔کوبراپوسٹ کااسٹنگ اسی مدعے کو لےکر تھا۔

ایک نامہ نگار خود کو ‘آچاریہ  اٹل’کے طور پر کئی میڈیا ہاؤس سے روبرو کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ایک ہندتووادی تنظیم کا نمائندہ ہے اور جس کا مقصد میڈیا کی مدد سے ہندوتوا کی سیاست کو پرموٹ کرنے میں ہے تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اگلا الیکشن جیتنے میں مدد مل سکے۔اس کے لئے وہ بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار تھا، جس سے وہ بڑی آسانی سے ایک درجن سے بھی زیادہ قومی اور علاقائی اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے اعلیٰ عہدےداروں تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔خفیہ طور پر رکارڈ کئے گئے ویڈیو میں اس نے ایک مرحلہ وار طریقے سے ہندو توا کے پروپگینڈا کو پھیلانے کی تجویز رکھی تھی۔سب سے پہلے اس نے تجویز رکھی کہ مذہبی موادکی بدولت ‘سافٹ ہندوتوا ‘کو بڑھاوا دیا جائے‌گا تاکہ ‘سازگار ماحول ‘تیار کیا جا سکے۔پھر اگلے مرحلے میں بی جے پی کے حریفوں کا مذاق اڑانے کی اسکیم رکھی اور تیسرے مرحلے میں الیکشن قریب آنے پر ایسا مواد ڈالا جائے جس سے کہ ‘پولرائزیشن ‘تیز ہو۔

وہ تین گھناؤنے جرم

صحافت کے عام اخلاقی معیارات کا خیال رکھنے والا کوئی بھی میڈیا ہاؤس ‘آچاریہ  اٹل’کے زہریلے ایجنڈےکے بارے میں پتا چلتے ہی اس کو باہر کا راستہ دکھا دیتا۔کوبراپوسٹ کے مطابق صرف دو بنگالی اخبار برتمان اور دینک سمبادنے ہی صرف یہ رویہ اپنایا اور ‘ آچاریہ  اٹل’کو کہا کہ وہ ان کے ساتھ کسی طرح کا کوئی مطلب نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ٹائمس گروپ کا کہنا ہے کہ ان کے  مینیجنگ ڈائریکٹر جیسا کہتے ہوئے ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں، اس کو اس طور پر نہیں لینا چاہئے۔وہ الٹے اس نامہ نگار کااسٹنگ کر رہے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کی حمایت میں خود کا ویڈیو کلپ ثبوت کے طور پر ہے۔اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ جہاں کہیں بھی ‘آچاریہ  اٹل’گئے ان کا کھلےدل سے استقبال کیا گیا۔یہ پہلا جرم تھا جو میڈیا تنظیموں نے کیا ہے۔اس طرح کا غلط کام تب کیا جاتا ہے جب ایڈیٹوریل اور انتظامیہ کے درمیان کا توازن پوری طرح سے بگڑ گیا ہوتا ہے اور وہ انتظامیہ کی طرف اس کا جھکاؤ رہتا ہے۔ایسی حالت میں کمپنی اپنی سماجی ذمہ داری کو بھول چکی ہوتی ہے اور دوسری کسی بھی چیز کے مقابلے میں فائدہ کمانا ہی مقصد رہ جاتا ہے۔

‘ آچاریہ اٹل’نے اسی طرح کی تجویز رکھی تھی جس طرح کی تجویز مارل بورو مین نے کبھی امریکی میڈیا ہاؤس کے اہلکاروں کے سامنے رکھی تھی۔اس نے امریکی میڈیا کے سامنے تمباکو نوشی کو بڑھاوا دینے کے عوض میں لاکھوں ڈالر دینے کی پیشکش کی تھی۔ہو سکتا ہے کہ بگ ٹوبیکو کے ان برے دنوں میں انہوں نے کچھ اس کو اس طرح سے ابارا ہو۔2018 میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔پھر بھی ہندوستان میں فرقہ پرستی کے کینسر کو میڈیا کے ہاتھوں بیچنے کا آئیڈیا تجسس پیدا کرنے والا ہے۔

فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر

فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر

پہلا جرم کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے،نے دوسرے جرم کو جنم دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ایک میڈیا ہاؤس اب اپنے کسی کلائنٹ کو عام اشتہار سے زیادہ جگہ دینے کی چاہت رکھتا ہے۔’آچاریہ اٹل’اس کو لےکر واضح نہیں تھے کہ ان کو واقعی کس شکل میں اپنے ایجنڈے کی نشر و اشاعت  چاہئے۔یہ انہوں نے میڈیا ہاؤس کے اوپر چھوڑ رکھا تھا۔ان کو جو آفر ملے، وہ تھے ایڈورٹوریل، برانڈ پرموشن اور پیسہ لےکر لکھے جانے والے فیچرز جن کے بارے میں قارئین کو پتا نہیں ہو تا کہ وہ پیسہ لےکر لکھے گئے ہیں۔کچھ اداروں نے تو کھل‌کر آپسی فائدے کی بات کی اور مانا کہ اشتہار دینے والا اگر زیادہ خرچ کرتا ہے تو ایڈیٹوریل ان کے لیے یقینی طور پر فیاض رہے‌گا۔

ہندوستان ٹائمس کے ایک عہدے دارنے انڈر کور رپورٹر سے کہا، ‘اگر آپ ہمیں آپ کو لےکر مثبت رہنے کے لئے دو کروڑ روپے دیتے ہیں تو پھر فطری طور پر ہماری ایڈیٹوریل پالیسی آپ کے متعلق زیادہ منفی ہونے کو لےکر دباؤ میں رہے‌گی۔’ کچھ جگہوں پر ایڈ سیلس کے شعبہ کے ملازمین‎ اور ریوینیو افسروں نے پازیٹونیوزکوریج کرنے کی بھی پیشکش کی، جس کو پیڈنیوزکہتے ہیں۔وہ کیا بات ہے جو کمپنی کے اندر بزنس سے جڑے ہوئے افسروں کو یڈیٹوریل پالیسی کو لےکر اتنی خوداعتمادی دیتا ہے؟کچھ معاملوں میں ہو سکتا ہے کہ کچھ معاملوں میں ایسا صرف کہنے کو یا اشتہار دینے والے کو متاثر کرنے کے لئے کہا گیا ہو، لیکن زیادہ تر اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں اس طرح کے وعدے اس ادارہ کے اصل کردار کو دکھاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ کچھ سالوں پہلے میڈیا مالکوں نے اپنے اشتہار اور مارکیٹنگ کے شعبے کو کسی بھی قیمت پر فائدہ کمانے کے لئے ان کو اختیار دئے تھے چاہے بھلےہی اس کے لئے ایڈیٹوریل  پالیسی سے بھی کیوں نہ سمجھوتہ کرنا پڑے۔بڑے  اشتہار دینے والے اپنے حق میں من موافق کوریج کی امید کرتے ہیں اور ان کو یہ ملتا بھی ہے۔اس کی سب سے زہریلی شکل اب میڈیا اداروں کے ذریعے مارکیٹنگ ایوینٹ کے انعقاد کے طور پر دکھ رہی ہے۔اس میں بڑے بڑے سیاستداں خطیب اور کارپوریٹ ہاؤس اسپانسر کے طور پر شامل ہوتے ہیں۔ایسے انعقاد کے کچھ مہینے پہلے اور بعد میں ایڈیٹوریل پر ‘زیادہ منفی ‘نہ ہونے کا دباؤ رہتا ہے۔

تیسرا جرم جو کوبراپوسٹ کےاسٹنگ میں سامنے آیا ہے وہ ہے نقد رقم کے طور پر تجارتی ادائیگی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جانا۔میڈیا ہاؤس کے وہ بڑے نام، جو نریندر مودی کی نوٹ بندی کے غلط طرح سے نافذ کئے گئے فیصلے کو یہ کہہ‌کر جائز ٹھہرا رہے تھے کہ اس سے کالا دھن ختم ہو جائے‌گا، ان کو ‘آچاریہ اٹل’سے کئی قسطوں میں نقد پیسہ لینے میں کوئی پریشانی نظر نہیں آئی۔

ایک ویڈیو میں ٹائمس گروپ کےمینیجنگ ڈائریکٹر کو پیسے کا لین دین کیسے کیا جا سکتا ہے، یہ بتاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔گروپ کے قانونی شعبہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کوبراپوسٹ کی طرف سے دکھائے جا رہے ویڈیو کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی ہے اور اس میں چیزوں کو غلط طریقے سے دکھایا گیا ہے۔یہ تو کہا ہی گیا ہے کہ ونیت جین الٹے انڈرکور رپورٹر کو پھنسا رہے تھے۔جیسا بھی ہو، لیکن محکمہ ٹیکس کو ویڈیو میں بتائے جا رہے ان تمام ذرائع کی جانچ کرنی چاہئے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ کسی شکل میں ایسا ہوتا ہے۔پیڈنیوزکو لےکر الیکشن کمیشن کو ملی شکایتوں کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاستداں اس طرح کے لین دین میں نقد رقم کا استعمال کرتے ہیں۔

کیا کیا جانا چاہئے

منھ پھیرنے کے بجائے ہندوستانی میڈیا کو اس موقع کا استعمال کرکے خود کو صحیح راستے پر لانے کے لئے کرنا چاہئے۔تین سطحوں پر میڈیا کے اندر صفائی کا یہ کام کیا جانا ضروری ہے۔پہلا تو یہ کہ غیراخلاقی تجارتی سرگرمیوں کو بالکل چھوڑ دینا چاہئے خاص کر جو اشتہار اور اخبار کے درمیان کے فرق کو ختم کرتا ہے۔ایک واضح لائن کھینچے جانے کی ضرورت ہے اور مارکیٹنگ سے جڑے افسروں کو ہر سطح پر اس پر  عمل کرنے کے لئے سمجھانے کی ضرورت ہے۔بہت ہی صاف بات ہے کہ کبھی بھی قارئین اور ناظرین کو پیسے کے بدلے دکھائے جانے والی خبر ، تجزیہ یا پھر کسی کنٹینٹ کے ذریعے گمراہ نہ کریں۔قارئین اور ناظرین کسی بھی میڈیا ادارہ کا سب سے بڑا ورثہ ہیں اور کوئی بھی بزنس ماڈل جو ان کو دھوکہ دینے پر ٹکا ہو زیادہ دن تک کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔

دوسری بات ہے کہ میڈیا مالکوں کو اپنے اخباروں اورنیوزچینلوں میں ایڈیٹوریل اور تجارت کے درمیان ایک مناسب توازن قائم کرنا ہوگا۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے اور ابھی بھی ایسے میڈیا ادارے ہیں جو اپنے ایڈیٹوریل کی آزادی کی عزت کرتے ہیں۔میں خوش نصیب رہا کہ مجھے 2012 سے لےکر 2013 تک’دی ہندو ‘کا ایڈیٹر رہنے کا موقع ملا۔انتظامیہ کی طرف سے کسی کو بھی، پھر وہ سی ای او یا مالک ہی کیوں نہ ہو، ان کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ کسی ادارتی فیصلے میں دخل دے سکے اور اس حد کا وہ پورا خیال رکھتے تھے۔

ایڈیٹروں کی آزادی کا مسئلہ تیسری بات ہے۔اس آزادی کا مطلب تبھی ہے جب کوئی اس کا واقعی میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اس لئے مالکوں کا یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ، ‘ میرے ایڈیٹر ہی سب کچھ طے کرتے ہیں۔’جب ایڈیٹر بار بار اپنے مالک کی طرف یہ بھانپنے کے لئے دیکھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔جب ہریش کھرے کو ‘دی ٹربیون ‘کا ایڈیٹر بنایا گیا تھا تب انہوں نے ایک شعر کے حوالے سے مجھ سے کہا کہ وہ بنا کسی لمبی پاری کی امید کئے بغیر اور کبھی بھی ختم ہو جانے کی امید کے ساتھ اپنے ماتھے پر کفن باندھنے جا رہے ہیں۔انہوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اس جہاز کو چلایا لیکن جب ان کو اخبار کی ٹرسٹی کی طرف سے سمندر میں آنے والے لہر کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے بڑی خاموشی سے خود کو الگ کر لیا اور کہا کہ یہ میری نظر کے سامنے تو نہیں ہو سکتا۔

‘  مخالفت درج کروائیں ‘

‘ یہ میری نظر کے سامنے تو نہیں ہو سکتا ‘یہ لفظ تمام ایڈیٹروں اور صحافیوں کے لئے ہونے چاہئے پھر وہ ایڈیٹوریل ٹیم میں کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہو۔اگست 1998 میں جب میں ایک نوجوان اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹوریل پیج کاکام دیکھ رہا تھا تب مجھے ایک سیکھ ملی تھی۔مجھے’چوتھی منزل ‘پر ایک میٹنگ کے لئے بلایا گیا، جہاں انتظامیہ کے لوگ بیٹھتے ہیں۔اس وقت میرے باس جگ سریا تھے۔ان کے علاوہ میٹنگ میں انتظامیہ کے کچھ سینئر لوگ اور ممبئی سے ہاٹ لائن پر ایک ٹاپ کے مینجر تھے۔اس وقت 1992-1993 ممبئی فساد پر شری کرشن کمیشن کی رپورٹ آئی تھی جس میں شیوسینا کو سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کا قصوروار پایا گیا تھا۔

اس میٹنگ کا مقصد یہ تھا کہ شیوسینا کو اس معاملے میں رعایت دینی ہے۔ہمیں کہا گیا کہ بینیٹ کولمین اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے چیئر مین اشوک جین کی طرف سے یہ ہدایت آئی ہے۔ہمیں اگلی صبح کے اداریہ میں یہ کہنا تھا کہ شری کرشن غلط ہیں اور ‘دونوں فریق ‘ تشدد کے لئے ذمہ دار تھے۔اس کی وجہ جو مجھے بعد میں سمجھ آئی، وہ یہ تھی کہ شیوسینا اس وقت مہاراشٹر میں اقتدار میں تھی اور ممبئی میں ٹائمس ہاؤس کی 100سال پرانی لیز کو ری نیو کرنے کےلئے کوئی معاملہ پھنسا تھا۔میں نےجھجک کے ساتھ پوچھا ‘ لیکن دوسرا فریق کون تھا؟ ‘جواب آیا، ‘ مسلم فریق۔ ‘

میں کہنے لگا کہ یہ سچ نہیں ہے،تبھی جگ سریا نے میری بات بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے کہا، ‘برائے مہربانی مسٹر جین کو بتا دیں کہ مسٹر وردراجن یہ اداریہ نہیں لکھنا چاہ رہے ہیں۔اور چونکہ میں بھی اس بات سے متفق نہیں ہوں اس لئے ایسا اداریہ نہیں لکھوں‌گا اور میں ان کو ایسا کرنے کے لئے مجبور نہیں کر سکتا۔ ‘میٹنگ ایسے ہی ختم ہو گئی اور ہم نیچے آ گئے۔حالانکہ ہماری یہ ‘ بہادری ‘ کسی کام نہیں آئی اور ہم ان کو ان کی خواہش کا اداریہ لکھنے سے نہیں روک پائے۔یہ اداریہ ہمارے محکمہ سے باہر کسی اور آدمی سے لکھوایا گیا اور اگلے دن کے اخبار میں چھپا۔لیکن ہمیں اس بات کی تسلی تھی کہ ہم نے اپنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔

اس لئے صحافیوں کو میری صلاح ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی اور جو کچھ بھی کر رہے ہوں، ہو سکتا ہے ان کے لئے سیدھے طور پر پیشے کی اخلاقیات کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں کی مخالفت کرنا ممکن نہ ہو لیکن اپنے لئے، اپنے شریک کاروں کے لئے، اس ادارے کے لئے جہاں آپ کام کرتے ہیں، اسے بنا لڑے اس کو مت جانے دیجئے۔اور لڑنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے کہ اپنےکام کے اصول پر ٹکے رہئے۔کوئی غلط اسٹوری مت کیجئے۔جونیوزاہم ہے اس کو نظرانداز مت کیجئے۔ہر میٹنگ میں بولئے۔زہر پھیلانے والوں کے لئے اس کو آسان مت بنائیے۔

میڈیا مالک اخباروں اورنیوزچینلوں کو سدھارنے اور مستقبل میں ہونے والے نقصان سے بچانے کے لئے کچھ کریں یا نہ کریں، لیکن یہ تو طے ہے کہ جب تک ہر روز، ہر نیوزروم میں بغاوت موجود رہے گی، تب تک ہندوستانی صحافت بنی رہے‌گی۔