خبریں

یو پی : بی جے پی ایم ایل اے کا الزام، بجلی چوری کے لئے مسلم ذمہ دار

اتر پردیش کوشامبی ضلع‎ کی چایل  سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنجے کمار گپتا نے بجلی محکمے پر ہندوؤں کااستحصال کرنے کا الزام لگایا۔

فوٹو: فیس بک

فوٹو: فیس بک

نئی دہلی : اتر پردیش بجلی محکمے کے افسروں پر ایک خاص کمیونٹی کے تئیں نرمی برتنے کا الزام لگانے کے بعد بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے اس رویے پر منگل کو ناراضگی جتاتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ ریاستی اسمبلی میں یہ مدعا اٹھائیں‌گے۔ کوشامبی ضلع‎ کی چایل اسمبلی سیٹ سے بی جے پی ایم ایل اے سنجے  کمار گپتا نے حال ہی میں ٹیلی فون سے  بات چیت کے دوران بجلی محکمے کی منفرد کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ان کی بات چیت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

ٹیلی فون پر ایم ایل اے کو بجلی محکمے کے ایک افسر سے کہتے سنا جا سکتا ہے، ‘ برائے مہربانی مجھے اعداد و شمار دیجئے کہ آپ نے 1 اپریل سے ابتک کتنے مسلم گھروں میں چھاپے مارے ہیں۔ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے کتنے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ‘ بجلی محکمے کے ایگزیکٹو  انجینئر سے بات کرتے ہوئے اویناش سنگھ نے کہا، ‘ آپ روینیو  بڑھانے کے لئے خوب اصلاحی قدم اٹھاؤ۔ ظالمانہ کارروائی کرو‌گے تو آپ کی ایسی کی تیسی۔ بجلی محکمے کی ایسی کی تیسی۔ میں سب کو ٹھیک کروں‌گا۔ ‘

ناراض سنجے  کمار افسر کو دھمکا رہے ہیں، ‘ میں آپ کے خلاف ایف آئی آر کراؤں‌گا۔ ‘ ایم ایل اے نے کہا، ‘ ابھی مسلم بستی میں جائیے، وہاں چیک کیجئے۔ 90 فیصدی بجلی وہ چوری کرتے ہیں۔ مجھے اعداد و شمار دیجئے کہ آپ نے کتنے مسلموں کے خلاف ایف آئی آر کرائی۔ مجھے ڈیٹا دیجئے۔ میں یہ معاملہ لکھنؤ لے جاؤں‌گا۔ خالی ہندوؤں پر ظلم کرتے ہو تم لوگ۔ کتنے مسلمانوں کے گھر چیک کئے۔ پوری بجلی چوری کر رہے ہیں وہ لوگ۔ ‘

اتناہی نہیں اس کے بعد ایم ایل اے اپنے حامیوں کے ساتھ بجلی محکمہ گئے تھے۔ وہاں پر ایم ایل اے سنجےکمار گپتا نے کہا، ‘ میں نے اس دن ،ان سے پوچھا تھا کہ آپ ہندو سماج کے لوگوں کے یہاں خوب جاتے ہو… ٹھیک ہے، آپ جائیے میں منع نہیں کروں‌گا۔ مگر آپ مسلم سماج کے یہاں کیوں نہیں جاتے۔ ‘ انہوں نے کہا، ‘ عوام کا الزام ہے کہ بجلی محکمے کی طرف سے متوازن نہیں یک طرفہ کارروائی ہو رہی ہے۔ میں نے عوام کی آواز کو بجلی محکمے تک پہنچایا ہے۔ میں نے محکمے سے ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ یہ بہت ہی افسوس ناک  ڈیٹا ہے۔ ایک علاقے میں ایک بھی خاص طبقہ  کے یہاں نہ تو چیکنگ ہوئی اور نہ ہی کارروائی ہوئی۔ ‘

انہوں نے یہ بھی کہا، ‘ چاہے ہندو ہو یا مسلم، سکھ یا عیسائی سب کا بجلی کنکشن چیک ہونا چاہیے۔ اگر چیکنگ مذہبی بنیاد پر ہوگی تو میں عوام کا سامنا  نہیں کر پاؤں‌گا۔ ‘ بعد میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں بجلی محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر اویناش سنگھ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ارادہ بجلی چوری روکنا ہے تاکہ  بجلی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اے بی پی نیوز سے بات چیت میں ایگزیکٹو  انجینئر نے کہا، ‘ ایم ایل اے نے پوچھا تھا کہ ہمیشہ ہندوؤں کے یہاں ہی کارروائی کیوں ہوتی ہے، میرے رشتہ داروں اور حامیوں کے یہاں ہی کیوں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کبھی بھی بھرواری میں چیکنگ مت کیجئے‌گا۔ ایف آئی آر مت کرائیے‌گا۔ اس سے میں بہت دکھی  ہوں۔ انہوں نے میرے خلاف رشوت لینے اور غیراخلاقی کام کرنے کا بھی دباؤ بنایا۔ ایم ایل اے نے کہا کہ آپ ایف آئی آر واپس لے لیجئے نہیں تو آپ کو میں دیکھ لوں‌گا۔ ‘ ایم ایل اے سنجے کمار گپتا نے کہا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ بجلی چوری رکے اور روینیو  بڑھے لیکن کسی خاص کمیونٹی کے تئیں منفرد رویہ نہیں ہونا چاہیے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)