فکر و نظر

کیا جھارکھنڈمیں حج کمیٹی کی تشکیل نو سنگھ اور بی جے پی کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے؟

گراؤنڈ رپورٹ :  کمیٹی میں بی جے پی کے 7 اور سنگھ کے مسلم راشٹریہ منچ سے 3 لوگ شامل ہیں۔ساتھ ہی مرکزی وزیر مختار  عباس نقوی کو جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کا ممبر بنائے جانے پر بھی سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔

Photo Credit : @naqvimukhtar

Photo Credit : @naqvimukhtar

رانچی:سات مہینے تاخیر  سے ہوئی  جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل کو لےکر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس کو لےکر سوال کھڑا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حج کمیٹی کی تشکیل اور ا س کے ممبروں کا انتخاب حج قانون 2002 کے خلاف ہے۔ وہیں حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو کمیٹی میں شامل کیا گیا، ان میں زیادہ تر لوگ سنگھ اور بی جے پی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ادھر مرکزی وزیر مختار  عباس نقوی کو جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کا ممبر بنائے جانے پر بھی سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی دہلی سے کمیٹی کی ہر میٹنگ  میں شامل ہونے کے لئے رانچی آئیں‌گے؟

غورطلب ہے کہ فی الحال مختار عباس نقوی مرکزی اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر اور جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا رکن پارلیامان ہیں۔ اسی کی بنیاد پر ان کو جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کے ممبر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ 9 جولائی کو  جھارکھنڈ ویل فیئر ڈپارٹمنٹ  نے اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل کے لئے 15 ممبروں کی فہرست کا اعلان کر دیا ہے۔ اور اب 45 دنوں کے اندر کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب کیا جانا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی کمیٹی کی تشکیل کے خلاف آواز بلند ہونے لگی ہے اور اس کو رد کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے۔

سماجی کارکن اور اقلیتی معاملے  کے جانکار ایس علی نے کہا کہ اگر حکومت اس کا جلد ازجلد نوٹس  نہیں لیتی ہے تو عدالت جانے پر مجبور ہوں‌گے۔ جبکہ جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق ممبر خورشید حسن رومی حکومت پر تعصب آمیز رویہ اپنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔ اقلیتی معاملوں کے جانکار ایس علی کا ماننا ہے کہ جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل اصولوں  کو طاق پر رکھ‌کر ہوئی ہے۔ علی اس بابت کہتے ہیں کہ حج قانون 2002 کے حصہ 03 کا شمارہ نمبر 18 میں واضح طور پر لکھا  ہے کہ اسٹیٹ حج کمیٹی 16 رکنی ہوگی۔ جس میں ایک رکن پارلیامان اور دو مقامی ایم ایل اے ہوں‌گے۔

 تین ایسے  مسلم ممبر ہوں‌گے، جو لوکل باڈی کے ممبر ہوں۔ جیسے شہر کارپوریشن، شہر کاؤنسل کے کونسلر وغیرہ کے ممبر۔ وہیں تین ممبر مسلم معاملوں کے جانکار ہوں‌گے۔ 5ممبر ایسے  ہوں‌گے جو پبلک ایڈمنسٹریشن، تعلیم یا سوشل ورکر کے شعبہ  سے جڑے ہوں۔ جبکہ جھارکھنڈ وقف بورڈ کے صدر اور حج کمیٹی کے عاملہ اہلکار بھی ممبر ہوں‌گے۔ لیکن حکومت نے ان تمام نکات  کو نظرانداز کر کے کمیٹی کی تشکیل کی ہے۔

ان نکات  پر سوال اس لئے کھڑے کئے جا رہے ہیں کیونکہ اس کو لےکر کچھ غلطیاں  سامنے آئی ہیں۔ جھارکھنڈ میں دو ہی مسلم ایم ایل اے ہے جو کانگریس سے ہے۔ لیکن ایک ہی ایم ایل اے عالمگیر عالم کو ممبر کے لئے نامزد کیا گیا۔ اس پر رابطہ حج کمیٹی کے سرپرست مطلوب امام کہتے ہیں کہ حکومت نے سیاسی بدلے کے جذبہ سے کمیٹی کی تشکیل کی ہے۔ چونکہ دونوں ایم ایل اے کانگریس سے ہی ہیں، اس لئے ایک کو ہی جگہ دی گئی ہے۔ وہیں جن 3 لوگوں کو وارڈ کاؤنسلر کی آدھار کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے، ان میں سے دو لوگ کاؤنسلر ہی نہیں ہیں۔

WardCommissioner

 نوٹیفکیشن میں دکھایا گیا ہے کہ اقرارالانصاری گوڈا کے وارڈ نمبر 11 کے کاؤنسلر ہیں اور عرفان احمد دھنباد چیرکنڈا شہر کاؤنسل کے وارڈ نمبر 03 سے کاؤنسلر ہیں۔ جبکہ دستاویز میں ان جگہوں سے اوشا دیوی اور یوگ ناتھ گوسوامی کاؤنسلر ہیں۔ ایس علی کہنا ہے کہ پبلک ایڈمنسٹریشن ، تعلیم، کلچر، سوشل ورکر سے 5 لوگوں کی جگہ 7 لوگوں کو منتخب کیا  گیا ہے۔ اور ان کو کس بنیاد پر ممبر کے طور پر نامزد کیا گیا اس بارے میں واضح نہیں کیا گیا ہے۔ وہیں ریاست میں وقف بورڈ تو ہے، لیکن اس کا صدر گزشتہ چار سال سے  منتخب نہیں  کیا جا سکا ہے۔ جبکہ حج کمیٹی کے عاملہ اہلکار کا بھی نوٹیفکیشن میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

ایک طرف جہاں پہلی بار حج کمیٹی میں کسی خاتون کو ممبر بنائے جانے کا استقبال کیا گیا، وہیں عمارت شریعہ سے کسی کو بھی شامل نہیں کئے جانے پر اعتراض جتایا گیا۔ حج کمیٹی کے سابق ممبر خورشید حسن رومی کہتے ہیں کہ کمیٹی کی تشکیل میں متعلقہ شعبہ  کے تجربہ کار سماجی کارکنان کو ممبر بنایا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار کمیٹی میں بی جے پی اور سنگھ سے جڑے لوگوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایس علی کا بھی یہی الزام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کمیٹی سیاسی جماعت جیسی ہے، جس میں ایک ہی نظریات کے لوگ شامل ہیں۔

HajComittee_Jharkhand

وہیں ذرائع کی مانے تو کمیٹی میں بی جے پی کے 7 اور سنگھ کے مسلم راشٹریہ منچ سے 3 لوگ شامل ہیں۔ اس میں بی جے پی سے کاظم قریشی، محمد فیروز انصاری، محمد اقرارالانصاری، رضوان خان، عرفان احمد، محفوظ عالم ہیں۔ جبکہ فرحانہ خاتون، وکیل تنویر عباس سنگھ کے مسلم راشٹریہ منچ سے جڑے بتائے جاتے ہیں۔ جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کی تشکیل کو لےکر مسلم تنظیموں نے گورنر، سی ایم، جھارکھنڈ کے ویل فیئر سکریٹری، چیف سکریٹری اور مرکزی اقلیتی وزارت کو تحریری شکایت کر کے مانگ کی  ہے کہ کمیٹی کو منسوخ کر کےحج ریگولیشن  2002 کے تحت تشکیل کی جائے۔ ایس علی نے کہا کہ اگر حکومت اس کو نظرانداز کرے‌گی، انصاف کے لئے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں‌گے۔

کانگریس ایم ایل اے عرفان انصاری نے کہا کہ حج کمیٹی کی تشکیل بنا اصول کے ہی کر دی گئی ہے۔ اس میں سنگھ اور بی جے پی کے لوگوں کو بھرا گیا ہے۔ یہ فرضی کمیٹی ہے۔ انہوں  نے مانگ کی ہے کہ کمیٹی کو رد کر کے  پھر سے ریگولیشن  کے مطابق تشکیل کی جائے۔

اس پورے معاملے پر جب جھارکھنڈ اقلیتی فلاح و بہبودکے وزیر لوئیس مرانڈی کا پاس ان کی رائے جاننے کے لئے فون کیا گیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا ۔ 8 گھنٹے کے وقفے میں کئی کال کی گئی لیکن انہوں نے ایک بھی کال ریسیو نہیں کی۔ جبکہ ان کو اس بابت میسیج بھی کیا گیا  لیکن جواب کچھ بھی نہیں ملا۔ اسی طرح جھارکھنڈ کے ویل فیئر ڈپارٹمنٹ  کی سکریٹری ہمانی پانڈے کو فون اور میسیج کیا گیا  لیکن انہوں نے بھی یہی رخ اپنائے رکھا۔