خبریں

دابھولکر اور پانسرے کے قتل کی تفتیش میں اور تاخیر برداشت نہیں کی جائے‌گی : بامبے ہائی کورٹ

عدالت نے کہا کہ دابھولکر اور پانسرے کے بعد دوسرے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے ان کے ناموں کی فہرست میڈیا میں پھیلائی جا رہی ہے۔ لبرلس اور سماجی کارکنان کو ڈر ہے کہ اگر وہ اپنے خیال عام  کرتے ہیں تو ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے (فوٹو بشکریہ : پی ٹی آئی)

نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے (فوٹو بشکریہ : پی ٹی آئی)

نئی دہلی : بامبے ہائی کورٹ نے سی بی آئی اور ایس آئی ٹی پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کی تفتیش میں اور تاخیر  برداشت نہیں کرے‌گی۔ کورٹ نے کہا کہ سی بی آئی اور مہاراشٹر سی آئی ڈی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کی موت کی مناسب تفتیش کریں کیونکہ لبرل اور سماجی کارکنان کو ڈر ہے کہ اگر وہ اپنے خیال عام  کرتے ہیں تو ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

کورٹ نے کہا کہ دابھولکر اور پانسرے کے بعد دوسرے  لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے ان کے ناموں کی فہرست میڈیا میں پھیلائی جا رہی ہے۔ واضح ہو  کہ جسٹس ایس سی دھرمادھیکاری اور جسٹس بھارتی دانگرے کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ بنچ نے کہا، ‘ دابھولکر اور پانسرے کے قتل کے بعد، کرناٹک میں ایسے ہی کچھ اور واقعات ہوئے ہیں۔  سماجی کارکنان کو ڈر ہے کہ اگر وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو ان کو نشانہ بنایا جائے‌گا۔ ‘

بنچ نے کہا کہ افسروں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے  کہ وہ غیر جانبدارانہ تفتیش کرنے کے لئے مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ، تفتیش میں کسی بھی طرح کی تاخیر  پر اس عدالت کو وضاحت دینے کی ضرورت ہوگی۔ وہیں، دابھولکر اور پانسرے کی فیملی کے وکیل ابھئے نیواگی نے عدالت کو مطلع کیا کہ ریاست نے پانسرے کی فیملی کے ممبروں کو دی گئی پولیس سکیورٹی  بڑھا دی ہے۔ نیواگی نے کہا، ‘ حفاظت بڑھانے سے فیملی والے فکرمند ہیں اور وہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ان کے تحفظ  کو لےکر کوئی نیا خطرہ ہے۔ ‘

وہیں دی ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی بی آئی اور ریاست کی سی آئی ڈی کی اسپیشل  جانچ  ٹیم نے کورٹ سے گزارش کی تھی کہ وہ تفتیش سے متعلق کچھ باتیں خفیہ طور سے ججوں کے چیمبر میں بتانا چاہتے ہیں اور اس سے متعلق خفیہ اور حساس اطلاعات کو جمع کرنا چاہتے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل ابھئے نیواگی نے اس بات کی سخت مخالفت کی۔ جانچ  ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ باتیں اوپن کورٹ میں نہیں کہی جا سکتی ہیں۔ نیواگی نے کہا کہ اس تفتیش کا کوئی منطقی حل نکلنا چاہیے۔

سماعت کے دوران کورٹ میں سی بی آئی کے جوائنٹ   ڈائریکٹر  شرد اگروال اور ریاستی حکومت کے اڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) سنیل پوروال موجود تھے۔ سی بی آئی کے لئے اڈیشنل  سالیسٹر جنرل انل سنگھ اور ریاستی حکومت کے اسپیشل  وکیل اشوک مندرگی نے کہا کہ یہ افسر جانچ کی حساس انفارمیشن  کو لےکر خوف زدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں کورٹ کے ریکارڈ میں نہیں ہونی چاہیے۔ مندرگی نے کہا، ‘ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو  اوپن کورٹ میں نہیں کہی جا سکتی ہیں۔ ان چیزوں میں وکیل بھی شامل نہیں ہوں‌گے۔ ‘

 حالانکہ کورٹ نے افسروں کی اس مانگ کو ٹھکرا دیا۔ کورٹ نے کہا کہ چیمبر میں ملاقات کرنے سے ایک نئے طریقے کی روایت کی شروعات ہو جائے‌گی۔ کورٹ نے کہا کہ جانچ  ایجنسیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار ہوکر اور صحیح طریقے سے تفتیش کریں۔ یہ چیزیں اوپن کورٹ میں ہو سکتی ہیں اور تفتیش کو جلد سے جلد پورا کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ کورٹ نے کہا کہ وہ دو ہفتے کے اندر سیل  بند لفافے میں خفیہ اور حساس انفارمیشن  کو سیدھے ججوں کو دیں۔

واضح ہو  کہ نریندر دابھولکر کا 20 اگست 2013 کو پونے میں صبح کی سیر کے دوران گولی مار‌کر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہیں گووند پانسرے کو 16 فروری 2015 کو کولہاپور میں گولی ماری گئی تھی اور اسی سال 20 فروری کو ان کی موت ہو گئی تھی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے  ان پٹ کے ساتھ)