خبریں

کھیل کی دنیا :ہیما کے بعد نیرج چوپڑہ کا جلوہ اور کرکٹ میں رشوت خوری کا معاملہ

کھیل کی دنیا : دنیا کے سب سے تیز انسان کا خطاب پا چکے اور کئی ریکارڈ اپنے نام کرنے والے اوسین بولٹ اب فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں۔وہیںہیماداس کے بعد اب نیرج چوپڑا نے فرانس میں منعقد اتھلیٹ میٹ کے دوران جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کرکے کمال کر دیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

اگر ایسا کہا جائے کہ ان دنوں ہندوستانی اتھلیٹ عالمی سطح پر پہلے کے مقابلے کچھ بہتر کھیل پیش کر رہے ہیں تو  غلط نہیں ہوگا۔گزشتہ دنوں آسام کی ہیما داس نے انڈر20عالمی چمپئن شپ میں400میٹر کی ریس 51.46سیکنڈ میں پوری کرکے جہاں نئی تاریخ رقم کر دی وہیں اب نیرج چوپڑا نے فرانس میں منعقد اتھلیٹ میٹ کے دوران جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کرکے کمال کر دیا ہے۔یہ ان کے لئے بڑی بات اس لئے بھی ہے کہ اس دوران انہوں نے2012میں اولمپک میں گولڈ میڈل جیتنے والے کورشون والکوٹ کو بھی پیچھے چھوڑا۔

پانی پت سے تعلق رکھنے والے نیرج چوپڑا نے 2016میں عالمی جونیئر چمپئن شپ کے دوران 86.48میٹر کے عالمی ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا تھا۔اسی سال گولڈ کوسٹ میں منعقد دولت مشترکہ کھیلوں میں بھی نیرج کو گولڈ میڈل ملا تھا۔چوپڑا کی اس شاندار کامیابی کے بعدجکارتہ میں18اگست سے شروع ہونے والے ایشین گیمز میں ان سے شاندار کارکردگی کے ساتھ میڈل کی امید کی جانے لگی ہے۔

نیرج چوپڑہ ،فوٹو: ٹوئٹر

نیرج چوپڑہ ،فوٹو: ٹوئٹر

ہندوستان کی ٹیم انگلینڈ سے تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں 2-1سے ہار گئی۔اب اسے پانچ ٹسٹ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ٹسٹ سیریز کے لئے جن کھلاڑیوں کا اعلان ہوا ہے ان میں جہاں رشبھ پنت کوپہلی بارقومی ٹسٹ ٹیم میں شمولیت سے خوشی ملی ہے وہیں روہت شرما کو ایک بار پھر مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ میں جیت ملے گی یا نہیں ملے گی یہ تو بعد کی بات ہے مگر روہت کو نظر انداز کرنے سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔اسے روہت شرما کی بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ انہیں انگلینڈ کے حالیہ دورہ پر لگاتار دو سنچری بنانے کے باوجود ٹیم میں جگہ نہیں ملی۔

ٹسٹ میں جگہ بنانے میں وہ کتنے ناکام رہے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے2007میں اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا ۔اس کے بعد سے وہ اب تک 183یک روزہ میچ اور 84ٹی20میچ کھیل چکے ہیں مگر اس دوران انہیں صرف 25ٹسٹ میچ کھیلنے کا موقع ملا ہے۔یہ صحیح ہے کہ روہت ٹسٹ میں بہت کامیاب نہیں رہے ہیں مگر جس بلے باز نے یک روزہ کرکٹ میں تین ڈبل سنچری اور ٹی20میں تین سنچری بنائی ہو اسے ٹسٹ ٹیم میں جگہ نہ ملے تو حیرانی تو ہوتی ہی ہے۔

کرکٹ شریفوں کا کھیل مانا جاتا ہے مگر اس میں آئے دن بدمعاشیوں کی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔کبھی میچ فکسنگ، کبھی اسپاٹ فکسنگ، کبھی سٹے بازی ،کبھی رشوت خوری تو کبھی سیکس کا مطالبہ۔پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی ہے مگراب تازہ معاملہ یہ سامنے آیا ہے کہ آئی پی ایل میں شمولیت کے لئے آئی پی ایل کے چیئرمین راجیو شکلا کے اسسٹنٹ سیکریٹری اکرم سیفی نے راہل شرما نام کے ایک کرکٹر سے رشوت مانگی۔راجیو شکلا اتر پردیش کرکٹ ایسو سی ایشن کے بھی سیکریٹری ہیں۔

جو اسٹنگ سامنے آیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ سیفی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل یا ریاستی ٹیم میں شامل کرنے کےلئے رشوت کی بات کر رہے ہیں ۔یہیں نہیں سیفی لڑکیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کےلئے سیکس کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ فی الحال سیفی نے استعفیٰ دے دیا ہے اوربی سی سی آئی کی اینٹی کرپشن یونٹ نے اس الزام کی جانچ کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔اس جانچ کا نتیجہ کیا آتا ہے یہ دیکھنا تو دلچسپ ہوگا ہی البتہ شریفوں کے کھیل کرکٹ پر ایک اور بدنما داغ لگ گیا ہے۔

ایسٹ بنگال نے اپنے روایتی حریف موہن بگان کو فائنل میں شکست دے کر 122ویں آئی ایف اے شیلڈ کا خطاب اپنے نام کر لیا۔یہ ایسٹ بنگال کا29واں خطاب ہے۔آئی ایف اے شیلڈ میں اتنے خطاب کسی دوسری ٹیم نے نہیں جیتے ہیں۔فائنل مقابلہ بڑا دلچسپ رہا۔مقررہ ٹائم تک دونوں ٹیموں کا گول برابر رہا۔اس کے بعدفاضل وقت دیا گیا اس میں بھی گول نہیں ہو سکا۔اس کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ کا سہارا لیا گیاجس میں موہن بگان کے کھلاڑی پہلی دو کک پر گول نہیں کر سکے۔

دنیا کے سب سے تیز انسان کا خطاب پا چکے اور اتھلیٹکس میں دوڑ کا کئی ریکارڈ اپنے نام کرنے والے اوسین بولٹ اب فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں۔حالانکہ وہ بہتر فٹبال کھیلتے ہیں مگر انہوں نے اتھلیٹکس کو ہی اپنا کیریئر بنایا اور اپنے کئی شاندار ریکارڈ کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہوئے۔دوڑ میں ان کی شہرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 8مرتبہ اولمپک گولڈ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔اگر بولٹ ٹرائل میں کامیاب ہو گئے تو انہیں آسٹریلیا کی اے لیگ میں کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس کے لئے انہیں پہلے سنٹرل کوسٹ مرینرس کلب کے ٹرائل میں شرکت کرنی ہوگی جہاں انہیں چھ ہفتوں تک ٹرائل دینا ہوگا۔اگر وہ ٹرائل میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں اسی کلب کےلئے کھیلنے کا کانٹریکٹ مل سکتا ہے۔