خبریں

آئی آئی ایم سی : اردو جرنلزم کورس کی خستہ حالی کے لیے ذمہ دار کون؟

آئی آئی ایم سی کے سبھی کورسیز کے مقابلے میں اردوجرنلزم کورس میں ہی سب سے کم امید وار آتے ہیں۔ ہر تعلیمی سال کے آخر میں مختلف میڈیا ہاؤس کیمپس سلیکشن کے لئے آتے ہیں،لیکن اردو میڈیا ہاؤس بہت  کم آتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

 نئی دہلی:حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات کے ماتحت ادارہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن (آئی آئی ایم سی) میں پی جی ڈپلومہ ان اردو جرنلزم  کا کورس کافی خستہ حالت میں چل رہا ہے۔اس میں 15 سیٹ ہونے کے باوجود اس سال  نئے داخلہ  کے لئے صرف 6 طلبا کا نام لسٹ میں موجود  ہے۔

کورس کو آرڈنیٹر پروفیسر ہیمنت جوشی کے مطابق اس کورس کے لئے 11 فارم بھرے گئے۔انہوں نے دی وائر کو بتایا کہ صرف 6 طلبا  انٹرویو میں شریک ہوئےاور انہی کو داخلہ کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے 3 دوسرے ریجنل کورسیز میں بھی سیٹ سے کم طالب علم داخلہ لے رہےہیں۔ پی جی ڈپلومہ ان مراٹھی جرنلزم اور پی جی ڈپلومہ ان ملیالم جرنلزم میں  15  الگ الگ سیٹیں ہیں اور ان دونوں کے فائنل لسٹ میں11۔1- طالب علموں کے نام موجود ہیں۔اسی طرح اڑیہ جرنلزم کورس میں 23 سیٹ ہے اور اس سال 22 طالب علموں کے نام نئے داخلہ کی لسٹ میں موجود ہیں۔لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مراٹھی اور ملیالم جرنلزم کے کورس صرف ایک سال پہلے شروع کئے گئے ہیں۔

غور طلب ہے کہ آئی آئی ایم سی کے سبھی کورسیز کے مقابلے میں اردوجرنلزم کورس میں ہی سب سے کم امید وار آتے ہیں۔اس سے پہلے بھی  اردو جرنلزم  کورس میں  مقررہ سیٹ سےکم طالب علم پڑھ کر فارغ ہوتے رہے ہیں۔سال 18-2017میں اس کورس کے طالب علم رہے غلام جیلانی کے مطابق ان کے ساتھ صرف 5 لوگوں نے یہ کورس پورا کیا۔اسی طرح سال 17-2016کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال 6 طالب علموں نے یہ کورس پورا کیا۔اس سے قبل 2015 میں ڈپلومہ ان اردو جرنلزم کے طالب علم رہے  سہیل اختر قاسمی   کے مطابق ان کے ساتھ 8 طالب علموں نے یہ کورس پورا کیا۔

اس کورس کے سابق طالب علم رحمت کلیم  نے دی وائر کو بتایا کہ؛اب تک یہ سیٹ پوری طرح سے نہیں بھری ہے۔ان کا ماننا ہے کہ زیادہ لوگوں کو یہ جانکاری نہیں ہے کہ  اتنی فیس میں اتنا اچھاکورس کرایا جاتا ہے۔اسی طرح   شعبہ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے  صدرپروفیسر شہپر رسول نے بھی اس کورس کے بارے میں اردو طلبا کے کم واقف ہونے کی بات کہی۔انہوں نے بتایاکہ؛اس کی وجہ یہ ہے کہ اس  سلسلے میں لوگوں کو جانکاری نہیں ہے۔اس کا کوئی اس طرح سے اشتہار نہیں کیا جاتا ۔ہمیں کہاں معلوم ہے کہ اس طرح کا کوئی کورس وہاں ہوتا بھی ہے! جبکہ اس سلسلے میں پوچھے جانے پر کہ اس  کورس  کےکو آرڈنیٹر پروفیسر ہیمنت جوشی نے کہا کہ ؛ہم اردو اخباروں میں اس کا اشتہار نکالتے ہیں اور اب سے ہم اردو اسکولوں میں بھی اس کا اشتہار کریں گے۔

واضح ہوکہ آئی آئی ایم سی میں پی جی ڈپلومہ ان اردو جرنلزم کی فیس 43000 ہے اوراس میں اخبار نویسی،کیمرے کی ٹریننگ،ریڈیو کمیونی کیشن ،پی آر،نیو میڈیا، ڈیولپمنٹ جرنلزم کے ساتھ ساتھ  دیگرسبجیکٹ بھی پڑھائے جاتے ہیں۔غور طلب ہے کہ اردو جرنلزم کایہ  کورس کرنے  والے طالب علموں کا پلیس منٹ ریکارڈ بھی بہت اچھا نہیں رہا ہے۔ آئی  آئی ایم سی  میں ہر تعلیمی سال کے آخر میں مختلف میڈیا ہاؤس کیمپس سلیکشن کے لئے آتے ہیں۔لیکن اردو میڈیا ہاؤس بہت ہی کم آتے ہیں۔سہیل اختر کے مطابق 2015 میں ان کا کورس پورا ہونے پر کوئی اردواخبار،ایجنسی یا نیوز چینل کیمپس سلیکشن کے لئے نہیں آیا اور اب ان کے زیادہ ساتھی صحافت چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ان میں سے دو اب پروفیسر ہو چکے ہیں۔

 سید فاضل احمد  نے بتایا کہ تعلیمی  سال17-2016 کے آخر میں ای ٹی وی بھارت اردو طالب علموں کے سلیکشن کے لئے آئی  اور  4 طالب علموں کو اس نے 16000 روپے کی  ماہانہ تنخواہ  پر حید رآباد میں نوکری آفر کیا ۔لیکن صرف 2طالب علم ہی یہ نوکری کرنے حیدرآباد گئے۔ ابھی ان کے 6 ساتھیوں میں سے صرف3 ہی صحافت کے پیشہ سے جڑے ہیں جب کہ سید فاضل اور ان کے ساتھی محمد تسلیم ابھی  تک نوکری کی تلاش میں  جد و جہد کر رہےہیں۔اسی طرح غلام جیلانی کے مطابق سال  18-2017 کے آخر میں بھی  اردو جرنلزم کے طالب علموں کے لئے صرف ای ٹی وی بھارت آئی اور اس نے   3 طالب علموں کو 16000 کی  ہی تنخواہ پر حیدرآباد میں نوکری کی پیش کش کی ۔وہ تینوں حیدرآباد میں نوکری کررہے ہیں۔جب کہ ان کے بقیہ 2 ساتھی ابھی نوکری کی تلاش میں ہیں۔

لیکن  ڈائریکٹر جنرل کے جی  سریش نے دی وائر سے کہا کہ اردو کے طلبا کا پلیس منٹ ہوجاتا ہے۔آگے  انہوں نے  اردو جرنلزم کے طالب علموں  کے لئے ہندی میڈیامیں بھی کام کرنے کی بات کہی۔انہوں نے کہا کہ؛اردو اور ہندی والوں کو ایک ہی چیز سکھائی جاتی ہے۔صرف Language Content الگ ہوتا ہے۔تو ان کے لئے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ ہندی میڈیا میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ آئی آئی ایم سی میں  اردو جرنلزم کا کوئی استاد موجود نہیں ہے۔ان کوزیادہ تر  ہندی جرنلزم کے استاد ہی پڑھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کورس کو آرڈنیٹر پروفیسر جوشی خود ہندی جرنلزم کے پروفیسر ہیں۔ سہیل اختر کے مطابق وہاں اردو جرنلزم کے  فیلڈ سے گیسٹ فیکلٹی بھی بہت  کم ہی  بلائے جاتے ہیں۔اس وجہ سے اردو جرنلزم فیلڈ کے لوگوں سے ان کے مراسم بن نہیں پاتے اور اس طرح اردو طالب علموں کو نوکری ڈھونڈنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

غلام جیلانی کے مطابق ہفتےمیں دو تین مرتبہ ہی اردو فیلڈ سے کوئی گیسٹ فیکلٹی ان کی الگ کلاس لینے کے لئے آتے تھے۔ورنہ اکثر ان کی کلاس ہندی جرنلزم کی کلاس کے ساتھ مشترک ہوتی تھیں۔ ڈائریکٹر کے جی سریش نے اس کی وجہ طالب علموں کی کم تعداد کو بتایا ۔انہوں نے کہا کہ؛ ڈپارٹمنٹ فل فلیجڈ تبھی بن پائے گا جب اس میں بچے پڑھیں گے ورنہ ہندی اور اردو کو ساتھ میں چلانا پڑتا ہے۔جب کہ کورس کو آرڈنیٹر پروفیسر جوشی نے طالب علموں کے دعوے کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ  ہر روز  2 سے 5 بجے تک ان کی الگ کلاس ہوتی ہے۔صبح میں ان کی کلاس (ہندی جرنلزم کورس) کے ساتھ مشترک ہیں۔

اس کورس کی فیس 43000 روپے ہے۔لیکن اتنی فیس ادا کرنا بھی اردو طالب علموں کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔جامعہ میں ایم اے۔ اردو کے طالب علم یاسر سہیل نے  دی وائر کو بتایا کہ؛میں اس میں داخلہ لینا چاہتا تھا لیکن اتنی فیس دیکھ کر اس کا فارم نہیں بھرا۔ اس بارے میں ڈائریکٹر سریش نے کہا کہ انہوں نے  مرکزی وزارت اقلیتی امور سے مالی امداد  کی درخواست کی ہے اوروزیر لیکن غور طلب ہے کہ دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق  اقلیتی طلبا کو ملنے والے  اسکالر شپ اسکیموں کی ادائیگی میں بڑی گراوٹ آئی ہے۔

اردو کے علاوہ اڑیہ جرنلزم کورس میں سیٹ سے 1کم  جبکہ مراٹھی اور جرنلزم کورس میں 4-4 کم داخلے ہوئے ہیں۔لیکن یہ قابل غور ہے کہ مراٹھی اور ملیالم جرنلزم کے کورسیز  تعلیمی سال 18-2017میں شروع کئے گئے  اور مراٹھی جرنلزم کورس آئی آئی ایم سی کے امراوتی،مہاراشٹر سینٹر پر کرایا جاتاہے۔ملیالم کورس کیرالہ کے کوٹایم سینٹر پر اور اسی طرح اڑیہ کورس اڑیسہ کے دھینک نال سینٹر پر کرایا جاتا ہے۔کوٹایم سینٹر کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر انل کمار نے ملیالم جرنلزم کورس میں کم طالب علم ہونے ے بارے میں بتایا کہ اس کا تعلق ملیالم جرنلزم میں طالب علموں کی کم دلچسپی سے نہیں ہے۔اس کی  سادہ سی  وجہ یہ ہےکہ   پبلک سروس کمیشن آف کیرالہ نے  اس کورس کے انٹرنس امتحان کے دن ہی کانسٹبل کے عہدوں کے لئے سلیکشن کی تاریخ مقرر کی تھی اور اس میں تقریباً 7 لاکھ لوگوں نے فارم بھرا تھا۔اس لئے اس کورس (پی جی ڈپلومہ ان ملیالم جرنلزم) کے امیدوار (کانسٹبل کے امتحان میں شریک ہونے کے سبب) انٹرنس امتحان دینے نہیں آسکے۔انہوں نے بتایا کہ  سال 18-2017میں پی جی ڈپلومہ ان ملیالم جرنلزم سے 12 طالب علم پاس آؤٹ ہوئے اور ان سب کا کیمپس سلیکشن ہوا۔

ان کے علاوہ امراوتی سینٹر کے  ریجنل دائریکٹر ندیم خان اور دھینک نال سینٹر کے نلن مشرا سے رابطہ کئے جانے پر انہوں نے  اس بارے میں کچھ بتانے سے منع کیا اور ڈائریکٹر جنرل سے بات کرنے کا حوالہ دیا۔ ڈائریکٹر جنرل کے جی سریش  سے اڑیہ،مراٹھی اور ملیالم کورسیز میں کم طالب علم آنے کے بارے میں  پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ؛ان (کورسیز)میں اتنے کم (طالب علم )نہیں ہیں جتنے اردو میں ہیں۔انہوں نے اس کی ایک وجہ یہ  بتائی کہ کچھ سیٹیں ایس سی ایس ٹی کے لئے ریزرو ہوتی ہیں ۔اس طرح 15 میں 4 سیٹیں ایس ایس ایس ٹی اور او بی سی کے لئے ریزرو ہو گئیں اور اگر ان سیٹوں پر وہ داخلہ نہیں لیتے ہیں تووہ خالی رہ جاتی ہیں۔سپریم کورٹ کے  آرڈر کے مطابق  ایس سی ایس ٹی کی سیٹیں خالی ہونے پر بھی جنرل کٹیگری کے طالب علم ان پر داخلہ نہیں لے سکتے۔اپنی گفتگو کے دوران ڈائریکٹر سریش نے ےیہ بھی بتایا کہ وہ جموں میں بھی اردو جرنلزم کا کورس شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا؛کیوں کہ سرینگر میں ،کشمیر میں لوگ اردو پڑھتے ہیں اور اردو ہی ان کا میڈیم ہے۔وہاں اس کی گنجائش بہت ہے۔واضح ہو کہ آئی آئی  ایم سی کا ایک سینٹر جموں میں بھی ہے جہاں فی الحال پی جی ڈپلومہ ان انگلش جرنلزم کا کورس ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی آئی ایم سی حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات  کے ماتحت چلنے والا پہلاجرنلزم انسٹی ٹیوٹ ہے۔ انڈیا ٹودے کی رینکنگ  کے مطابق یہ نمبر ون ماس کمیونی کیشن کالج ہے۔ اس  کے تحت   صحافت کے مختلف کورسیز چلائے جاتے ہیں۔ ہندی اور انگریزی کے علاوہ اردو،اڑیہ،مراٹھی،ملیالم،زبانوں میں بھی یہاں  پی جی ڈپلومہ کور س کرائے جاتے ہیں۔مزید برآں ریڈیو اینڈ ٹی وی جرنلزم  اورایڈورٹائزنگ اینڈ پبلک رلیشنز میں بھی یہاں   پی جی ڈپلومہ کا کورس ہوتا ہے۔نئی دہلی کے علاوہ اس  کےریجنل سینٹر جموں، میزورم کی راجدھانی  ایزوال،کیرالہ کے شہر  کوٹایم،مہاراشٹر کے امراوتی اور اڑیسہ کے دھینک نال میں موجود  ہیں۔