خبریں

مدھیہ پردیش : بچہ چوری کے شک میں ذہنی طور پر معذورنو جوان کا پیٹ پیٹ‌کر قتل، 10گرفتار

ڈنڈوری ضلع کے سنگھوارا گاؤں میں بچہ چوری کے شک میں مقامی باشندوں نے ذہنی طور پرمعذور نوجوان کو پیٹ پیٹ‌کر ماردیا،اس کےبعد لاش کو پتھر سے باندھ‌کر کنوئیں میں پھینک دیا تھا۔

Madhya-Pradesh-Dindauli

نئی دہلی :مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری ضلع‎ کے سمناپور تھانہ حلقے میں ذہنی طور پر معذور 27 سالہ ایک نوجوان کو بچہ چوری کے شک میں 10 لوگوں کے ذریعے مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔  سبھی ملزمین کو سوموار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ڈنڈوری ضلع کے ایس پی  کارتی کیئن کے نے بتایا،’27 سالہ مکیش گونڈ کو بچہ چور سمجھ‌کر 10 لوگوں نے لاٹھی اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر اور گلا دباکر مار دیا۔ یہ واقعہ 28 جولائی کی رات تقریباً9 بجے ضلع کے سنگوار گاؤں میں ایک کرانہ دکان کے سامنے روڑڈپر ہوا۔ ‘

انہوں نے کہا کہ مقتول انوپ پور ضلع کے کرن پٹھار پولیس تھانہ حلقے کا رہنے والا تھا اور ذہنی طور پر معذور تھا۔  وہ للا گونڈ  کا بیٹا تھا۔کارتکیئن نے بتایا کہ اس معاملے میں سبھی دس ملزمین جگدیش، چیت رام، سنجے، گنگارام، رام پرساد گونڈ، ہیرا سنگھ گونڈ، رتن سنگھ گونڈ، رامدین گونڈ، نریش گونڈ اور کھیم سنگھ گونڈ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان ملزمین نے مکیش کا قتل کرنے کے  بعد واقعہ کو چھپانے کے لئے اس کے دونوں ہاتھ اور پیر رسی اور کپڑے سے باندھے اور ڈنڈوں پر رکھ‌کرگاؤں میں بنے ایک کنوئیں میں لے گئے اور وہاں پر اس کے پیٹ اور گردن پر پتھر باندھنے کے بعد کنوئیں میں پھینک دیا، تاکہ لاش کنوئیں کی سطح میں چلی جائے۔

کارتکیئن نے بتایا کہ ایک اگست کو یہ لاش کنوئیں میں دکھنے پر سرپنچ کے شوہر سون سنگھ کشواہ نے سمناپور تھانے میں اطلاع دی تھی کہ ایک نامعلوم لاش کنوئیں میں ہے۔  پولیس نے لاش کو کنوئیں سے باہر نکالا اور اس کا پنچ نامہ کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں آیا ہے کہ مکیش کی موت گلا دباکر دم گھٹنے اور گلے کی ہڈیوں کے ٹوٹنے سے چار پانچ دن پہلے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد آئی پی سی کی دفعہ 302 (قتل)کے تحت نامعلوم ملزمین کے خلاف معاملہ درج کیا گیا اور سب ڈویژنل پولیس افسر (اے ڈی او پی)بی ایس دھروے کی قیادت میں اس معاملے کی تفتیش کے لئے پولیس ٹیم تشکیل کی گئی۔

کارتکیئن نے بتایا کہ 28 جولائی کی رات کو تقریبا9 بجے جگدیش، چیت رام، سنجےاور گنگارام سنگھوارا گاؤں کے اسکول کے پاس بنی پلیا پر بیٹھ‌کر شراب پی رہے تھے۔  اسی دوران، اسکول کی طرف سے ایک نامعلوم آدمی آ رہا تھا۔  ان لوگوں نے جب اس کو آواز دی تو وہ اسکول کی طرف بھاگ گیا اور چھپ گیا۔یہ دیکھ کر جگدیش اور چیت رام نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو گاؤں میں لے گئے اور ایک کرانہ دکان کے سامنے روڈ پر لے جاکر پوچھ تاچھ کی، تو اس نے ان لوگوں کو بتایا کہ وہ انوپ پور ضلع کا رہنے والا ہے۔

اس پر ان چار لوگوں کو شک ہوا اور وہ زور زور سے ‘ بچہ چور، بچہ چور ‘ چلانے لگے۔  یہ سن‌کر گاؤں کے چھ دیگر لوگ بھی وہاں لاٹھی اور ڈنڈے لےکر آ گئے اور ان سبھی 10 ملزمین نے اس کی لاٹھی اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ‌کر اور گلا دباکر قتل کر دیا اور بعد میں اس کے دونوں ہاتھ اور پیر رسی اور کپڑے سے باندھے اور اس کی کمر اور گردن پر پتھر باندھ‌کر کنوئیں میں پھینک دیا۔  بعد میں لاش کو کنوئیں میں تیرتا پایا گیا۔؎غور طلب ہے کہ مدھیہ پردیش کی سنگرولی ضلع کے موروا پولیس تھانہ کے تحت بھیڑ نے بچہ چور ہونے کے شک میں ذہنی طور پر معذور ایک نامعلوم خاتون (عمر 25 سے 30 سال کے درمیان) کو 19 جولائی کی رات کو کلہاڑی اور لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ‌کر قتل کر دیا تھا اور بعد میں اس کی لاش کو نالے میں پھینک دیا تھا۔

اس معاملے میں 12 لوگوں کو 22 جولائی کو گرفتار کیا گیا اور ان کو اگلے دن مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ان کو جیل بھیج دیا گیا۔سنگرولی میں ہی 26 جون کو بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔  تب ایک ناچنے اورگانے والا شخص جو ایک تقریب میں شامل ہوکر خاتون کے لباس میں واپس لوٹ رہا تھا، بھیڑ نے اس کو بچہ چور سمجھ‌کر اس پر حملہ کر دیا تھا۔  پیٹ پیٹ‌کر اس کو ادھ مرا کر دیا تھا۔  حالانکہ، وقت رہتے پولیس نے اس کو بھیڑ کے چنگل سے بچا لیا تھا۔بتا دیں کہ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے زیادہ عرصہ سے وہاٹس ایپ پر ایسی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ علاقے میں بچہ چور سرگرم  ہیں۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)