فکر و نظر

آر کے دھون:جنہوں نے اندرا گاندھی کو نماز پڑھوا دی تھی…

اندرا گاندھی کے دورِ اقتدار میں وہ ایسی شخصیت تھے، جس کا سامنا کیے بنا اندرا گاندھی تک کسی کی رسائی ممکن نہ تھی۔اندرا گاندھی پر دھون کا کتنا اثر تھا، یہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 1980 کے نصف اواخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو نماز تک پڑھوا دی۔

rk-dhawan_indiragandhi

ایم او(میک)متھائی،یشپال کپور، ایم ایل فوتیدار اور وِن سینٹ جارج کی ہی طرح راجیندر کمار دھون ان لوگوں میں سے تھے، جو کمزور بیک گراونڈ (جیسے اسٹینو ٹائپسٹ،پرسنل اسسٹنٹ)سے آئے مگر جنہوں نے اقتدار اور اپنے مقام و مرتبے کا خاصا لطف اٹھایا۔

اپنے دور میں ایسا کوئی کام نہیں تھا، جسے دھون المعروف بہ آر کے ڈی نہ کر سکتے ہوں۔اندرا گاندھی کے دورِ اقتدار میں وہ ایسی شخصیت تھے، جس کا سامنا کیے بنا اندرا گاندھی تک کسی کی رسائی ممکن نہ تھی۔ وہ ملاقاتیوں کا پورا انٹرویو لے لیا کرتے تھے بلکہ ٹیلی فون پر بھی ان کا ہی قبضہ رہتا تھا۔ کئی بار تو وہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے فیصلے بھی خود لے لیا کرتےتھے۔ بے حد محنتی دھون کا سن 1963 سے ایک دن بھی چھٹی نہیں لینے کا ریکارڈ ہے۔ سیاست کے مشاق صحافی جناردن ٹھاکر نے ایک بار ان کے الفاظ میں لکھا تھا، “میں وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے ساتھ ہر صبح آٹھ بجے سے تب تک ہوتا ہوں، جب تک کہ وہ سونے کے لیے نہیں چلی جاتیں۔ کوئی سرکاری، غیر سرکاری چھٹی نہیں، کوئی عرضی والی چھٹی نہیں…”

اسی مصروفیت کی وجہ سے شاید دھون نے 74 سال کی عمر کو پہنچ کر اکتوبر 2011 میں پرائم منسٹر آفس کی اپنی پرانی ساتھی اچلا موہن سے شادی کی۔ اس وقت دھون سرگرم سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے، لیکن وہ کانگریس پارٹی کی مجلسِ عاملہ کے مستقل نامزد رکن تھے۔ کانگریس کے بھیتر کچھ حلقوں میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ دھون اور اچلا 1990 سے ساتھ ہیں، اس وقت سے جب کہ اچلا کی طلاق ہوئی تھی۔ دونوں اکثر شادی بیاہ میں یا دیگر سماجی کام کاج میں ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔

اندرا گاندھی پر دھون کا کتنا اثر تھا، یہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ 1980 کے نصف آخر میں انہوں نے وزیر اعظم کو نماز تک پڑھوا دی۔جنوری 1980 کے اوائل میں اندرا گاندھی الیکشن ہار کر اقتدار سے بے دخل ہو چکی تھیں۔اس وقت دھون انہیں دلاسہ دینے کے لیے گرو، مولوی، بابا، منی وغیرہ قسم کے لوگوں کو لایا کرتے تھے۔ انہیں میں ایک دن وہ مولانا جمیل الیاسی کو لے آئے۔ مولانا الیاسی میواتی ہیں اور کستوربا گاندھی مارگ پر واقع بھارتیہ ودیا بھون چوراہے کے قریب ایک مسجد سے منسلک تھے۔ بے حد باتونی مولانا الیاسی نے ایک عجیب سی شرط کے ساتھ ساتویں لوک سبھا الیکشن میں اندرا گاندھی کی زبردست جیت کی پیش گوئی کر دی۔ شرط یہ تھی کہ انہیں اندرا گاندھی کے بیڈ روم میں جانے کی اجازت دی جائے۔ دھون کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے پر مولانا الیاسی سابق وزیر اعظم کی خواب گاہ گئے اور وہاں چھت میں ایک گنڈا باندھ کر آئے۔ انہوں نے اندرا گاندھی کو ہدایت کی کہ پارلیامنٹ میں 350 سے زیادہ سیٹوں پر فتحیاب ہونے کے بعد انہیں بلایا جائے۔ (اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے 353 سیٹیں جیتی تھیں۔)

الیکشن میں فتح سے ہمکنار ہونے کے بعد اندرا گاندھی مولانا الیاسی اور ان کے گنڈے کے بارے میں بھول گئیں۔ اسی دوران 23 جون 1980 کو ایک بھیانک حادثہ ہوا، جس میں اندرا گاندھی کے بیٹے اور میدانِ سیاست میں سرگرم سنجے گاندھی کی بے وقت موت ہو گئی۔ بلاشبہ یہ اندرا گاندھی کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ ایسے وقت میں الیاسی اندرا گاندھی کے حضور پھر حاضر ہوئے، اس الزام کے ساتھ کہ انہیں وہ معجزاتی گنڈا کھولنے کیوں نہیں بلایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی گنڈے کے منفی اثرات اندرا گاندھی کی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔اس گنڈے کو کھولنا ضروری ہے اور اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے بھی فوری کوئی جتن کرنا پڑےگا۔ بہت بڑے صدمے سے دو چار اور اندر سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکیں اندرا گاندھی کو کسی طرح اس کے لیے راضی کیا گیا۔ مونالا الیاسی نے انہیں خدا کی عبادت کرنے یعنی نماز ادا کرنے کا راستہ سجھایا۔ اس پر وزیرِاعظم ہند نے کہا کہ انہیں نماز پڑھنا نہیں آتی۔ تب الیاسی نے انہیں صلاح دی کہ جیسا میں کروں ویسا آپ کرتی جانا اور آر کے دھون کی نگرانی میں یہ عبادت ادا کی گئی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

آر کے دھون کو خراج عقیدت پیش کرتی ہوئیں کانگریس رہنما سونیا گاندھی،فوٹو: پی ٹی آئی

دھون خود بہت مذہبی ہو گئے تھے، جب انہیں اندرا گاندھی کے قتل کی جانچ کے لیے تشکیل دیے گئے ایم پی ٹھکر کمیشن میں شامل کیا گیا۔ اس کمیشن کی رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا، لیکن راجیو گاندھی کو پریشان کرنے کے لیے اس کے کچھ چنندہ حصے لیک کیے جاتے رہے۔ جن سے اندرا گاندھی قتل معاملے میں شک کی سوئی ان کے پرسنل اسسٹنٹ یعنی آر کے دھون کی جانب بھی گھومتی تھی۔ اندرا گاندھی کی حفاظت پر مامور دو سیکیورٹی گارڈس نے جب ان پر گولیاں چلائیں تو دھون اندرا گاندھی سے محض دو قدم پیچھے تھے۔ بے انت و ستونت سنگھ نے اندرا گاندھی کو بہت قریب سے نشانہ بنا کر کئی گولیاں چلائیں۔ غیر مصدقہ طور پر یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا کہ بے انت نے اپنے جونیئر ستونت کو خاص ہدایت دی تھی کہ اس حملے میں دھون کو کسی بھی طرح کی چوٹ نہ آئے۔ اندرا گاندھی کے خون میں اپنے ہاتھ رنگنے سے پہلے تک بے انت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی و ان کے اہلِ خانہ سے خاصی قربت تھی۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ  1 صفدر جنگ روڈ کا وہ جانا پہچانا چہرہ تھا۔ بعد میں راہل گاندھی نے یہ انکشاف کیا کہ بے انت سنگھ نے انہیں بیڈ منٹن کھیلنا سکھایا تھا۔

کچھ سالوں پہلے کی ہی بات ہے، اسٹینو ٹائپسٹ سے سیاست میں اونچے مقام تک پہنچنے والے دھون سب سے الگ تھلگ تنہائی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ اُن دنوں اپنے گناہوں، غلطیوں کی معافی تلافی کرنے دہلی کے بابا کھڑگ سنگھ مارگ پر واقع ہنومان مندر پابندی سے جایا کرتے تھے۔ دھون کے اس طرح کفارہ ادا کرنے نیز معافی کی بھیک مانگنے سے لاعلم راجیو گاندھی نے بوفورس اور وی پی سنگھ کی بغاوت جیسے شدید جھٹکوں کے بعد انہیں پھر بلا بھیجا۔ دھون ایک بار پھر پوری طرح سرگرم ہو گئے اور اچانک ان کا دربار ان ریاستوں کے مکھیہ منتریوں و صدور، جہاں کانگریس کی سرکار تھی نیز مرکزی وزیروں سے آباد رہنے لگا۔

امبیکا سونی اور جگموہن کو چھوڑ کر ایامِ ایمرجنسی کے اہم شاہد صرف دھون تھے۔ سند کے لیے اتنا بتا دیں کہ ایمرجنسی لگانے کے معاملے میں دھون نے ہمیشہ اندرا گاندھی کا دفاع کیا۔ وہ سدھارتھ شنکر رے اور ایچ آر گوکھلے جیسے لوگوں کو اس کا موردِ الزام ٹھہراتے تھے کہ ان لوگوں نے اندرا گاندھی کو اندرونی انتشار سے نپٹنے کے لیے آئینی شقوں کے بارے میں گمراہ کیا۔

 وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ سے سنجے گاندھی کے کمرے تک ایک متوازی ٹیلی فون لائن بچھا دینے کا ‘کارنامہ’ دھون ہی انجام دے سکتے تھے۔ تعجب خیز امر یہ تھا کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی سرکار تھی، وہاں کے وزرائے اعلیٰ کو اکثر و بیشتر موقعوں پر سنجے کی طرف سے فون کیے جاتے یا انہیں احکامات صادر کر دیے جاتے، جبکہ اندرا گاندھی کو اپنے بیٹے کی ان غیر آئینی کرتوتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ 21 ماہ لمبی ایمرجنسی کے دوران جیل میں بند ایسے لیڈران کا دھون سہارا بن گئے، جو بیمار تھے یا بڑھاپے کے چلتے لاغر ہو چکے تھے۔ حالانکہ یہ ہمدردی یا انسانیت کے جذبے سے کی جانے والی نیکی نہیں تھی۔ اس خصوصی مہربانی کے بدلے انہیں ایک کاغذ پر دستخط کرکے دینا ہوتا تھا، جس پر یہ لکھا ہوتا کہ “ہمیں بیس سوتریہ کاریہ کرموں پر وشواس ہے۔”

ملک کی زراعتی پیداوار بڑھانے و صنعتی ترقی کو پرواز دینے کے نقطہ نظر سے 20 نکاتی پروگرام اندرا گاندھی کا پسندیدہ منصوبہ تھا۔ سیاست کی زبان میں کہیں تو 20 نکاتی پروگرام سے اتفاق کرنا اندرا گاندھی کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے جیسا عمل تھا۔ پارلیامنٹ کے باہر و بھیتر دھون اکثر اس فہرست کو طشت از بام کرنے کی دھونس دیا کرتے تھے، جس میں ایسے نیتاؤں کے نام درج تھے جنہوں نے 20 نکاتی پروگرام سے سمجھوتہ کیا تھا۔ وہ فہرست انہوں نے راقم کے ساتھ شیئر کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

(صحافی اور کالم نگار رشید قدوائی اوآرایف کے وزیٹنگ فیلو ہیں۔)