خبریں

سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا ؛ کریمی لیئر کو پرموشن میں ریزرویشن کے فائدے سے محروم نہیں کیا جاسکتا

اعلیٰ قانونی افسر نے بتایا کہ حالانکہ کمیونٹی کے کچھ لوگ اس سے ابر چکے ہیں لیکن پھر بھی ذات اور پسماندگی کا ٹھپہ ابھی بھی ان پر لگا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کریمی لیئر کے اصول کو نافذ کرکے ایس سی ایس ٹی سے آنے والے سرکاری ملازمین‎ کوپروموشن میں ریزرویشن کے فائدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔  سپریم کورٹ  نے کہا کہ ذات اور پسماندگی کا ٹھپہ اب بھی کمیونٹی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔  اٹارنی جنرل کےکے وینو گوپال نے پانچ ججوں والی اور چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی آئینی بنچ کو مطلع کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے جو یہ کہتا ہو کہ ایس سی / ایس ٹی کمیونٹی کےکریمی لیئر لوگوں کو کریمی لیئر   اصول کی بنیاد پر ریزرویشن کا فائدہ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

وینو گوپال سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کریمی لیئر  اصول کو نافذ کرکے ان لوگوں کو فائدے سے محروم کیا جا سکتا ہے جو اس سے باہر آ چکے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایس سی ایس ٹی کمیونٹی کے پسماندہ لوگوں تک ریزرویشن کا فائدہ پہنچ سکے۔  اعلیٰ قانونی افسر نے بتایا کہ حالانکہ کمیونٹی کے کچھ لوگ اس سے ابر چکے ہیں لیکن پھر بھی ذات اور پسماندگی کا ٹھپہ ابھی بھی ان پر لگا ہوا ہے۔

بنچ میں جسٹس کورین جوزف، جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس سنجےکشن کول اور جسٹس اندو ملہوترا بھی ہیں۔  پانچ ججوں کی بنچ یہ دیکھ رہی ہے کہ سرکاری نوکریوں میں پروموشن میں ریزرویشن کے بارے میں’ کریمی لیئر’سے جڑے اس کے 12 سال پرانے فیصلے کو سات رکنی بنچ کے ذریعے پھر سے دیکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے۔