فکر و نظر

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق تو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

فائل فوٹو: رائٹرس

فائل فوٹو: رائٹرس

‘ ہندوستان ایک ہندو راشٹر ہے اور مسلمان یہاں پریشانیاں پیدا کرنے والے حملہ آور ہیں ‘،حال کے وقتوں  میں گولولکر اور ساورکر کے اس اصول کی غالباً سب سے اہم وضاحت اٹل بہاری واجپائی نے 12اپریل، 2002 کو گووا میں بی جے پی کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران اپنی خطاب میں کی تھی۔  ایک وزیر اعظم نے جس طرح سے گودھرا کا ذکر کرتے ہوئے ہندوؤں کی نام نہاد رواداری کی  روایت کو مسلمانوں کی مبینہ عدم رواداری کی روایت کے برعکس رکھا اور گجرات میں مسلم شہریوں کے قتل کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی، اس سے یہ تقریر قابل ذکر بن جاتا ہے۔

گولولکر کی ہی طرح، جن کا یہ یقین تھا کہ صرف ہندو ہی سچے ہندوستانی ہیں، واجپائی نے ادل بدل‌کر اپنی پوری تقریر میں ‘ہم ‘، ‘ہمارا ‘، ‘ہندو ‘اور’بھارتیہ’لفظ کا استعمال کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کی شروعات قدیم کمبوڈیا کے ہندو ریاست کی مثال سے کی۔

‘ دوسرے راجا پر حملہ کرتے وقت کسی بھی راجا نے مندر کو تباہ نہیں کیا، نہ دیوی اور دیوتاؤں کے مجسموں کو نقصان پہنچایا۔ یہ ہماری تہذیب ہے۔  یہ ہمارا نقطہ نظر ہے، جو تمام مذہبوں کے ساتھ مساوات کا سلوک کرتا ہے۔  ‘انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں یا عیسائیوں کے قدم رکھنے سے پہلے ہندوستان سیکولر تھا۔  جب وہ آئے، تب ان کو عبادت کی آزادی تھی۔  ‘ کسی نے زبردستی ان کا مذہب تبدیل کروانے کے بارے میں نہیں سوچا، کیونکہ یہ ہمارے مذہب کی روایت نہیں ہے ؛ اور ہماری تہذیب میں اس کا کوئی استعمال نہیں ہے۔ ‘

یہاں واجپائی ہندوؤں اور ہندو مذہب، جس کو وہ ‘ہمارا ‘مذہب کہہ‌کر پکارتے ہیں، کی رواداری کا موازنہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی مبینہ عدم رواداری سے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔  مجسموں کو تباہ کرنے اور جبراً تبدیلی مذہب کرانے کی بات، آر ایس ایس کے ذخیرہ کا پرانا ہتھیار ہے۔  انہوں نے کہا کہ تشدد کے اہم واقعات کی بنیاد میں ‘بڑھتی عدم رواداری ‘ کا ہاتھ تھا۔  چونکہ اس تعریف کے مطابق ہندو قدرتی طور پر روادار ہیں، اس لئے یہ نتیجہ آسانی سے نکالا جا سکتا ہے کہ بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے قصوروار مسلمان ہیں۔  اس کے فوراً بعد اس وقت کے باالکل اہم مسائل کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے پوچھا :

‘ گجرات میں کیا ہوا؟  اگر سابرمتی ایکسپریس کے بےقصور مسافروں کو زندہ جلانے کی سازش نہیں کی گئی ہوتی، تو اس کے بعد گجرات میں ہوئے المیہ سے بچا جا سکتا تھا۔  لیکن ویسا نہیں ہوا۔  لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا۔  اس کے قصوروار کون تھے؟  حکومت اس کی جانچ‌کر رہی ہے۔  خفیہ ایجنسیاں ساری اطلاعات اکٹھا کر رہی ہیں۔  لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گجرات کے المیہ کی شروعات کیسے ہوئی۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بعد جو ہوا، وہ قابل مذمت تھا، لیکن آگ کس نے لگائی؟  آگ کیسے پھیلی؟’

نریندر مودی جیسے ہی ناشائستہ انداز میں یہاں ہم واجپائی کو نیوٹن کی رفتار کے تیسرے اصول کا ان کا اپنا ایڈیشن پیش کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ اس میں سیکڑوں بےقصور لوگوں کے قتل کے لئے کوئی ندامت نہیں ہے۔اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہنے کے لئے کوئی معافی مانگنے کی پوزیشن نہیں ہے۔ وہ گودھرا حادثہ کو انجام دینے والے مجرموں اور ‘ گجرات میں اس کے بعد گزرے المیہ ‘ کے معصوم شکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔  ان کے لئے مسلمان بے پیکر، بنا کسی فرق والے گروہ ہیں، جو آگ لگانے کا کام کرتے ہیں۔  ان کے مطابق قصور مسلمانوں کا تھا، نہ کہ ان کی پارٹی کے لوگوں کا جنہوں نے ‘ بعد کے واقعات ‘ میں کردار ادا کئے۔

فوٹو: رائٹرس

فوٹو: رائٹرس

خاص سے عام کی طرف رخ کرتے ہوئے، اس کے بعد واجپائی مسلمانوں پر سیدھا حملہ بول دیتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے لئے گووا سے گوہاٹی تک ہندوستان کی مٹی ایک جیسی ہے۔ اس زمین پر رہنے والے سبھی لوگ ہمارے اپنے ہیں۔  ہم مذہبی کٹرپن میں اعتماد نہیں کرتے ہیں۔آج ہمارے ملک کے سامنے خطرہ دہشت گردی ہے۔  ‘

یہاں ‘ ہم ‘ کون ہیں اور ہمارے ملک کو کس سے خطرہ ہے؟  ہندی پاٹھ ہمیں اس کا جواب دیتا ہے۔  واجپائی جان بوجھ کر مذہبی کے لئے اردو لفظ مذہبی کا استعمال کرتے ہیں۔  یعنی ہم مذہبی کٹرپن میں یقین نہیں کرتے ہیں ؛ یہ مسلمانوں کا کام ہے۔  ان کے ذریعے کہا گیا جملہ تھا : ہم مذہبی کٹرپن میں یقین نہیں کرتے۔  ‘یہ حقیقت کہ اس جملے میں مذہبی واحد اردو لفظ ہے، اپنے آپ میں کوئی اتفاق نہیں ہے۔  سنگھ پریوار کی تحریر شدہ مواد میں جہاں بھی مذہب کو لےکر مثبت تناظر آتا ہے، وہاں دھرم کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کا معنی ہندو مذہب ہوتا ہے۔  جب تناظر منفی ہوتا ہے، تب مذہب لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔اور جہاں تک سوال دہشت گردی کا ہے، تو یہ اسلام یا ‘ لشکری اسلام ‘ کا مترادف ہے، جیسا کہ واجپائی نے بھی یہاں استعمال کیا تھا۔لیکن پہلے لشکری اسلام اور روادار اسلام کے درمیان فرق کر نے کے بعد وہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی بکسے میں رکھ دیتے ہیں :

‘ مسلم جہاں بھی رہے، وہ دوسروں کے ساتھ مل کر نہیں رہنا چاہتے ہیں۔  وہ دوسروں کے ساتھ میل جول کرنا پسند نہیں کرتے ؛ اور اپنے خیالات کا پر امن طریقے سے تشہیر کرنے کی جگہ وہ اپنے مذہبی اعتماد کی تشہیر دہشت اور دھمکیوں کی طاقت پر کرنا چاہتے ہیں۔  دنیا اس خطرہ سے متعلق باخبر ہو چکی ہے۔  ‘

یہ بیان نفرت سے پر تقریر کی ایک کلاسیکی مثال ہے، لیکن جب اس نے ایک بڑے تنازعے کو جنم دیا، تب واجپائی نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا اشارہ تمام مسلمانوں کی طرف نہ ہوکر صرف ‘ دہشت گرد مسلمانوں ‘ کی طرف تھا۔

اس کے بعد وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے ایک چھیڑچھاڑ کی گئی ویڈیو جاری کی گئی جس میں ‘ جہاں بھی ‘ اور ‘ مسلم رہتے ہیں ‘ کے درمیان ‘ ویسے ‘ لفظ کو ڈال دیا گیا۔  کئی اخباروں نے اس کے بعد اس ایڈیشن کو شائع کیا۔  لیکن جب پارلیامنٹ میں ایک خصوصی اختیارات کی پامالی کی تحریک لائی گئی، کیونکہ واجپائی نے ایوان میں  یہ دعویٰ کرنے کی غلطی کی تھی کہ بدلا گیا ویڈیو ہی اصلی ویڈیو ہے، تب کہیں جاکر  واجپائی کو یہ قبول کرنا پڑا کہ ‘ ویسے ‘ لفظ کو بعد میں جوڑا گیا تھا۔  ‘ لیکن یہاں بھی انہوں نے یہ دوہرایا کہ جو بھی میری پوری تقریر کو پڑھے‌گا، اور یہ دیکھے‌گا کہ میں نے کس طرح سے اسلام کی رواداری اور رحم دلی کے متعلق اپنی تکریم ظاہر کی ہے، اس کو اس بارے میں کوئی شک نہیں رہ جائے‌گا کہ میرا اشارہ…صرف جہادی اسلام کے پیروکار وں کی طرف ہے۔  ‘

مسلمانوں پر ساتھ مل کر رہنےکے جذبہ کے ساتھ نہیں رہنے اور دوسروں سے میل جول نہیں رکھنے کا الزام سنگھی پروپگینڈے میں اتنا مروج ہے کہ ان کے اس دعویٰ پر یقین کرنا کافی مشکل ہے کہ وہ صرف جہادی مسلمانوں کا ذکر کر رہے تھے۔اس سے پہلے اپنی تقریر میں انہوں نے جہادی اسلام کو دہشت گردی کا مترادف بتایا تھا۔’دوسروں کے ساتھ میل جول نہ رکھنے ‘ کا الزام دہشت گردوں پر لگایا جانے والا ایک مخصوص الزام ہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

 کسی بھی معیار سے ایک وزیر اعظم کے ذریعے دہشت گردی اور جنگ کو صرف اسلام کے پیروکاروں  سے جوڑنا، مناسب نہیں تھا۔ خاص کر ایک ایسے وقت میں جب خود ان کا سنگھ پریوار گجرات میں خوفناک طریقے سے دہشت گردانہ  واقعات میں شامل تھا۔  لیکن مسلمانوں کے خلاف الزام میں کہیں زیادہ گہری بےایمانی چھپی ہوئی تھی۔  کیونکہ آر ایس ایس کی پالیسی ہی مسلم فرقہ کو الگ تھلگ کرنے کی رہی ہے۔جیسا کہ ماہر سماجیات دھیروبھائی سیٹھ نے دلیل دیی ہے، یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ گجرات میں سنگھ پریوار کے تشدد کا شکار ہونے والے مسلم ہندو اکثریتی علاقوں میں رہنے والے تھے۔  وہ کہتے ہیں کہ ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ قتل عام نے ‘ ہندتوادیوں ‘ کی بےایمانی کو اجاگر کر دیا جو مسلمانوں کو مین اسٹریم میں شامل نہ ہونے کے لئے لعنت ملامت کرتے ہیں، لیکن اگر وہ سامنے آنے کی کوشش کریں تو ان کو مار‌کر پھر سے ان کی الگ تھلگ بستیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

گووا میں کیے گئے  اپنے تبصرے پر ملمع سازی کے لئے واجپائی نے پارلیامنٹ کو کہا کہ وہ جس طرح سے لشکری اسلام کے خلاف ہیں، اسی طرح سے لشکری ہندو دھرم کے بھی خلاف ہیں۔  ‘ میں سوامی وویکانند کے ہندو مذہب کو قبول کرتا ہوں، لیکن آج جس طرح کے ہندو مذہب کی تشہیر کی جا رہی ہے، وہ غلط ہے اور لوگوں کو اس کے متعلق محتاط رہنا چاہیے۔’لیکن، ایسا کہنے کے بعد انہوں نے اپنے سارے کہے پر پانی پھیرتے ہوئے یہ جوڑ دیا کہ حالانکہ، ایسے حالات سے نپٹنے کے لئے قانون ہیں، لیکن ان کو اس بات کا یقین ہے کہ کوئی بھی ہندو تنظیم کبھی بھی ملک کی یکجہتی کے لئے خطرہ نہیں بنے‌گا۔  دوسرے الفاظ میں صرف مسلم (یا عیسائی یا سکھ) تنظیموں میں ہی ملک کی یکجہتی کے لئے خطرہ بننے کی صلاحیت ہے۔  وویکانند کو بدنام کرنے کے بعد، جنہوں نے کبھی بھی ہندو توا کی بات نہیں کی، بلکہ ہمیشہ ہندو مذہب کی بات کی،  واجپائی سیدھے گولولکر اور ساورکر کی تعلیم پر چلے آئے۔

واجپائی یہاں صرف سنگھ پریوار کے عام کٹرپن کی طرف ہی نہیں لوٹ رہے تھے، وہ پوری بحث کو اندھی سرنگ میں بھٹکانے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔  سوال یہ نہیں تھا کہ وہ ذاتی طور پر لشکری اسلام یا ہندوتوا کی مخالفت کرتے ہیں یا نہیں، سوال یہ تھا کہ وزیر اعظم ہونے کے ناطے وہ تمام ہندوستانیوں کے آئینی حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔  وزیر اعظم کی ذاتی پہچان یا مذہبی عقیدہ چاہے جو بھی ہو، وہ شہریوں کے صرف ایک طبقہ کی طرف سے بات نہیں کر سکتے۔  کیا گجرات کے مسلمانوں کے پاس جسمانی حفاظت کا حق نہیں ہے؟  کیا وہ ان لوگوں کو سزا دلانے کے لئے تیار ہیں، جن کی اس جرم میں شراکت تھی، بھلے ہی ان کا تعلق کسی بھی سیاسی تنظیم سے ہو۔  ان سوالوں کا جواب دینے کی جگہ واجپائی  یہاں اپنی سیاسی ناکامی اور جرم کو چھپانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ واجپائی کا ٹیلی ویژن پر پہلا پیغام 2 مارچ، 2002 کو نشر ہوا تھا۔ سنگھ پرواپر کو گجرات میں ملی 72 گھنٹے کی آزادی ختم ہونے کے بعد ۔ اور تب بھی وہ امن اور رواداری کے لئے اپیل کرنے سے زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔  حقیقت میں، ریاست میں ہوئے قتل عام کے لئے گجرات کے عام شہری اور ان میں بھائی چارہ کے مبینہ کمی پر الزام لگانے کی ان کی کوشش خود کو، پارٹی کے اپنے مددگاروں اور ان کے تحت کام کرنے والے سرکاری نظام کو جرم کے لئے کسی بھی طرح کی ذمہ داری سے بری کرنے کی ایک چالاک پینترےبازی تھی۔

1984 کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راو کی طرح واجپائی کی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر یاد کئے جائیں‌گے،جنہوں نے سبق رواداری کا پڑھایا، مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں۔  قومی نشریات کا استعمال گجرات کی عوام کو یہ کہنے کے لئے نہ کرکے کہ فسادی گروہوں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آیا جائے‌گا۔ اور لوگوں کی جان اور جسمانی آزادی کی حفاظت کرنے میں ناکام رہنے والے پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے‌گی۔ واجپائی نے اس نشریات میں مذہبی خیرسگالی کی ضرورت پر نصیحت دینے کو اپنے فرائض کی انتہا مان لی۔

انہوں نے جو کہا، اس میں سنجیدگی کا حصہ کافی کم تھا، متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے کے لئے کوئی لفظ نہیں تھا، نہ ہی قاتلوں کے خلاف کوئی غصہ یا لعنت تھی۔  انہوں نے کہا کہ تشدد ملک کی پیشانی پر ایک بدنما داغ ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ پائے کہ گودھرا میں جو ہوا، اس کے جواب میں کیا جا رہا تشدد کے لئے بھی وہی سزا دی جائے‌گی، جو ٹرین جلانے والوں کو دی جائے‌گی۔

فائل فوٹو: رائٹرس

فائل فوٹو: رائٹرس

یہ ایک تشدد آمیز بدامنی تھی، جس نے حکومت کی طاقت کو مذاق میں بدل دیا تھا، لیکن پھر بھی وزیر اعظم ملک کے مکھیا کے طور پر ان کے اختیار اور طاقت کو چیلنج دینے والوں کو سخت چیلنج نہیں دے پائے۔  امریکہ میں صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کے سینئر مددگاروں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردانہ حملے کے بعد شہریوں کو مسلمانوں، عربوں اور دیگر تارکین وطن پر حملہ کرنے کے خلاف عوامی طور پر خبردار کیا تھا۔  9/11 کے ایک سال کے اندر ٹیکساس میں ایک سکھ تارکین وطن کا جوابی قتل کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔  لیکن واجپائی کبھی بھی عوامی طور پر یہ قبول نہیں کر پائے کہ گجرات میں ہندوستان کے مسلم شہریوں کو شکار بنایا گیا، نہ ہی وہ حملہ آوروں کو سخت سزا کے لئےچیلنج کر سکے۔

اصل میں، واجپائی نے بعد میں یہ دکھایا کہ وہ اپنی پارٹی اور سنگھ پریوار کے متعلق اتنے وفا دار تھے کہ انہوں نے حکومت اور اپنے دفتر کے اقبال کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔  17 اپریل، 2002 میں انہوں نے کہا کہ اگر قانون سازمجلس میں گودھرا کی مذمت کی  ہوتی، تو اس کے بعد ہوئے قتل عام کو روکا جا سکتا تھا۔سچائی یہ ہے کہ ایوان کے رہنما وہی تھے اور وہ جس دن گودھرا کا واقعہ ہوا اسی دن، بجٹ  پیش کرنے  کی جگہ، اس مسئلہ پر بحث کروا سکتے تھے اور اس کی مذمت کرنے کا حکم دے سکتے تھے۔

مئی کی شروعات میں انہوں نے ایک اور عجیب بیان دیا۔  اس بار راجیہ سبھا میں۔  انہوں نے کہا کہ وہ اپریل میں مودی کو ہٹانے کا فیصلہ کر چکے تھے، لیکن انہوں نے گجرات میں فساد کے ڈر سے ایسا نہیں کیا۔  ‘میں گجرات کے حکمراں کو بدلنے کا من بناکر گووا گیا تھا، لیکن میرے اندازے کے مطابق، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ حکمراں کو بدلنے سے حالات اور بگڑ جائیں‌گے۔  اس وقت آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے علاوہ کوئی بھی اس تبدیلی کے خلاف نہیں تھا۔ مودی کو ہٹانے سے گجرات کے متاثر مسلمانوں کو کتنی راحت ملتی یہ نہیں کہا جا سکتا، لیکن ایک وزیر اعظم کے ذریعے یہ قبول کیا جانا عجیب تھا کہ ان کو مجرموں اور غنڈوں کی دھمکیوں نے اپنا گروی بنا لیا تھا۔  بی جی ورگیز نے لکھا، ‘ واجپائی نے بھیڑ کے حکم کو اپنی کرسی کے حلف سے اوپر رکھا۔  …’راجا کے پاس کپڑے نہیں تھے ،اخلاقی قدروں کی چادر بھی اس نے اتارپھینکی۔’

سدھارتھ ودراجن کی مرتبہ کتاب ؛دی میکنگ آف اے ٹریجڈی (پینگوئن، 2002) کے مقدمے سے مقتبس۔