خبریں

ہاپوڑ ماب لنچنگ میں مارے گئے قاسم کے بھائی پر جان لیوا حملہ

قاسم کے بھائی نے شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ غازی آباد کے مسوری سے ہوتے ہوئے ہاپوڑ جا رہا تھا۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے 24 پر ایک گاڑی نے سکیورٹی گارڈ اور قاسم کے بھائی کو کچلنے کی کوشش کی۔

فوٹو: ٹوئٹر

فوٹو: ٹوئٹر

نئی دہلی: ہاپوڑ ماب لنچنگ معاملے کے مدعی اور ان کے سکیورٹی گارڈ کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غازی آباد کے مسوری علاقے میں واردات کو انجام دینے کی کوشش کی گئی۔ جس میں سکیورٹی گارڈ اور مدعی بال بال بچے ہیں۔ اس معاملے میں مسوری تھانہ میں نا معلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق؛قاسم کے بھائی نے اس معاملے میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے گنر کے ساتھ غازی آباد کے مسوری سے ہوتے ہوئے ہاپوڑ جا رہا تھا۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے 24 پر ایک گاڑی نے سکیورٹی گارڈ اور قاسم کے بھائی کو کچلنے کی کوشش کی۔ ایس ایس پی غازی آباد ویبھو کرشن نے کہا کہ معاملہ درج کرکے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے ، جلد ہی ملزمین کی گرفتاری کر لی جائے گی۔

واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون کوہاپوڑ میں گئو کشی کے الزام میں 45 سالہ قاسم کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہیں بیچ بچاؤ کی کوشش میں 67 سالہ سمیع الدین کو بھی پیٹا گیا تھا ۔ قاسم اور سمیع الدین کے گھر والوں کا الزام ہے کہ یہ منصوبہ بند سازش تھی۔ قاسم کی موت پر ان کے دونوں بیٹے ندیم اور سلیم نے والد کی موت کو سازش کا حصہ بتایا تھا۔