خبریں

ہائی کورٹ نے پوچھا؛ سماجی کارکنوں کی گرفتاری کا معاملہ زیر غور ہے تو پولیس نے کیسے کی پریس کانفرنس؟

بامبے ہائی کورٹ نے پوچھا کہ پولیس ایسے دستاویزوں کو اس طرح پڑھ کر کیسے سنا سکتی ہے جن کا استعمال معاملے میں ثبوت کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر پولیس کے ذریعے ماؤ وادیوں سے مبینہ طور پر تعلقات  رکھنے والے کچھ اہم سول رائٹس ایکٹیوسٹ کے خلاف درج معاملے پر پریس کانفرنس کرنے کو لے کر سوموار کو سوال اٹھائے ۔ ریاست کے اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر )پرم ویر سنگھ نے پونے پولیس کے ساتھ مل کر گزشتہ 31 مئی کو اس معاملے پر میڈیا سے بات چیت کی تھی۔ پریس کانفرنس کے دوران سنگھ نے کارکنوں کے درمیان مبینہ طور پر تبادلہ کیے گئے خطوط کو  پڑھ کر بھی  سنایا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس جون میں اور گزشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے لیفٹ ونگ کارکنوں کے ماؤوادیوں سے رشتہ بتانے کے لیے ‘پختہ ثبوت’ ہیں۔ جسٹس ایس ایس شندے اور مردولا بھاٹکر کی بنچ نے پوچھا کہ پولیس ایسے دستاویزوں کو اس طرح پڑھ کر کیسے سنا سکتی ہے جن  کا استعمال معاملے میں ثبوت کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس بھاٹکر نے کہا ،’ پولیس ایسا کیسے کر سکتی ہے؟ معاملہ زیر غور ہے۔ سپریم کورٹ معاملے پر غور کر رہی ہے۔ ایسے میں معاملے سے متعلق اطلاعات کا انکشاف کرنا غلط ہے۔ ‘پبلک پروسیکیوٹر دیپک ٹھاکرے نے کہا کہ وہ متعلقہ پولیس افسروں سے بات کریں گے اور ان سے جواب مانگیں گے۔ بنچ بھیما کورے گاؤں تشدد کا شکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے شخص ستیش گایک واڑ کے ذریعے جمعہ کو دائر کی گئی عرضی پر شنوائی کر رہی تھی۔ انھوں نے معاملے کی جانچ  نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے کروانے کی مانگ کی ہے۔

گایک واڑ نے ہائی کورٹ سے پونے پولیس سے معاملے کی آگے کی جانچ نہیں کروانے اور جانچ پر روک لگانے کی اپیل کی ہے۔ بنچ نے معاملے میں اگلی شنوائی 7 ستمبر کو طے کی ہے۔ واضح ہو کہ گزشتہ 28  اگست کو پونے پولیس نے ماؤوادیوں سے مبینہ تعلق کو لے کر شاعر ورا ورا راؤ، وکیل سدھا بھاردواج، سماجی کارکن ارون فریرا ، گوتم نولکھا اور ورنن گونجالوس کو گرفتار کیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے آرڈر پر ان کو ان کے گھروں میں 6 ستمبر تک نظر بند کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے پولیس نے گزشتہ سال پونے میں بھیما کورے گاؤں تشدد سے پہلے 31 دسمبر کو  الگار پریشد کی طرف سے منعقد پروگرام سے ماؤوادیوں کے مبینہ تعلقات کی جانچ کرتے ہوئے کارکن سدھیر دھاولے، رونا ولسن، سریندر گاڈلنگ، شوما سین اور مہیش راؤت کو جون میں گرفتار کیا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)