خبریں

سبری مالا تشدد کے لیے وزیر اعلیٰ پی وجین نے آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا

کیرل کے وزیر اعلیٰ پی وجین نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس دہشت پھیلا کر بھگوان ایپا کے مندر  کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : کیرل حکومت نے سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلہ کی مخالفت کر رہے لوگوں کی نیلکل میں پولیس کے ساتھ ہوئی جھڑپ کے لیے آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔بدھ کو ہوئے تشدد کے بعد کیرل کے وزیر اعلیٰ پی وجین نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ آر ایس ایس دہشت پھیلا کر بھگوان ایپا کے مندر کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ادھر بی جے پی نے ریاستی حکومت کے اس حملے کا جواب دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ سی پی ایم کی قیادت والی ایل ڈی ایف حکومت ایپا مندر کی امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہی اس مندرمیں کشیدگی پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی  پوسٹ میں وزیر اعلیٰ پی وجین نے آر ایس ایس پر دہشت پھیلا کر عقیدت مندوں کو ایپا مندر کی طرف بڑھنے سے روکنے اور واپس لوٹنے کے لیے مجبور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب سبری مالا کو برباد کر نے کے لیے آر ایس ایس اورسنگھ پریوار کی حکمت عملی  کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا ہےکہ رائٹ ونگ تنظیم ہمیشہ سبری مالا مندر کے انوکھے کردار سے پریشان رہی ہیں جہاں  ذات، مذہب سے اوپر اٹھ کر عقیدت مند پوجا کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا ہے کہ ‘ سنگھ پریوار کا آخری مقصد اس مندر میں سماج کے سبھی طبقے کی  قبولیت کو ختم کرکے اشرافیہ کا دبدبہ قائم کرنا ہے۔ ‘ اس کے ساتھ ہی وجین نے واضح کیا کہ ان کی حکومت اس مندر کو ‘فسادات کا علاقہ’ بننے کی اجازت نہیں دے گی اور لوگوں کو مذہبی مقام پر جانے سے روکنے کی کسی بھی کوشش سے نپٹا جائے گا۔دریں اثنا صحافیوں نے بھی الزام لگایا ہے کہ مظاہرین نے ان کا راستہ روکا ۔

ادھر سبری مالا کے واقعہ پر بی جے پی ریاستی صدر پی ایس شری دھرن پلے نے ان حالات کی جوڈیشیل جانچ کی مانگ کی ہے جس کی وجہ سے آدھار شیور نیلکل میں تشدد ہوا اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پلے نے کہا کہ پولیس نے ‘جان بوجھ کر ‘ بھڑکانے والی کارروائی کی جس سے سبری مالا ‘جنگ کے میدان’ میں تبدیل ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ عقیدت مندوں نے نیلکل میں مخالفت کے طور پر اپنی  پرارتھنا سبھا کرنے کے لیے جو غیر مستقل شیور بنایا تھا ، پولیس نے اس کو ختم کر دیا۔

شری دھرن نے الزام لگایا ،’ ہم نے ٹی وی پر بھی دیکھا کہ پولیس اہلکاروں نے بھگوان ایپا کی فریم والی تصویریں پھنک دی۔’ شری دھرن نے  تانتری پریوار اور پنڈ لام محل کے سینئر ممبروں کو گرفتار کرنے اور ان کو وہاں سے ہٹانے کی پولیس کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے ۔پلے نے کہا کہ بی جے پی 22 اکتوبر تک نیلکل میں عقیدت مندوں اور ان کے مظاہرہ کے تئیں اپنی حمایت جاری رکھے گی۔ اسی دن بھگوان ایپا کا مندر بند ہو جائے گا۔

(خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی  کے ان پٹ کے ساتھ)