خبریں

سی بی آئی تنازعہ: وہ 7اہم معاملے جن کی جانچ آلوک ورما کر رہے تھے

چھٹی پر بھیجے جانے سے پہلے سی بی آئی چیف آلوک ورما رافیل سودے سے لے کر اسٹرلنگ بایوٹیک جیسے ہائی پروفائل معاملے کی جانچ کر رہے تھے ۔ان میں سے ایک معاملہ ایسا ہے جس میں وزیر اعظم کے سکریٹری ملزم ہیں ۔

آلوک ورما ،فوٹو: پی ٹی آئی

آلوک ورما ،فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : رافیل ڈیل معاملے سے لے کر میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا رشوت معاملہ ،کوئلہ کان الاٹمنٹ معاملہ میں مبینہ طور پر آئی اے ایس افسر بھاسکر کلبے کے رول سے لے کر اسٹرلنگ بایوٹیک معاملہ جس میں راکیش استھانا کے مبینہ رول کی جانچ کی جانی تھی۔انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کچھ بے حد اہم معاملے تھے جو کہ سی بی آئی چیف آلوک ورما کے ذریعے جانچ کے پروسس میں تھے ،حالاں کہ بدھ کو مرکزی حکومت نے ان کو اچانک سے چھٹی پر بھیج دیا۔

آلوک ورما نے سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی بتاتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے جس پر جمعہ کو شنوائی ہوگی ۔ورما نے اپنی عرضی میں یہ بھی کہا کہ وہ کچھ بے حد حساس معاملوں کی جانچ پروسس میں تھے ۔ قانونی طور پر سی بی آئی چیف کو ان کے تقرری سے لے کر 2 سال کی مدت تک ہٹایا نہیں جاسکتا۔

اگر کسی خاص صورتحال میں چیف کو ہٹانا ہے تو اس سلیکشن کمیٹی سے رائے لینی ہوگی جس نے سی بی آئی چیف کے تقرری کی سفارش کی تھی ۔ اس سلیکشن کمیٹی میں ہندوستان کے وزیر اعظم ،پارلیامنٹ میں حزب اختلاف کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے ہیں ۔اپوزیشن پارٹیوں نے بھی مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ راکیش استھانا کو بچانے اور رافیل سودے کی جانچ سے بچنے کے لیے آلوک ورما کو اچانک چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

ہم یہاں آپ کو کچھ ایسے بے حد حساس معاملوں کے بارے میں بتارہے ہیں جس پر آلوک ورما یا تو جانچ کر رہے تھے یا پھر جانچ کی شروعات کرنے والے تھے۔

  1. ان میں سب سے اہم معاملہ ہے مبینہ طور پر رافیل سودا گھوٹالہ : سابق بی جے پی لیڈر یشونت سنہا ،ارون شوری اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس معاملے کو لے کر 4اکتوبر کو سی بی آئی میں 132 صفحات پر مشتمل شکایت سونپی تھی ،جس کو آلوک ورما نے منظور کیا تھا۔ اس شکایت کی تصدیق کی کارروائی ایجنسی کے اندر چل رہی تھی ۔ ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتا یا کہ اس پر جلد ہی فیصلہ لیا جانا تھا۔

  2. سی بی آئی میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا رشوت معاملے میں ہائی پروفائل لوگوں کے رول کی جانچ کر رہی تھی ۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ کےریٹائرڈ جج آئی ایم قدوسی کو گرفتا ر کیا گیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ قدوسی کے خلاف چارج شیٹ تیار کر لی گئی تھی اور صرف آلوک ورما کے دستخط ہونے تھے ۔

  3. میڈیکل ایڈمیشن میں مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملے کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایس این شکلا ملزم تھے اور ایجنسی نے اس معاملے کو اپنی جانچ میں شامل کیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائمری جانچ پوری ہوگئی تھی اور اس پر صرف آلوک ورما کے دستخط باقی تھے۔

  4. بی جے پی ایم پی سبرامنیم کے ذریعے فنانس سکریٹری آف انڈیا (انچارج آف ڈیپارٹمنٹ آف ریونیو)کے خلاف کی گئی شکایت بھی سی بی آئی کے جانچ کے دائرے میں تھی۔

  5. وزیر اعظم کے سکریٹری آئی اے ایس افسر بھاسکر کلبے کی کوئلہ کان کے الاٹمنٹ میں مبینہ رول کو لے کر سی بی آئی جانچ کر رہی تھی ۔

  6. ایک دوسرے معاملے میں دہلی کے ایک دلال کے یہاں اکتوبر کی شروعات میں چھاپہ مارا گیا تھا ۔ اس دوران لوگوں کو ادا کیے گئے رقم کی مبینہ فہرست اور 3 کروڑ روپے کیش برآمد ہوئے تھے ۔ سی بی آئی کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس شخص نے پی ایس یو میں سینئر عہدوں پر تقرری کے لیے لیڈر اور افسروں کو رشوت دی تھی ۔

  7. سی بی آئی نتن سندیسرا اور اسٹرلنگ بایوٹیک معاملے کی جانچ ختم کرنے والی تھی ۔اس معاملے میں سی بی آئی چیف راکیش استھانا کے مبینہ رول کو لے کر جانچ کی گئی تھی۔