خبریں

ہاشم پورہ قتل عام: دہلی ہائی کورٹ نے بدلا نچلی عدالت کا فیصلہ، 16 پولیس والوں کو عمر قید

1987 میں اتر پردیش کے ہاشم پورہ میں 42 لوگوں کے قتل کے الزام میں دیے نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے 16 پی اے سی جوانوں کو مجرم مانا ہے۔

Photo : Praveen Jain

Photo : Praveen Jain

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے 1987 میں اتر پردیش کے ہاشم پورہ قتل عام معاملے میں ایک اقلیتی کمیونٹی کے 42 لوگوں کے قتل کے جرم میں 16 سابق پولیس والوں کو بدھ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گوئل کی بنچ نے نچلی عدالت کے اس حکم کو پلٹ دیا جس میں اس نے  ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ثبوتوں کی کمی میں نچلی عدالت نے ان کو بری کیا تھا لیکن اب عدالت کے سامنے کافی ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔

ہائی کورٹ نے  پی اے سی کے 16 سابق جوانوں کو قتل، اغوا، مجرمانہ سازش اور ثبوتوں کو ختم کرنے کا مجرم قرار دیا۔ واضح ہو کہ 22 مئی 1987 کو میرٹھ ضلع کے پاس ہاشم پورہ میں 42 مسلمانوں کا قتل کر دیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ پی اے سی کے جوانوں نے ایک مسجد کے سامنے چل رہے مذہبی اجلاس سے مسلم کمیونٹی  کے لوگوں کو حراست میں لیا تھا اور ان کا قتل کر کے  لاشوں کو ندی میں پھینک دیا تھا۔

معاملے میں 19 جوانوں پر الزام لگے تھے ، 17 پر الزام طے ہوئے تھے۔ معاملے کی شنوائی کے دوران 1 جوان کی موت ہو گئی تھی۔ 2015 میں دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے ملزم پی اے سی جوانوں کو بری کر دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کافی ثبوت نہیں ہیں۔ اس فیصلے کو مارے گئے نوجوانوں کہ فیملی ، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ،اتر پردیش حکومت اور دوسروں کی طرف سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

بدھ کو ہائی کورٹ کے ذریعے مجرم قرار دیے گئے پی اے سی کے سبھی 16 جوان  ریٹائر ہو چکے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ متاثرین کی فیملی کو انصاف کے لیے 31 سال انتظار کرنا پڑا اور مالی مدد ان کے نقصان کی بھرپائی نہیں کر سکتی۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)