خبریں

آئی ایم ایف نے کہا مرکز اور آربی آئی کے تنازعے پر ہم نظر بنائے ہوئے ہیں

 آئی ایم ایف نے کہا کہ کسی بھی ملک کے سینٹرل بینک کی خود مختاری میں دخل نہیں دیا جانا چاہیے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

فوٹو : پی ٹی آئی

نئی دہلی :بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ ریزرو بینک اور حکومت کے بیچ کی صورت حال کی نگرانی کر رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ کسی بھی ملک کے سینٹرل بینک کی خود مختاری میں دخل نہیں دیا جانا چاہیے۔ ایسی خبریں ہیں کہ ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کے بیچ کچھ معاملوں پر اتفاق رائے نہیں ہے ۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے منگل کو ریزرو بینک کی تنقید کی تھی اور 2008سے 2014کے دوران اندھادھند طریقے سے قرض بانٹنے پر روک نہیں لگانے کا الزام لگاتے ہوئے ریزرو بینک کو موجودہ این پی اے بحران کے لیےذمہ دار بتایا تھا۔

آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر گوری رائیس نے تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر صحافیوں سے کہا کہ ؛ ہم صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں اور آگے بھی اس پر نظر رکھیں گے۔انہوں نے کہا ؛میں نے پہلے بھی کہا کہ ہم ذمہ داری اور جوابدہی کی حمایت کرتے ہیں اور عالمی سطح پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ سینٹرل بینک کی خود مختاری میں کسی طرح کی دخل اندازی نہیں کی جانی چاہیےاور اس کے کام کرنے کے طریقے میں حکومت یا کارپوریٹ سیکٹر کا دخل نہیں ہونا چاہیے۔

رائیس نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کئی ملکوں میں سینٹرل بینک کی آزدای بہت معنی رکھتی ہے۔ رائیس نے سینٹرل بینک کو لے کر  بڑھتے تنقید ی چلن کے بارے میں پوچے جانے پر کہا کہ ؛ہمیں اس کا اس طرح سے افسوس ہے کہ ہمیں کئی ملکوں کے سیاق اور تناظر میں بیان دینا پڑرہا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ سب سے اہم ترین ردعمل ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

دریں اثنا خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق مرکزی حکومت ،آربی آئی سے خفا ہے کہ وہ مرکز اور آربی آئی کے درمیان کی رسہ کشی کے بارے میں کھلے عام بات کررہا ہے۔واضح ہوکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت آر بی آئی سے اس بات پر ناراض ہے کہ وہ سود کی شرح میں کٹوتی میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے اور یہ لگاتا ر بڑھتا جارہا ہے۔

آربی آئی گورنر ارجت پٹیل کے استعفیٰ کی قیاس آرائیوں کے درمیان دی  وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو کا کہنا ہے کہ ؛آر بی آئی گورنر ارجت پٹیل مرکز کی ہدایت پرعمل نہیں کر سکتے ہیں، کیوں کہ ایسا کرنا ادارے کے وقار کو کم کرنے والا ہوگا اور بینکوں کو بہتر اور خراب  پرموٹروں  پر نکیل کسنے کے لئے سینٹرل بینک کے ذریعے لئے گئے کچھ سخت فیصلوں کے بھروسے کو تباہ کر دے‌گا۔پٹیل کا استعفیٰ ہندوستان کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے درمیان ہنسی کا کردار بنا دے‌گا اور اس کا نتیجہ کرنسی بازار میں آج تک نہیں دیکھے گئے اٹھا پٹک کے طور پر نکلے‌گا۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)