خبریں

دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی سے راحت کے لیے مصنوعی بارش کا منصوبہ

ایسا پہلی بار ہے جب ملک کے کسی  شہر میں فضائی آلودگی کو کم  کرنے کے لیے مصنوعی بارش کا استعمال کیا جائے گا۔

دہلی کے آر کے پورم میں چھایا دھواں/ فوٹو: اے این آئی

دہلی کے آر کے پورم میں چھایا دھواں/ فوٹو: اے این آئی

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں آلودگی کی دن بہ دن سنگین ہوتی صورت حال سے نپٹنے کے لیے اب مصنوعی بارش کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ اکانومک ٹائمس میں شائع پراچی ورما کی رپورٹ  کے مطابق؛ سینٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)، آئی آئی ٹی کانپور، Indian Meteorological Department(آئی ایم ڈی)، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او)مل کر کلاؤڈ سیڈنگ کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق،10 نومبر کے بعد اس سمت میں کام شروع ہو سکتا ہے۔ اس اسکیم کے لیے فنڈ مرکزی حکومت دے گی۔

ایسا پہلی بار ہے جب ملک کے کسی  شہر میں فضائی آلودگی کو کم  کرنے کے لیے مصنوعی بارش کا استعمال کیا جائے گا۔  اس کے لیے صحیح حالات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق؛ مانسون سے پہلے اور مانسون کے دوران بادلوں سے مصنوعی بارش کرانا آسان ہوتا ہے۔ لیکن سردیوں کے موسم میں اس میں مشکل آتی ہے کیونکہ اس وقت بادلوں میں نمی کم ہوتی ہے۔

 چین کئی سال سے مصنوعی بارش کرا رہا ہے۔ اس تکنیک کو چین کی راجدھانی بیجنگ میں 2008 کے اولمپکس کے دوران آب و ہوا کو صاف کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ امریکہ، عزرائیل اور جرمنی کیسے کچھ دوسرے ممالک بھی کامیابی کے ساتھ اس تکنیک کا استعمال کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں آندھر پردیش ، مہاراشٹر اور کرناٹک میں سنگین سوکھا پڑنے پر اس کا استعمال کیا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ اگر ایئر کوالٹی انڈیکس(اے کیو آئی)0 سے 50 کے بیچ میں ہے تو اس ہوا کو اچھا مانا جا تا ہے۔وہیں اگر یہ 51 سے 100 کے بیچ میں ہے تو اس کو ‘اطمیان بخش ‘ اور 100 سے 200 کے بیچ میں ہے تو اس کو ‘نارمل’ کی کیٹگری میں رکھا جاتا ہے۔ اگر اے کیو آئی 201 سے 300 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا خراب ہے اور اگر یہ 301 سے 400 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایسی ہوا بہت زیادہ خراب ہے۔ وہیں اگر اے کیو آئی401 سے 500 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا کی سطح خطرناک کی کیٹگری میں پہنچ چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے ذریعےمقرر Environment Pollution Control Authority (ای پی سی اے)نے دہلی والوں سے گزارش کی ہے کہ وہ نومبر مہینے میں پہلے 10 دن پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں ۔ نجی گاڑیوں کی وجہ سے دہلی- این سی آر میں 40 فیصد آلودکی ہوتی ہے ۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ای پی سی اے نے بجی گاڑیوں کا استعمال نہ کرنے کی مانگ کی ہے۔