فکر و نظر

یوم پیدائش پر خاص:اگر برسا منڈا ہوتے تو کیا جھارکھنڈ میں بھوک سے لوگوں کی موت ہوتی؟

 1898 میں چھوٹا ناگپور علاقے میں تیر اور کمان سے لیس منڈا باغیوں کے سامنے انگریزی فوج کو ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔  اس کے بعد باغیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری ہوئی۔  لیکن برسا نے انگریزوں سے صاف کہہ دیا کہ چھوٹاناگپور پر آدیواسیوں کا حق ہے۔

فوٹو : ویکی میڈیاکامنس

فوٹو : ویکی میڈیاکامنس

آج عظیم انقلابی اور ملک کے ہیرو برسا منڈا کا یوم پیدائش ہے۔  وہ محض 25 سال کی عمر تک زندہ رہے، لیکن اسی عمر میں انہوں نے انگریزی حکومت کی نیند حرام کر دی تھی۔  برسا کی لڑائی صرف انگریزی حکومت کے خلاف نہیں تھی، بلکہ اپنےملک کے استحصالی سماج کےخلاف بھی تھی۔  وہ ہر طرح کے استحصال سے آزاد سماج چاہتے تھے، جس میں محروم اور آدیواسیوں کو ان کا مناسب حق حاصل ہو۔ انگریزوں نے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی جب کوشش کی، تو برسا کے تیروں کا ان کو سامنا کرنا پڑا۔ آزادی کے بعد انگریز تو چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ والے زمین دار، سرمایہ دار صورت بدل‌کر قدرتی وسائل کو لوٹتے رہے اور آج بھی لوٹ رہے ہیں۔

15 نومبر، 1875 کو پیدا ہوئے برسا کی قوت ارادی  اوربہادری  کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ محض 19 سال کی عمر میں انہوں نے منڈاؤں(آدیواسیوں کی ایک کمیونٹی)کو متحد کرکے انگریزوں سے لگان معافی کے لئے الگلان (تحریک) شروع کر دی تھی۔ الگلان کا ایسا اثر ہوا کہ سال 1895 میں برساکو گرفتار کر کے ہزاری باغ سینٹرل جیل میں بند کر دیا گیا۔  لیکن اس دوران بھی برسا کے دوستوں اور پیروکاروں نے ان کےالگلان کو جاری رکھا۔دو سال بعد جب وہ جیل سے نکلے تو انہوں نے انگریزوں اور زمین داروں  کے خلاف تحریک اور تیز کر دی۔

سال 1898 میں چھوٹا ناگپور علاقے میں تیر اور کمان سے لیس منڈا باغیوں کے سامنے انگریزی فوج کو ہار کا منھ دیکھنا پڑا۔  اس کے بعد باغیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری ہوئی۔  لیکن برسا نے انگریزوں سے صاف کہہ دیا کہ چھوٹاناگپور پر آدیواسیوں کا حق ہے۔  برسا کے پیروکاروں نے انگریزوں کے خلاف جنگ جاری رکھی۔  چھوٹا ناگپور کی اس بغاوت میں سینکڑوں لوگ شہید ہوئے۔  جنگ جاری تھی، لیکن 1900 میں انگریز ایک مقامی مخبر کی مدد لےکر دھوکے سے برسا کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔  کچھ ہی مہینے کے بعد 25 سال کی عمر میں بیماری کی وجہ سے جیل میں ہی برسا کی موت ہو گئی۔

لیکن برسا کے الگلان نے انگریزی حکومت کو کافی ڈرا دیا تھا۔  پھر سے کوئی بغاوت نہ ہو، ا س کے ڈر سے مجبور ہوکر انگریزی حکومت نے آدیواسیوں کے حق کی حفاظت کرنے والا چھوٹاناگپور ٹیننسی ایکٹ، 1908(سی این ٹی ایکٹ)پاس کیا۔  یہ ایکٹ نہ منظور ہوا ہوتا، تو شاید آج جھارکھنڈ سے آدیواسیوں کا وجود مٹ چکا ہوتا۔

قبائلی سماج شروع سے فطرت کا پجاری  رہا ہے۔  لیکن کئی طرح کی اوہام پرستی میں گھرے ہونے کی وجہ سے بھی آدیواسی، استحصال کرنے والوں کے آسانی سے شکار بن جاتے تھے۔  برسا نے قبائلی سماج سے اوہام پرستی کو ختم کرنے کے لئے بھی تحریک چلائی تھی۔

کئی خواب لئے آج کے ہی دن 18 سال پہلے 2000 میں بہار سے الگ ہوکر جھارکھنڈ بنا۔  شروع میں لگا کہ آدیواسیوں کی اس زمین پر نیا سورج نکلنے والا ہے، جھارکھنڈ میں خوشحالی کی ہوا بہنے والی ہے۔  لیکن 19ویں یوم تاسیس پر بھی یہاں کی حکومت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ جھارکھنڈ میں بھوک سے اب کوئی نہیں مرتا۔اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرے‌گا کہ آج جھارکھنڈ بہت بدل چکا ہے۔لیکن آج یہاں کسی کے حصے میں سونے کی روٹی ہے، تو کسی کے حصے صحیح سے ‘ ماڑ-چاول ‘بھی نہیں ہے۔

یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والوں دنوں قبائلی سماج بھی عزت اور خوشی کی زندگی جیے‌گا۔ قدرتی وسائل پر پہلا حق ان کا ہوگا۔لیکن ان سب کے لیے ہمیں سب سے پہلے برسا کے خیالات کو اپنے اندر زندہ رکھنا ہوگا۔  ان کو صحیح سے سمجھنا ہوگا کہ وہ تباہی کی نہیں، خالص ترقی کی راہ بتا گئے ہیں۔  سب کو عزت سے جینے کا درس دے گئے ہیں۔  استحصال اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی طاقت دے گئے ہیں۔