خبریں

سی بی آئی تنازعہ: آلوک ورما کا جواب مبینہ طور پر لیک ہونے سے سپریم کورٹ ناراض، شنوائی ملتوی

چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا ؛ ہم آج شنوائی نہیں کر رہے ہیں ۔ ہمیں نہیں لگتا کہ آپ میں سے کوئی بھی شنوائی کے لائق ہے ۔ اگلی شنوائی 29 نومبر کو ہوگی۔

آلوک ورما ، فوٹو: پی ٹی آئی

آلوک ورما ، فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کے ذریعے سی وی سی کو بھیجے گئے جواب کی جانکاری میڈیا میں لیک ہونے سے سپریم کورٹ ناراض ہے ۔ اس بات کو لے کر چیف جسٹس رنجن گگوئی نے آلوک ورما معاملے کی اہم شنوائی آج 29 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ؛ ہم آج شنوائی نہیں کر رہے ہیں ۔ ہمیں نہیں لگتا کہ آپ میں سے کوئی بھی شنوائی کے لائق ہے۔

منگل صبح جب آلوک ورما معاملے کی شنوائی شروع ہوئی تو چیف جسٹس رنجن گگوئی نے دی وائر کی ایک رپورٹ  کا حوالہ  دیتے ہوئے کہا کہ معاملے میں پرائیویسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ حالاں کہ ورما کے وکیل فلی نریمن نے صاف کیا کہ کوئی جانکاری لیک نہیں ہوئی ہے۔ نریمن نے بتایا کہ دی وائر میں شائع رپورٹ آلوک ورما کے ذریعے سی وی سی کے سوالوں پر بھیجے گئے جواب پر مبنی ہے نہ کہ ورما کے ذریعے سپریم کورٹ کو بھیجے گئے جواب پر ۔ دی وائر کے ذریعے بھی اس بارے میں وضاحت جاری کی گئی ہے۔

گزشتہ سوموار کو سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما نے خود پر لگے بد عنوانی کے الزامات کو لے کر سی وی سی کی پرائمری رپورٹ پر سوموار کو دوپہر بعد سیل بند لفافے میں اپنا جواب داخل کر دیا۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ آلوک ورما کے ذریعے مرکزی حکومت کے 23 اکتوبر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر شنوائی کر رہی ہے۔

مرکزی حکومت نے گزشتہ 23 اکتوبر کو سی وی سی کی صلاح پر آلوک ورما کے سار ے اختیارات واپس لے لیے اور ان کو چھٹی پر بھیج دیا تھا ۔ ورما کی جگہ پر ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹربنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے معاملے کی شنوائی کرتے ہوئے عدلیہ نے کہا تھا کہ سی وی سی سپریم کورٹ جج اے کے پٹنایک کی نگرانی میں آلوک ورما پر لگائے گئے الزامات کی جانچ دو ہفتے میں پوری کریں ۔

سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا نے ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزام لگائے ہیں ۔حوالہ اور منی لانڈرنگ کے معاملوں میں میٹ کاروباری معین قریشی کو کلین چٹ دینے میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں سی بی آئی نے اپنے ہی اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے خلاف ایف آئی آر درج کی ۔ استھانا پر الزام ہے کہ انہوں نے معین قریشی معاملے میں حیدرآباد کے ایک کاروباری سے دو ثالثوں کے ذریعے 5 کروڑ روپے کی رشوت مانگی تھی ۔

جس کے بعد راکیش استھانا نے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما پر ہی اس معاملے میں ایک ملزم کو بچانے کے لیے دو کروڑ روپے کی رشوت لینے کا الزام لگایا ۔ دونوں افسروں کے بیچ مچے گھماسان کے پبلک ہونے پر مرکزی حکومت نے دونوں افسروں کو چھٹی پر بھیج دیا ۔ ساتھ ہی استھانا کے خلاف جانچ کر رہے 13 سی بی آئی افسر کا بھی تبادلہ کردیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے گزشتہ 26 اکتوبر کو سی وی سی سے کہا تھا کہ سپریم کورٹ جج کی نگرانی میں وہ ڈائریکٹر آلوک ورما کے خلاف لگائے الزامات کی جانچ دو ہفتے میں پوری کریں ۔