خبریں

پی ایم او نے وزراء کے خلاف کرپشن کی شکایتوں کی جانکاری دینے سے کیا انکار

گزشتہ اکتوبر مہینے میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے وزیر اعظم دفتر کو 2014 سے 2017 کے درمیان مرکزی وزراء کے خلاف ملی بد عنوانی کی شکایتوں، ان پر کی گئی کارروائی اور بیرون ملک سے لائے گئے بلیک منی کے بارے میں جانکاری دینے کا حکم دیا تھا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) نے سینٹرل انفارمیشن  کمیشن(سی آئی سی)کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرکزی وزراء کے خلاف ملی بد عنوانی کی شکایتوں کی تفصیل کو شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔  پی ایم او نے کہا کہ اس طرح کی اطلاع فراہم کرانے میں  کافی پیچیدگی  ہو سکتی ہے۔پی ایم او کا یہ بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نےکوئلہ اور کھدائی کے ریاستی وزیر ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری کے خلاف بد عنوانی کے الزام لگائے ہیں۔

گزشتہ اکتوبر مہینے میں سی آئی سی نے پی ایم او کو 2014 سے 2017 کے درمیان مرکزی وزراء کے خلاف ملی بد عنوانی کی شکایتوں اور ان پر کی گئی کارروائی کا انکشاف کرنے کی ہدایت دی تھی۔چیف انفارمیشن کمشنر رادھاکرشنن ماتھر نے ہندوستانی جنگلات خدمات کے آفیسرسنجیو چترویدی کی عرضی پر یہ فیصلہ سنایا تھا۔  اسی فیصلے میں سی آئی سی نے یہ بھی حکم دیا کہ مرکز کی  نریندر مودی حکومت کی مدت کے دوران بیرون ملک سے لائے گئے بلیک منی کے تناسب اور قیمت کے بارے میں اطلاع دینے اور اس بارے  میں کی گئی کوششوں کے ریکارڈ دستیاب کرائے جائیں۔

حالانکہ اب پی ایم او نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کردیا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پی ایم او کو مختلف مرکزی وزراء اور اعلیٰ سطح کے افسروں کے خلاف وقت وقت پر بد عنوانی کی شکایتں حاصل ہوتی رہتی ہیں۔پی ایم او نے وہسل بلوور سنجیو چترویدی کے ذریعے داخل آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کہا، ‘ ان میں فرضی نام  یا بے نام شکایتں بھی شامل ہیں۔ شکایتوں میں لگائے گئے الزامات کی سچائی کو دیکھتے ہوئے اور الزامات کےبارے  میں دئے گئے دستاویزوں کی مناسب تفتیش کی جاتی ہے۔  ‘

وزیر اعظم دفتر کے ذریعے دیا گیا جواب

وزیر اعظم دفتر کے ذریعے دیا گیا جواب

آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں پی ایم او نے کہا کہ ضروری کارروائی کرنے کے بعد ریکارڈوں کو ایک جگہ نہیں رکھا جاتا اور وہ اس دفتر کی مختلف اکائیوں اور شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔پی ایم او نے کہا، ‘یہ شکایتں بد عنوانی اور غیربدعنوانی سے جڑے مدعوں سمیت کئی طرح کے معاملوں سے جڑی ہوتی ہیں۔  امید وار نے اپنی درخواست میں صرف بدعنوانی سے جڑی شکایتوں کی تفصیل مانگی ہیں۔  ‘دفتر نے کہا، ‘ان تمام شکایتوں کو بد عنوانی سے متعلق شکایتوں کے طور پر پہچاننا، جانچنا اور زمرہ میں رکھنا پیچیدہ کام ہو سکتا ہے۔  ‘مانگی گئی اطلاعات کے ملان  کے لئے کئی فائلوں کی تفصیلی تفتیش کرنی ہوگی۔  اس لئے یہ جانکاری آر ٹی آئی کی دفعہ 7 (9)کے تحت نہیں دی جا سکتی ہے۔

سنجیو چترویدی نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بےحد مایوس کن ہے کہ پی ایم او نے سی آئی سی کے حکم کے بعد بھی جانکاری نہیں دی۔ انہوں نے کہا،’غیرقانونی بنیاد پر جانکاری دینے سے منع کیا گیا ہے۔ دفعہ 7 (9) میں یہ لکھا گیا ہے کہ مانگی گئی اطلاع جس شکل میں ہے، اس شکل میں دی جانی چاہیے۔  اس میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ اس دفعہ کی بنیاد پر جانکاری دینے سے منع کیا جا سکتا ہے۔  ‘بتا دیں کہ چترویدی نے  آل انڈیا میڈیکل سائنسز (ایمس) میں اہم نگرانی افسر رہتے ہوئے بد عنوانی کے کئی معاملوں کو اجاگر کیا تھا۔کانگریس کی قیادت والی اس وقت کی یو پی اے حکومت میں ان کو ایمس کا چیف نگرانی افسر (سی وی سی)بنایا گیاتھا۔  ایمس میں بد عنوانی پر روک لگانے میں اس وقت کے  وزیر صحت غلام نبی آزاد نے ان کے کام کی تعریف کی تھی۔

اگست، 2014 میں چترویدی کو ایمس سے اتراکھنڈ بھیج دیا گیا جہاں وہ محکمہ جنگلات سے وابستہ  ہیں۔پی ایم او نے اس بات کی بھی جانکاری نہیں دی کہ سال 2014 کے بعد سے ملک میں کل کتنا کالا دھن واپس لایا گیا ہے۔پی ایم او نے صرف اتناہی بتایا کہ بلیک منی کے  مدعےایس آئی ٹی بنائی گئی ہے۔  حالانکہ دفتر نے اس بات کی جانکاری نہیں دی کہ اس سمت میں کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔پی ایم او نے کہا، ‘اس وقت کی گئی کارروائی کی جانکاری دینے سے  جانچ پر اثر پڑ سکتا ہے۔  اس لئے یہ جانکاری آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8 (1) (ایچ) کے تحت نہیں دی جا سکتی ہے۔  ‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پی ایم او نے سی آئی سی کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔  حال ہی میں سی آئی سی نے پی ایم او کو حکم دیا تھا کہ وہ اس بات کی جانکاری دیں کہ سابق آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن کے ذریعے بھیجے گئے گھوٹالےبازوں کی فہرست پر کیا قدم اٹھایا گیا ہے۔اس حکم کو بھی پی ایم او نے ماننے سے منع کردیا تھا۔  اس پر سابق سینٹرل انفارمیشن کمشنر شری دھر آچاریہ لو نے پی ایم او کو کڑی پھٹکار لگائی تھی۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)