خبریں

دہلی میں آلودگی کو لے کر سپریم کورٹ نے کہا ؛ کسی نہ کسی کو جیل بھیجا جانا چاہیے ، یہی ایک طریقہ ہے

دہلی میں آلودگی کو لے کر سپریم کورٹ شنوائی کر رہی ہے ۔ پچھلی شنوائی میں دہلی حکومت نے پرانی گاڑیوں کو لے کر ایک رپورٹ پیش کی تھی ۔

فوٹو: پی ٹی آئی

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : دہلی میں آلودگی کو لے کر سپریم کورٹ نے سوموار کو سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ آلودگی سے متعلق شکایتوں کا حل نکالنے والی مقامی ایجنسیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو ۔این ڈی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق ؛ عدالت نے کہا کہ کسی نہ کسی کو جیل بھیجا جانا چاہیے ،یہی ایک طریقہ ہے ۔ اس پر مرکزی حکومت نے کہا وہ اس طرح کا قدم اٹھائے گی ۔

آلودگی کے خلاف مورچہ لینے کو سی پی سی پی کے بنائے موبائل ایپ سمیر کے ذریعے ان تک تقریباً 4000لوگوں نے آلودگی میں اضافہ کرنے والی گاڑیوں اور پروڈکشن کی شکایت کی ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر 794 شکایتیں ملی ہیں ۔ ان شکایتوں پر مقامی ایجنسیوں نے ایکشن لے کر کارروائی کی ۔

دہلی میں آلودگی کو لے کر سپریم کورٹ شنوائی کر رہی ہے ۔ پچھلی شنوائی میں دہلی حکومت نے پرانی گاڑیوں کو لے کر ایک رپورٹ پیش کی تھی ۔حکومت نے کہا تھا کہ 7مئی 2015کو این جی ٹی کے آرڈر کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے 10 اور 15 سال پرانی گاڑیوں کے دہلی میں داخلے پر پابندی رہے گی ۔

دہلی حکومت نے کامرشیل گاڑیوں پر آر ایف ٹیگ لگانے کو لے کر اضافی وقت کا مطالبہ کیا تھا ۔ عدالت نے کہا تھا کہ ساڑھے تین سال بعد بھی حکومتیں انتظام نہیں کر پائیں ۔

غور طلب ہے کہ اگر ایئر کوالٹی انڈیکس(اے کیو آئی)0 سے 50 کے بیچ میں ہے تو اس ہوا کو اچھا مانا جا تا ہے۔وہیں اگر یہ 51 سے 100 کے بیچ میں ہے تو اس کو ‘اطمیان بخش ‘ اور 100 سے 200 کے بیچ میں ہے تو اس کو ‘نارمل’ کی کیٹگری میں رکھا جاتا ہے۔ اگر اے کیو آئی 201 سے 300 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا خراب ہے اور اگر یہ 301 سے 400 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایسی ہوا بہت زیادہ خراب ہے۔ وہیں اگر اے کیو آئی401 سے 500 کے بیچ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا کی سطح خطرناک کی کیٹگری میں پہنچ چکی ہے۔

گزشتہ دنوں یہ خبر بھی آئی تھی کہ سپریم کورٹ کے ذریعےمقرر Environment Pollution Control Authority (ای پی سی اے)نے دہلی والوں سے گزارش کی ہے کہ وہ نومبر مہینے میں پہلے 10 دن پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں ۔ نجی گاڑیوں کی وجہ سے دہلی- این سی آر میں 40 فیصد آلودکی ہوتی ہے ۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ای پی سی اے نے بجی گاڑیوں کا استعمال نہ کرنے کی مانگ کی ہے۔